ہیٹ برسٹ: رات کی خاموشی میں چھپا خطرہ

کالم دار : آصف سلیم مٹھا

گرمی تو ہمارے خطے کا حصہ ہے، لیکن کچھ مظاہر ایسے ہوتے ہیں جو عام گرمی سے کہیں زیادہ خطرناک اور غیر متوقع ہوتے ہیں۔ انہی میں سے ایک ہے “ہیٹ برسٹ” ایک ایسا موسمی واقعہ جو نہ صرف نایاب ہے بلکہ انتہائی مہلک بھی ثابت ہو سکتا ہے۔
ہیٹ برسٹ دراصل کیا ہے؟ سادہ الفاظ میں یوں سمجھیں کہ جب آندھی یا بارش والے بادل ختم ہو جاتے ہیں تو ان کے اندر موجود خشک اور ٹھنڈی ہوا تیزی سے نیچے زمین کی طرف گرتی ہے۔ نیچے آتے ہوئے یہ ہوا دباؤ کی وجہ سے تیزی سے گرم ہو جاتی ہے، بالکل ایسے جیسے پریشر ککر میں بھاپ کا درجہ حرارت بڑھ جاتا ہے۔ نتیجہ؟ چند ہی منٹوں میں درجہ حرارت خطرناک حد تک بڑھ جاتا ہے۔
اس مظہر کی سب سے خوفناک بات اس کا وقت ہے۔ یہ دن کے بجائے رات کو ہوتا ہے، جب لوگ گہری نیند میں ہوتے ہیں۔ تصور کریں، رات کے دو بجے کا وقت، درجہ حرارت 30 ڈگری، اور اچانک چند منٹوں میں 45 یا حتیٰ کہ 50 ڈگری تک پہنچ جائے۔ نہ کوئی تیاری، نہ کوئی خبرداری یہی ہیٹ برسٹ کی اصل ہولناکی ہے۔
ہیٹ برسٹ کے دوران ہوا انتہائی خشک ہو جاتی ہے۔ نمی تقریباً ختم ہو جاتی ہے جس سے سانس لینا دشوار ہو سکتا ہے، پودے جھلس سکتے ہیں، اور انسانی جسم تیزی سے پانی کھو دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ مظہر ہیٹ اسٹروک کا سبب بن سکتا ہے، اور وہ بھی چند ہی منٹوں میں۔
جنوبی پنجاب، سندھ اور بلوچستان کے میدانی علاقے اس کے لیے زیادہ حساس ہیں۔ ملتان، بہاولپور، رحیم یار خان، سکھر اور جیکب آباد جیسے شہر خاص طور پر خطرے میں ہیں، جہاں پہلے ہی گرمی کی شدت زیادہ ہوتی ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ اس سے بچاؤ کیسے ممکن ہے؟
سب سے پہلی اور اہم بات پانی ہے۔ سونے سے پہلے مناسب مقدار میں پانی پینا اور سرہانے پانی رکھنا ضروری ہے۔ کمرے میں ہوا کی آمدورفت برقرار رکھنا بھی اہم ہے، کیونکہ بند کمرے میں گرم ہوا جان لیوا ہو سکتی ہے۔ اگر بجلی چلی جائے تو فوری طور پر جسم کو ٹھنڈا کرنے کے اقدامات کیے جائیں، جیسے گیلا تولیہ استعمال کرنا یا فرش پر لیٹ جانا۔
بچوں اور بزرگوں کا خاص خیال رکھنا چاہیے، کیونکہ ان کا جسم درجہ حرارت کی تبدیلی کو کم برداشت کرتا ہے۔ رات کے دوران ایک دو بار ان کی حالت چیک کرنا احتیاطی قدم ہو سکتا ہے۔
ہیٹ برسٹ کی ایک واضح علامت یہ ہے کہ اچانک گرم اور خشک ہوا کا تیز جھونکا آئے، ماحول میں حبس ختم ہو جائے اور گرمی یکدم بڑھ جائے۔ ایسی صورت میں فوری طور پر پانی پینا اور جسم کو ٹھنڈا کرنا ضروری ہے۔
ماحولیاتی تبدیلیوں، خصوصاً ال نینو جیسے عوامل نے موسم کے پیٹرن کو مزید غیر متوقع بنا دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے واقعات کی شدت اور تعداد میں اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔
آخر میں، احتیاط ہی سب سے بڑی حفاظت ہے۔ موسمی اپڈیٹس پر نظر رکھیں، گھر والوں کو آگاہ کریں، اور خاص طور پر رات کے وقت محتاط رہیں۔ کیونکہ ہیٹ برسٹ وہ خطرہ ہے جو خاموشی سے آتا ہے، لیکن اثر بہت گہرا چھوڑ جاتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں