’’یہ خواجہ سراء علاقے کے امن کے لیے خطرہ ہے‘‘ پاکستان کا وہ علاقہ جہاں سے خواجہ سراء رقاصہ کو علاقے سے نکال دیا گیا

کوہاٹ : ضلع کوہاٹ سے ایک خواجہ سراء کو امن عامہ کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے علاقہ بدر کر دیا گیا۔ ایکسپریس ٹربیون کے مطابق اس خواجہ سراء کا نام چاہت بتایا گیا ہے جسے علاقے سے نکالنے کا حکم وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے مشیر ضیاء اللہ بنگش نے دیا جس کا کہنا تھا کہ چاہت ضلع کوہاٹ کے لاء اینڈ آرڈر کے لیے ایک خطرہ بن چکی ہے۔

رپورٹ کے مطابق ضیاء اللہ بنگش کی طرف سے یہ بیان رواں ہفتے کے آغاز میں سامنے آیاجس کے بعد انہوں نے ضلع کوہاٹ کی انتظامیہ اور پولیس کو حکم دے دیا کہ وہ چاہت کے خلاف قانونی کارروائی کریں۔ مذکورہ مشیر کی طرف سے یہ بیان شادی کے ایک فنکشن میں 5لوگوں کے قتل کی واردات کے بعد پیش آیا جہاں چاہت رقص کر رہی تھی اور اسے ان لوگوں کی موت کا ذمہ دار قرار دیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق شادی کی اس تقریب میں دو گروپوں میں تصادم ہوا۔ دونوں گروپوں کے لوگ چاہت کو پسند کرتے تھے اور اس کی توجہ اپنی طرف مبذول رکھنا چاہتے تھے۔ مبینہ طور پر چاہت زیادہ توجہ ان میں سے ایک گروپ کے لوگوں کی طرف دے رہی تھی جس پر دوسرے گروپ کے لوگ مشتعل ہو گئے اور فائرنگ کر دی۔مشیر موصوف نے اس واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے چاہت کو علاقے کے امن کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے علاقہ بدری کا حکم دے دیا۔ رپورٹ کے مطابق قبل ازیں چاہت کے ایک فنکشن میں اسی وجہ کی بناء پر 19لوگ قتل ہو چکے ہیں۔