تحریر:آصف سلیم مٹھا
پاکستان میں نئے صوبوں کا شور دراصل عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہے۔ مسئلہ نئے صوبوں کا نہیں، بلکہ اختیارات پر چند خاندانوں، چند بیوروکریٹس اور صوبائی دارالحکومتوں کی اجارہ داری کا ہے۔ جب تک طاقت، وسائل اور فیصلے لاہور، کراچی، پشاور اور کوئٹہ کے ایوانوں میں قید رہیں گے، تب تک عوام کی محرومیاں ختم نہیں ہوں گی۔
آخر ایک دور دراز ضلع کا شہری اپنے جائز کام کے لیے سینکڑوں میل دور صوبائی دارالحکومت جانے پر کیوں مجبور ہو؟ آخر کیوں ایک ڈویژن اپنے ہسپتال، تعلیمی ادارے، سڑکیں، صنعت اور ترقی کے منصوبے خود طے نہیں کر سکتا؟ اس کی وجہ صرف ایک ہے: اختیارات پر قبضہ۔
نئے صوبے بنانے سے عوام کے مسائل حل نہیں ہوں گے، بلکہ نئی اسمبلیاں، نئے گورنر ہاؤس، نئی وزارتیں، نئی بیوروکریسی اور سرکاری مراعات کا ایک اور بوجھ قوم کے کندھوں پر ڈال دیا جائے گا۔ اس کا فائدہ عوام کو نہیں، بلکہ سیاست دانوں اور طاقتور اشرافیہ کو ہوگا۔
اگر حکومت واقعی عوام کو بااختیار بنانا چاہتی ہے تو ہر ڈویژن کو مکمل انتظامی، مالی اور ترقیاتی اختیارات دے۔ ہر ڈویژن کو اپنا ترقیاتی بجٹ، منصوبہ بندی، صحت، تعلیم، بلدیات اور بنیادی انفراسٹرکچر کے فیصلے خود کرنے کا حق دیا جائے۔ وسائل وہاں خرچ ہوں جہاں ان کی ضرورت ہے، نہ کہ وہاں جہاں سیاسی مفادات ہوں۔
پاکستان کا سب سے بڑا بحران وسائل کی کمی نہیں بلکہ اختیارات کی غیرمنصفانہ تقسیم ہے۔ جب تک فیصلہ سازی نچلی سطح تک منتقل نہیں ہوگی، ترقی کے تمام دعوے محض سیاسی نعرے رہیں گے۔
اب وقت آ گیا ہے کہ عوام بھی یہ سوال پوچھیں: ہمیں نئے صوبے کیوں چاہیے، جب ہمیں اپنے ہی ڈویژن پر اختیار نہیں؟ قوم کو نئی سرحدیں نہیں، بلکہ انصاف پر مبنی نظام چاہیے۔ پاکستان کو مزید سیاسی تقسیم نہیں، بلکہ اختیارات کی حقیقی منتقلی درکار ہے۔
واضح پیغام یہی ہے: نئے صوبے نہیں، ہر ڈویژن کو مکمل انتظامی، مالی اور آئینی اختیارات دو۔ یہی عوام کی طاقت، قومی یکجہتی اور حقیقی ترقی کا راستہ ہے۔




