تحریر: آصف سلیم مٹھا
مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر عالمی سیاست کا مرکز بنا ہوا ہے، اور ایران و امریکہ کے درمیان حالیہ کشیدگی نے دنیا بھر کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی ہے۔ عالمی اخبارات اس صورتحال کو نہ صرف ایک علاقائی تنازع بلکہ عالمی استحکام کے لیے ایک سنجیدہ خطرہ قرار دے رہے ہیں۔ بظاہر جنگ بندی ہو چکی ہے، مگر بین الاقوامی میڈیا کے مطابق یہ امن نہیں بلکہ ایک نازک وقفہ ہے۔
برطانوی اخبار The Guardian کے مطابق ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی “غیر مستحکم اور عارضی” نوعیت کی ہے، جہاں دونوں فریق ایک دوسرے پر خلاف ورزیوں کے الزامات عائد کر رہے ہیں۔ اسی طرح خبر رساں ادارہ Reuters بھی اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ میدانِ جنگ میں خاموشی کے باوجود اعتماد کا فقدان بدستور موجود ہے، جو کسی بھی مستقل معاہدے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔
مذاکرات کے حوالے سے امریکی اخبار The New York Times اور دیگر عالمی ذرائع اس بات پر متفق دکھائی دیتے ہیں کہ دونوں ممالک کے درمیان بنیادی اختلافات ابھی تک حل طلب ہیں۔ خاص طور پر ایران کا جوہری پروگرام ایک ایسا مسئلہ ہے جس پر امریکہ کسی قسم کی نرمی دکھانے کو تیار نہیں، جبکہ ایران اسے اپنی خودمختاری کا معاملہ قرار دیتا ہے۔ The Guardian کے ایک تجزیے میں کہا گیا ہے کہ یہی بنیادی تضاد ہر بار مذاکرات کو تعطل کا شکار کر دیتا ہے۔
حال ہی میں سامنے آنے والی ایران کی تجاویز کو بھی عالمی میڈیا نے خاصی توجہ دی ہے۔ امریکی ویب سائٹ Axios کے مطابق ایران نے تجویز دی ہے کہ پہلے جنگ بندی کو مستحکم کیا جائے اور آبنائے ہرمز کو کھولا جائے، جبکہ جوہری مذاکرات کو بعد کے مرحلے میں رکھا جائے۔ تاہم خبر رساں ادارہ Associated Press (AP) کے مطابق امریکہ اس مؤقف سے متفق نہیں اور اس کا اصرار ہے کہ کسی بھی معاہدے میں جوہری مسئلہ مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔
اس تمام صورتحال میں پاکستان کا کردار بھی عالمی میڈیا کی توجہ کا مرکز بنتا جا رہا ہے۔ Reuters کی رپورٹس کے مطابق پاکستان نے پسِ پردہ سفارتی رابطوں میں اہم کردار ادا کیا ہے اور ممکنہ مذاکرات کے لیے سہولت کار (facilitator) کے طور پر سامنے آیا ہے۔ پاکستان کی جغرافیائی حیثیت، ایران کے ساتھ سرحدی تعلقات اور امریکہ کے ساتھ سفارتی روابط اسے ایک منفرد پوزیشن دیتے ہیں جہاں وہ دونوں فریقین کے درمیان پل کا کردار ادا کر سکتا ہے۔
مزید برآں، تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان کی کوشش ہے کہ خطے میں کشیدگی کم ہو تاکہ نہ صرف علاقائی استحکام برقرار رہے بلکہ معاشی دباؤ میں بھی کمی آئے۔ پاکستان خود بھی توانائی اور تجارت کے حوالے سے اس صورتحال سے متاثر ہو سکتا ہے، اس لیے اس کا مفاد ایک پائیدار امن میں ہی ہے۔ تاہم عالمی میڈیا یہ بھی نشاندہی کرتا ہے کہ پاکستان کا کردار محدود سفارتی اثر و رسوخ اور بڑی طاقتوں کی پالیسیوں کے باعث مکمل طور پر فیصلہ کن نہیں بن سکا۔
عالمی اخبارات اس تنازع میں دیگر ثالثوں—جیسے عمان اور روس کا ذکر بھی کرتے ہیں، مگر پاکستان کو ایک ایسے ملک کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جو خاموش سفارتکاری کے ذریعے پیش رفت کی راہ ہموار کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس کے باوجود اصل چیلنج بدستور وہی ہے: ایران اور امریکہ کے درمیان اعتماد کی شدید کمی۔
معاشی اثرات کے حوالے سے بھی عالمی میڈیا خبردار کر رہا ہے۔ The Guardian کی بزنس رپورٹنگ کے مطابق آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جس کے اثرات عالمی معیشت پر مرتب ہو رہے ہیں۔ اس تناظر میں یہ تنازع صرف ایک سیاسی یا عسکری مسئلہ نہیں بلکہ ایک معاشی چیلنج بھی بن چکا ہے۔
مجموعی طور پر عالمی اخبارات کا مؤقف خاصا واضح ہے: موجودہ جنگ بندی نازک ہے، مذاکرات سست روی کا شکار ہیں، اور دونوں فریق اپنی بنیادی پوزیشنز سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں۔ پاکستان سمیت دیگر ممالک کی سفارتی کوششیں جاری ہیں، مگر ابھی تک کوئی بڑی پیش رفت سامنے نہیں آئی۔
ایسے حالات میں یہ سوال اہم ہے کہ آیا یہ کشیدگی کسی بڑے تصادم کا پیش خیمہ بنے گی یا عالمی دباؤ کے تحت فریقین کسی مفاہمت پر پہنچ جائیں گے۔ عالمی میڈیا کی موجودہ رپورٹنگ کو سامنے رکھا جائے تو فی الحال امید سے زیادہ خدشات غالب نظر آتے ہیں البتہ پاکستان جیسے ممالک کی سفارتی کوششیں اس اندھیرے میں ایک محتاط امید ضرور پیدا کرتی ہیں۔



