اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان آئل ریفائننگ پالیسی 2023 میں مجوزہ ترامیم کی منظوری دے دی اور ملک میں پٹرولیم مصنوعات کے سٹریٹیجک ذخائر بڑھانے کی ہدایت بھی کی ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت کابینہ کمیٹی برائے توانائی کا اجلاس وزیراعظم ہاؤس میں منعقد ہوا۔
اس موقع پر وزیراعظم نے کہا کہ آئل ریفائنریز کی اَپ گریڈیشن وقت کی اہم ضرورت ہے اور یہ پاکستان کے توانائی تحفظ (انرجی سیکیورٹی) کے جامع نظام کا ایک اہم ستون ہے۔
انہوں نے کہا کہ جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ریفائنریز نہ صرف ملک کی توانائی ضروریات کو بہتر انداز میں پورا کریں گی بلکہ درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرنے اور ماحول دوست ایندھن کی فراہمی میں بھی معاون ثابت ہوں گی۔
اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ موجودہ ریفائنریز کی پیداواری صلاحیت بڑھانے کیلئے ان کی اَپ گریڈیشن ناگزیر ہے، یورو-4 اور یورو-5 معیار کے ایندھن کی پیداوار پاکستان کے بین الاقوامی ماحولیاتی وعدوں کی تکمیل، فضائی آلودگی میں کمی اور عوام کو بہتر معیار کا ایندھن فراہم کرنے کیلئے ضروری ہے۔
وزیراعظم نے ہدایت کی کہ اوگرا کی کارکردگی بہتر بنانے اور مارکیٹ کی ضروریات پوری کرنے کیلئے اصلاحات متعارف کرائی جائیں تاکہ شعبہ توانائی میں مسابقت، شفافیت اور سرمایہ کاری کو فروغ ملے۔
شہباز شریف نے زور دیا کہ نئی پالیسی کے نفاذ کے بعد اس پر مؤثر اور بروقت عملدرآمد یقینی بنایا جائے اور اس ضمن میں کسی بھی قسم کی غفلت یا تاخیر ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی، انہوں نے متعلقہ وزارتوں اور اداروں کو ہدایت کی کہ تمام سٹیک ہولڈرز کے ساتھ قریبی رابطہ رکھتے ہوئے اصلاحاتی عمل کو تیز کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت توانائی کے شعبے میں پائیدار اصلاحات، جدید ٹیکنالوجی کے فروغ اور سرمایہ کاری کیلئے سازگار ماحول کی فراہمی کیلئے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گی۔




