خالد نجیب خان
khalednajeebkhan@gmail.com
امریکہ ایران مذاکرات کے دوسرے دور کیلئے اسلام آباد میں تیاریاں مکمل ہیں کسی بھی وقت سلسلہ وہیں سے جڑ سکتا جہاں سے منقطع ہوا تھا ۔ امریکی مذاکراتی وفد کا جہازامریکہ سے اُڑ کر یورپ پہنچ گیا تو اُس کے مسافر سستانے کے لئے لاونج میں چلے گئے ۔طیارہ رن وے پر کھڑا اپنے مسافروں کا منتظر تھا کہ کب وہ جہاز کے پیٹ میں پہنچ کر بیٹھیں اور وہ فضاؤں کے دوش پر اُڑتا ہوا اسلام آباد میں لینڈ کرے، جہاں گزشتہ کئی روز سے عوام اپنے گھروں میں محبوس ہیں۔ مگر ایران کی طرف سے اسلام آباد امن مذاکرات میں شرکت کیلئے وفد کی تصدیق کے بارے میں باضابطہ جواب موصول نہیں ہوا اور امریکی مذاکراتی وفد اسلام آباد کی بجائے امریکہ کو لوٹ گیا۔اسی دوران اس سے پہلے کہ پندرہ روزہ جنگ بندی کی مدت ختم ہوتی، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر بیان میں کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی درخواست پر ایران کے خلاف حملہ فی الحال مؤخر کیا جا رہا ہے تاکہ ایرانی قیادت اور نمائندے متفقہ تجویز پیش کرسکیں ۔اِس کے ساتھ ہی اُنہوں نے امریکی فوج کو ہدایت دی کہ ایران کے خلاف ناکہ بندی جاری رکھی جائے اور دیگر تمام معاملات میں مکمل طور پر تیار رہا جائے۔ جبکہ ایرانی سرکاری میڈیا کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یکطرفہ طور پر جنگ بندی میں توسیع کی ۔ ایران نے مذاکرات کے لیے امریکی شرائط کو مسترد کر دیا ہے۔مشیر اسپیکر ایرانی پارلیمنٹ نے کہا ہے کہ ٹرمپ کی جنگ بندی میں توسیع کا کوئی مطلب نہیں ہے، ہارنے والا فریق شرائط کا حکم نہیں دے سکتا۔ ٹرمپ کا جنگ بندی میں توسیع کا اعلان وقت حاصل کرنے کی چال ہے تاکہ اچانک حملہ کر سکے۔دباؤ اور دھمکیوں کی پالیسی بدلنے سے ہی مذاکراتی عمل بحال ہوسکتا ہے ، بطور ثالث پاکستان اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے کہ امریکا آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم کرے۔
ایران کا دعویٰ ہے کہ ٹرمپ نے امریکی فوج کے بجٹ میں500 ارب ڈالر کے اضافے کا مطالبہ کیا ہے، جس سے کل بجٹ 1500 ارب ڈالر تک پہنچ جائے گا۔ یہ اضافہ ایران کی جانب سے امریکی فوجی اڈوں پر کیے گئے حملوں میں ہونے والے نقصان اور میزائلوں (پیٹریاٹ، تھاڈ اور ٹوما ہاک) کی کمی کو پورا کرنے کے لیے مانگا گیا ہے ۔ امریکی دعوؤں کے برعکس، ایران کے تقریباً 40 ٹینکرز امریکی ناکہ بندی کو بائی پاس کر کے نکل گئے ۔ ایران کا موقف ہے کہ اب سب کچھ ٹرمپ کے ہاتھ میں ہے؛ یا تو وہ سرنڈر کر کے بلاکیڈ ختم کرے یا پھر جنگ کے لیے تیار رہے۔
خلیجی ممالک اِس صورتحال سے سخت پریشان ہیں اور امریکہ پر بلاکیڈ ختم کرنے کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں۔ اُن کا تحفظ یہ ہے کہ مذاکرات میں صرف یورینیم پر بات ہو رہی ہے جبکہ ایران کے میزائل اور ڈرون پروگرام کو نظر انداز کیا جا رہا ہے، جو اُن کی سلامتی کے لیے خطرہ ہے ۔
اس بات میں کوئی بحث نہیں ہے کہ ایران اپنا ایٹمی پروگرام ختم کرکے افزودا یورینیم امریکہ کے حوالے کردے ۔حقیقت یہ ہے کہ یورینیم رکھنے کا حق جتنا امریکہ یا اسرائیل کا ہے ،اتنا ہی ایران کا بھی ہے۔ایران گزشتہ تقریباً نصف صدی سے عالمی پابندیوں میں رہتے ہوئے اس سطع پر پہنچ گیا ہے کہ جہاں وہ امریکہ جیسی طاقت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کررہا ہے۔اِس موقع پر اگر ماضی کی طرف مڑ کر دیکھیں تو معلوم ہو گا کہ امریکہ نے اپنی طاقت کے بل بوتے پوری دنیا میں ہی سینگ اڑائے ہیں مگر اُسے کامیابی صرف وہاں ہی ملی ہے جہاں سے کوئی مزاحمت نہیں ہوئی ۔جہاں کہیں بھی کسی نے ہلکی سی بھی مزاحمت کی ہے ،وہاں سے ناکام ہی لوٹا ہے ۔حال ہی میں افغانستان سے واپسی تو قارئین کے اذہان میں نقش ہی ہوگی۔وینزویلا کے صدر کااُس کی رہائش گاہ سے اغوا ہو یا ابیٹ آبادسے اُسامہ بن لادن کی گرفتاری کا ڈرامہ وہ سب مقامی حکمرانوں کے بھرپور تعاون سے ہی ممکن ہوا تھا۔ جبکہ جہاں کہیں بھی کسی نے معمولی سی بھی مزاحمت کی امریکہ بہادر نے اُس سے کہیں زیادہ پسپائی اختیار کی۔
تقریباً دو ماہ قبل جب امریکہ اور اسرائیل نے مل کر ایران پر حملہ کیا اور ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنائی سمیت چوٹی کی تقریباً تمام قیادت کو شہید کردیا گیاتو یہ بھی ایران کے اندر موجود امریکی ایجنٹوں کی مدد سے ہی ہوا، ورنہ ایسا ممکن ہی نہیں تھا ۔امریکہ اور اسرئیل کو پورا یقین تھا کہ چوٹی کی قیادت کے ختم ہوجانے کے بعد ایران مزاحمت کرنے کے قابل نہیں ہو گا مگر اُس کے اندازے غلط ثابت ہوئے جس کا نتیجہ امریکہ اسرائیل اور اُن تمام ممالک نے بھگتا جنہوں نے امریکہ اور اسرائیل کو اپنے اڈے دے رکھے تھے۔
امریکہ نےافغانستان کے علاوہ بھی کئی جنگوں یا فوجی مداخلتوں میں پسپائی یا اپنے اہداف مکمل نہ ہونے کی صورت میں واپسی اختیار کی ہے۔سب سے بڑی مثال ویتنام کی ہے جہاں امریکہ نے طویل عرصہ تک جنگ لڑی اور پھر آخرکاراپنی فوجیں نکال لیں۔اس کے علاوہ امریکہ نے بیروت میں فوج تعینات کی مگر بم دھماکوں میں بھاری جانی نقصان کے بعد فوج واپس بلا لی۔
عراق میں امریکہ نے فوجی طور پروہاں کی حکومت کو گراتو دیا مگر بعد میں طویل شورش، عدم استحکام اور سیاسی اہداف مکمل نہ ہونے پرمجبوراًخالی ہاتھ ہی واپس آنا پڑا تھا۔ عالمی مبصرین کے نزدیک یہ امریکہ کی واضح یامکمل شکست تونہیں تھی بلکہ نامکمل یا غیر واضح کامیابی سمجھا جاتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ امریکہ کی جنگی شکستیں بھی دو طرح کی ہیں۔اول واضح عسکری شکست یعنی میدان جنگ میں ناکامی اور دوم سیاسی/اسٹریٹجک شکست یعنی فوجی طاقت استعمال کرنے کے باوجود مقصد حاصل نہ ہونا۔1812ء میں جب کینیڈا خود برطانیہ کے زیر تسلط تھا تو امریکہ نے اپنے پڑوسی ملک پر قبضے کی امید سے جنگ شروع کی جو 1815ء تک جاری رہی مگر ایسی منہ کی کھائی کہ اُس کے زخم آج بھی امریکہ کو تازہ محسوس ہوتے ہیں کیونکہ برطانوی افواج نے واشنگٹن ڈی سی پر قبضہ کر کے اُس کو جلا دیا تھا مگر حملہ آور امریکہ اپنا ہدف حاصل نہیں کرسکا تھا۔
بڑی جنگیں جہاں امریکہ کامیاب رہا،اُن میں دوسری جنگ عظیم ،گلف کی جنگ اور سپین امریکہ جنگ جو 1898ء میں لڑی گئی ۔یہ وہ جنگیں تھیں جہاں امریکی پلڑا پہلے سے ہی بھاری تھا۔
اِن حالات میں اگر کوئی شخص یا توقع کرے کہ ایران اپنے افزودا یورینیم سے دستبردار ہو جائے تو بڑی زیادتی والی بات ہے جبکہ ایران اِس پوزیشن میں ہے کہ وہ ایٹمی تجربہ کرکے ایٹمی کلب میں شامل ہوجائے۔پاکستان نے 1998ء میں جب ایٹمی تجربہ کیا تو اُس وقت سے اُس پر مختلف قسم کی پابندیاں لاگو ہیں ،جبکہ ایٹمی تجربہ نہ کرنے کے باوجود بھی ایران پر اِس سے زیادہ پابندیاں عائد ہیں اور اِس کے باوجود بھی اِس قابل ہے کہ امریکہ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر یا برابری کی سطع پر بات کرسکتا ہے تویہ کبھی نہ بھولے کہ
ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات
اِس سب کے باوجود حقیت تو یہی ہے کہ امن ہی بقائے انسانی کا تقاضا ہے اور پائیدار امن کا ایک ہی طریقہ ہے کہ مذاکرات کیے جائیں مگر مذاکرات کی زبان میں نہ کہ دھونس کی زبان میں۔




