ایران۔امریکہ مذاکرات: امید، خدشات اور طاقت کی سیاست

کالم دار : آصف سلیم مٹھا

تازہ ترین صورتحال میں پاکستان کی خارجہ پالیسی اور ثالثی کی ڈوبتی روشنیاں

ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشمکش کوئی نئی داستان نہیں، مگر حالیہ ہفتوں میں شروع ہونے والے سفارتی رابطوں نے خطے میں ایک محتاط امید کو جنم دیا تھا۔ یہ امید اس خیال سے وابستہ تھی کہ شاید برسوں پر محیط بداعتمادی کے بادل چھٹنے لگیں گے۔ تاہم تازہ پیش رفت نے ایک بار پھر واضح کر دیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان اختلافات کی خلیج اب بھی اتنی ہی گہری ہے، جتنی ماضی میں تھی۔

اطلاعات کے مطابق امریکہ نے اپنا مجوزہ سفارتی مشن پاکستان بھیجنے کا فیصلہ مؤخر کر دیا، جبکہ ایران نے بھی براہِ راست مذاکرات سے اجتناب برتا۔ یہ صورت حال اس تلخ حقیقت کی عکاس ہے کہ مذاکرات کی میز سجنے سے پہلے ہی دونوں فریق اپنے اپنے مؤقف کی دیواریں بلند کر چکے ہیں۔ ایران اپنے جوہری پروگرام، خصوصاً یورینیم افزودگی کے حق کو اپنی خودمختاری کا ناگزیر حصہ سمجھتا ہے، جبکہ امریکہ اسے عالمی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے اس پر سخت قدغن لگانے کا خواہاں ہے۔
یہ تنازع محض جوہری پروگرام تک محدود نہیں بلکہ اس کے پس منظر میں عالمی طاقتوں کی رسہ کشی، مشرقِ وسطیٰ میں اثر و رسوخ کی جنگ، اور اقتصادی پابندیوں کی پیچیدہ سیاست بھی کارفرما ہے۔ ایران کے لیے یہ مسئلہ قومی وقار اور دفاعی حکمت عملی کا سوال ہے، جبکہ امریکہ اسے جوہری عدم پھیلاؤ کے عالمی نظام کے تناظر میں دیکھتا ہے۔
مذاکرات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ باہمی اعتماد کا فقدان ہے۔ ماضی کی جوہری ڈیل اور اس سے امریکہ کی علیحدگی نے ایران کے اندر گہری بداعتمادی کو جنم دیا، جو آج بھی ہر ممکن معاہدے پر سایہ فگن ہے۔ ایران مستقبل میں کسی بھی ممکنہ معاہدے کے لیے مضبوط ضمانتیں چاہتا ہے، جبکہ امریکہ ایران کی سرگرمیوں کی کڑی نگرانی پر اصرار کرتا ہے۔
اس تمام صورتحال میں پاکستان کا کردار بطور ثالث ایک اہم مگر نازک پہلو بن کر ابھرا تھا۔ اسلام آباد نے ماضی میں بھی علاقائی تنازعات میں پل کا کردار ادا کرنے کی کوشش کی ہے، اور حالیہ پیش رفت میں بھی یہی توقع کی جا رہی تھی کہ پاکستان ایک بار پھر سفارتی توازن قائم کرنے میں کامیاب ہوگا۔ تاہم امریکہ کے وفد کی منسوخی اور ایران کی ہچکچاہٹ نے پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کو وقتی طور پر دھندلا دیا ہے۔ یہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کے لیے ایک آزمائش بھی ہے، جہاں اسے بڑی طاقتوں کے درمیان توازن برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ اپنی سفارتی ساکھ کو بھی مستحکم رکھنا ہے۔
خطے کے دیگر ممالک بھی اس تنازع کو گہری نظر سے دیکھ رہے ہیں۔ خلیجی ریاستیں، اسرائیل، چین اور روس جیسے عالمی کھلاڑی اس صورتحال میں اپنے اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے سرگرم ہیں۔ یوں یہ مسئلہ دو ممالک کے درمیان اختلاف سے بڑھ کر ایک عالمی تزویراتی کشمکش کی شکل اختیار کر چکا ہے۔
اگرچہ ثالثی کی کوششیں، خصوصاً پاکستان اور عمان جیسے ممالک کے ذریعے، ایک مثبت پیش رفت سمجھی جا سکتی ہیں، لیکن ان کی کامیابی کا دارومدار اس بات پر ہے کہ آیا فریقین اپنی پوزیشن میں لچک پیدا کرتے ہیں یا نہیں۔ فی الحال منظرنامہ یہی بتاتا ہے کہ کشیدگی برقرار رہے گی اور مذاکرات کا عمل سست روی کا شکار رہے گا۔
وقت کا تقاضا یہ ہے کہ دونوں ممالک وقتی سیاسی مفادات سے بالاتر ہو کر ایک دیرپا اور قابلِ عمل حل کی طرف پیش قدمی کریں۔ مسلسل کشیدگی نہ صرف خطے کے امن بلکہ عالمی معیشت کے لیے بھی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ بڑے سے بڑے تنازعات بھی بالآخر مذاکرات ہی کے ذریعے حل ہوتے ہیں، بشرطیکہ نیت میں سنجیدگی اور حکمت عملی میں توازن ہو۔
آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان جاری یہ کشمکش محض طاقت کی جنگ نہیں بلکہ اعتماد، وقار اور عالمی نظام کی تشکیلِ نو کی جدوجہد بھی ہے۔ آنے والے دن فیصلہ کریں گے کہ یہ تنازع مفاہمت کی راہ اختیار کرتا ہے یا مزید پیچیدگیوں میں الجھ جاتا ہےاور اس تمام عمل میں پاکستان کا کردار کس حد تک مؤثر ثابت ہوتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں