سوشل میڈیا مہم کو گمراہ کن قرار، کمیونٹی سے افواہوں پر یقین نہ کرنے کی اپیل
لندن (نمائندہ خصوصی) مغربی لندن کے علاقے ہاؤنسلو میں واقع ہاؤنسلو جامع مسجد اینڈ اسلامک سینٹر کی انتظامیہ نے حالیہ تنازعات اور سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے ان کی سختی سے تردید کی ہے۔
مسجد کمیٹی کے چیئرمین راجہ جاوید اور جنرل سیکریٹری شفیق الرحمان نے مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ مسجد اور اس کی انتظامیہ کے خلاف ایک منظم اور گمراہ کن مہم چلائی جا رہی ہے، جس کا مقصد کمیونٹی میں انتشار پیدا کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بعض عناصر حالیہ واقعات کو مسجد کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کر رہے ہیں، حالانکہ مسجد انتظامیہ ہمیشہ قانون، شفافیت اور کمیونٹی ہم آہنگی کے اصولوں پر کاربند رہی ہے۔
پریس کانفرنس میں مسجد انتظامیہ نے مؤقف اختیار کیا کہ 2024 کے ٹرسٹی انتخابات کے بعد سے چند افراد مسلسل سوشل میڈیا پر منفی پروپیگنڈا کر رہے ہیں، جس سے کمیونٹی میں کشیدگی اور تقسیم پیدا ہوئی۔
چیئرمین راجہ جاوید کا کہنا تھا کہ مسجد ٹرسٹ اپنی ساکھ اور ادارے کے وقار کے تحفظ کے لیے ہر قانونی راستہ اختیار کرے گا اور عوام کے سامنے حقائق لائے جائیں گے۔
اس موقع پر جنرل سیکریٹری شفیق الرحمان نے بتایا کہ مسجد انتظامیہ Charity Commission اور دیگر متعلقہ اداروں کے ساتھ مکمل تعاون کر رہی ہے اور تمام معاملات میں شفافیت برقرار رکھی جائے گی۔
ادھر مسجد ٹرسٹ کی جانب سے جاری پریس بیان میں کہا گیا ہے کہ مسجد گزشتہ ایک سال سے مختلف بے بنیاد الزامات اور سوشل میڈیا مہمات کا سامنا کر رہی ہے، تاہم ٹرسٹ نے ان معاملات کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد الزامات کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔
مسجد کمیٹی نے کمیونٹی سے اپیل کی ہے کہ غیر مصدقہ اطلاعات اور سوشل میڈیا افواہوں پر یقین نہ کیا جائے اور اتحاد، بھائی چارے اور باہمی احترام کو فروغ دیا جائے۔
ہاؤنسلو جامع مسجد انتظامیہ نے الزامات مسترد کر دیے






