اسرائیلی خفیہ ایجنسی کی محرم میں شیعہ سنی فساد پھیلانے کی سازش بےنقاب ہوگئی

لاہور : اسرائیلی خفیہ ایجنسی کی محرم الحرام میں شیعہ سنی فسادات پھیلانے کی سازش بے نقاب ہوگئی، سنی اور شیعہ اشخاص کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ بناکر ایک دوسرے کیخلاف فرقہ واریت کا مواد ڈالا گیا، خفیہ اداروں سازشی اکاؤنٹ کوپکڑکرمختلف مکاتب فکر کے علماء کو اکٹھا کیا اوراسرائیلی سازش کے ثبوت دکھائے۔سینئر تجزیہ کار صابر شاکر نے اپنے تبصرے میں کہا کہ دشمنوں کی پوری کوشش ہے کہ پاکستان خدانخواستہ مذہبی بنیاد پر آگ لگائی جائے، بدامنی پھیلائی جائے اور اسی طرح انڈیا میں بھی ایسی حرکتیں کی جائیں ، انڈیا میں فرقہ واریت سے مسلمانوں کو مشتعل کیا جائے ۔

اسرائیل کی خفیہ ایجنسی نے ایک بھیانک منصوبہ تیار کیا گیا۔سوشل میڈیا، ویب سائٹ کے بارے بہت زیادہ چوکنا رہنے کی ضرورت ہے، سوشل میڈیا پر ایک سنی مسلمان بن کرکوئی چیز ڈالی جاتی ہے، جس پر اہل تشیع بھڑک اٹھتے ہیں۔
پھر اہل تشیع بن کر سنی کے خلاف کوئی بات ڈال دی جاتی ہے، جس پر سنی بھڑک اٹھتے ہیں۔شیعہ سنی فساد کا جھگڑا ہمیں باہر سے ملا، ورثے میں نہیں ملا ہے۔

پاکستانی قوم بڑی بھائی چارے والی ہے۔ اسرائیلی خفیہ ایجنسی کی خبر ہے کہ پاکستان میں محرم شروع ہونے والے ہیں، اس لیے فرقہ ورانہ مواد سوشل میڈیا پر ڈالا گیا۔پتا چلا یہ عائشہ نا می خاتون جو کام کررہی ہے، یہ پاکستان کی خاتون نہیں ہے جعلی خاتون ہے، اکاؤنٹ بھی پاکستان سے آپریٹ نہیں کیا جارہا، اس اکاؤنٹ کا ہیڈکوارٹر اسرائیل میں ہے۔ہمارے خفیہ اداروں نے اس کو سازشی اکاؤنٹ کو پکڑا اور اسکو بے نقاب کیا ، مختلف مکاتب فکر کے علماء کو اکٹھا کیا اور ان کو ثبوت دکھا کربتایا کہ ہوش کے ناخن لیں۔

اپنے لوگوں کو بتائیں پاکستان میں فرقہ واریت کی سازش اسرائیل میں کی جا رہی ہے۔ پاکستان میں وار ایران اور سعودی عرب کی ہے، دونوں نے ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کیلئے کیا ہے، اب صورتحال مختلف ہوتی جا رہی ہے۔ اب دونوں ممالک کی پاکستان میں پراکسی کم ہوتی جاری ہے۔