جنگلات لٹتے رہے، محکمۂ سوتا رہا، بدنام حکومت ہو رہی ہے

کالم: دار آصف سلیم مٹھا

خیبر پختونخوا کے جنگلات اگر بول سکتے تو شاید سب سے پہلے اپنے محافظوں ہی سے سوال کرتے کہ ہمیں لکڑی چوروں سے خطرہ ہے یا ان لوگوں سے جنہیں ہماری حفاظت کی ذمہ داری سونپی گئی ہے؟ یہ سوال آج خیبر پختونخوا کے عوام کے ذہنوں میں گردش کر رہا ہے، کیونکہ خیبر اور ڈی آئی خان فاریسٹ ڈویژنز کے حوالے سے ایک کے بعد ایک شکایت سامنے آ رہی ہے، شہری احتجاج کر رہے ہیں، تحقیقات کا مطالبہ کر رہے ہیں، مگر محکمۂ جنگلات کی خاموشی ایسی ہے جیسے کچھ ہوا ہی نہیں۔
یہ خاموشی اب محض خاموشی نہیں رہی، بلکہ خود ایک سوال بن چکی ہے۔
اگر محکمۂ جنگلات کے پاس ان شکایات کا جواب موجود ہے تو وہ سامنے کیوں نہیں آتا؟ اگر افسران اپنی ذمہ داریاں پوری کر رہے ہیں تو ان کے فیلڈ ریکارڈ عوام کے سامنے کیوں نہیں رکھے جاتے؟ اگر جنگلات محفوظ ہیں تو اس کی رپورٹ کیوں جاری نہیں کی جاتی؟ اور اگر کہیں کوئی خرابی نہیں تو اعلیٰ سطحی تحقیقات سے خوف کس بات کا؟
بات بہت سیدھی ہے: جس کے دامن پر داغ نہ ہو، اسے احتساب سے گھبرانے کی ضرورت نہیں ہوتی۔
خیبر فاریسٹ ڈویژن کے حوالے سے مقامی لوگوں کی جانب سے جنگلات کی مبینہ تباہی، لکڑی چوری، کمزور نگرانی اور بعض افسران کی طویل تعیناتیوں کے بارے میں مسلسل آواز اٹھائی جا رہی ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ فیلڈ میں نگرانی کا وہ نظام موجود نہیں جو جنگلات جیسے حساس قومی اثاثے کے لیے ضروری ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر محکمۂ جنگلات کی ذمہ داری جنگلات کی حفاظت ہے تو پھر جنگلات کی نگرانی کون کر رہا ہے؟
یا پھر سب کچھ فائلوں میں درست اور زمین پر کچھ اور ہے؟
یہ سوال بھی اپنی جگہ انتہائی اہم ہے کہ خیبر فاریسٹ ڈویژن کا ڈویژنل دفتر خیبر کے بجائے پشاور میں کیوں ہے۔ ایک ایسے علاقے کے جنگلات جہاں فیلڈ نگرانی ہر وقت درکار ہے، وہاں انتظامی مرکز دور بیٹھا ہو تو عوامی شکایات اور فیلڈ مسائل کا فوری حل کیسے ممکن ہوگا؟ کیا محکمۂ جنگلات نے کبھی اس انتظامی ڈھانچے کا جائزہ لیا ہے؟ کیا کبھی کسی اعلیٰ افسر نے اچانک فیلڈ میں جا کر دیکھا کہ حقیقت کیا ہے؟
یا پھر سرکاری نظام بھی صرف فائلوں کے صفحات پر چل رہا ہے؟
سب سے زیادہ تشویش ناک بات بعض افسران کی مبینہ طویل تعیناتیاں ہیں۔ سرکاری عہدہ کسی افسر کی موروثی جائیداد نہیں ہوتا۔ ایک ہی افسر اگر برسوں ایک ہی علاقے میں موجود رہے، پھر دوبارہ وہیں تعیناتی حاصل کرے اور پھر بھی اس کے بارے میں کوئی سوال نہ اٹھے تو عوام کو سوال کرنے کا پورا حق ہے۔
یہاں حکومت کو صرف ایک کام کرنا ہے: افسران کی تعیناتیوں کا مکمل ریکارڈ سامنے رکھ دے۔
کس افسر نے کب چارج سنبھالا؟ کتنی بار تبادلہ ہوا؟ کتنی بار اسی علاقے میں واپس آیا؟ کس بنیاد پر آیا؟ کس نے منظوری دی؟ کیا کوئی باقاعدہ پالیسی موجود ہے؟
اگر جواب صاف ہے تو معاملہ ختم۔ لیکن اگر ریکارڈ میں ایسے سوالات ہیں جن کا جواب دینا مشکل ہے تو پھر تحقیقات ضروری ہیں۔
ڈی آئی خان فاریسٹ ڈویژن کی سب ڈویژن پہاڑ پور کے حوالے سے بھی شہریوں نے سوالات اٹھائے ہیں۔ متعلقہ ایس ڈی ایف او کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ اسی علاقے کا رہائشی ہے اور طویل عرصے سے وہیں تعینات ہے۔ بعض شہریوں نے یہ الزام بھی لگایا ہے کہ سرکاری ذمہ داریوں کے مقابلے میں ذاتی کاروباری معاملات کو ترجیح دی جاتی ہے۔
یہ الزام درست ہے یا غلط، اس کا فیصلہ کالم نگار نہیں بلکہ تحقیقات کریں گی۔ لیکن حکومت یہ ضرور بتائے کہ کیا اس معاملے کی کبھی غیر جانب دارانہ جانچ ہوئی؟ کیا افسر کی فیلڈ حاضری دیکھی گئی؟ کیا سرکاری وقت اور سرکاری وسائل کے استعمال کا ریکارڈ چیک کیا گیا؟ کیا مقامی لوگوں کی شکایات کا کوئی باقاعدہ اندراج اور کارروائی ہوئی؟
اگر جواب نہیں ہے تو پھر سوال صرف افسر کا نہیں، پورے انتظامی نظام کا ہے۔

اور اگر محکمۂ جنگلات واقعی سمجھتا ہے کہ اس کے تمام افسران بے داغ کارکردگی دکھا رہے ہیں تو پھر حکومت کو چاہیے کہ ایک آزاد انکوائری کمیٹی بنائے اور تمام اعتراضات کا جواب دستاویزی ثبوت کے ساتھ دے۔
کیونکہ اب صرف زبانی یقین دہانیاں کافی نہیں۔
شہریوں نے اسلام آباد تک جا کر احتجاج کیا ہے۔ یہ معمولی بات نہیں۔ جب کسی مقامی مسئلے کی آواز دارالحکومت تک پہنچ جائے تو حکومت کو جاگ جانا چاہیے۔ لیکن یہاں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ احتجاج کی آواز سے زیادہ طاقتور محکمۂ جنگلات کی خاموشی ہے۔
یہ خاموشی ختم ہونی چاہیے۔
خصوصی آڈٹ کا مطالبہ بھی اسی لیے اہم ہے۔ جنگلات سے متعلق سرکاری فنڈز، ترقیاتی منصوبے، لکڑی کی ضبطگی، لکڑی کی نقل و حمل، مقدمات، سرکاری گاڑیوں کا استعمال، فیلڈ اخراجات اور دیگر مالی معاملات کا مکمل آڈٹ ہونا چاہیے۔ اگر سب کچھ صاف ہے تو آڈٹ سے صفائی مزید واضح ہو جائے گی، لیکن اگر کہیں مالی بے ضابطگی ہوئی ہے تو اسے چھپانے کی کوشش خود ایک بڑا جرم بن جائے گی۔
حکومت کو یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ عوام اب اس دور میں نہیں رہتے جہاں محض ایک سرکاری پریس ریلیز جاری کرکے ہر سوال کو دفن کیا جا سکے۔ آج شہری سوال کرتے ہیں، ریکارڈ مانگتے ہیں اور جواب چاہتے ہیں۔
اور جواب دینا حکومت کی ذمہ داری ہے۔
جنگلات کی حفاظت صرف محکمۂ جنگلات کے ملازمین کی ملازمت نہیں، یہ قومی ذمہ داری ہے۔ ایک درخت کاٹنے والا اگر قانون توڑتا ہے تو اسے سزا ملنی چاہیے، لیکن اگر کسی سرکاری اہلکار کی غفلت سے درختوں کی کٹائی جاری رہتی ہے تو پھر اس غفلت کی ذمہ داری بھی طے ہونی چاہیے۔
لکڑی چور صرف وہ نہیں جو کلہاڑی اٹھا کر جنگل میں داخل ہو؛ اگر کوئی اہلکار اپنی ذمہ داری ادا نہ کرے اور اس کی غفلت سے جنگل لٹتا رہے تو اس کردار کا بھی احتساب ہونا چاہیے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں حکومت کو سخت فیصلہ کرنا ہوگا۔
اگر چند اہلکاروں کے بارے میں شکایات ہیں تو انکوائری کریں۔ اگر الزامات غلط ہیں تو انہیں بے بنیاد ثابت کریں۔ اگر درست ہیں تو کارروائی کریں۔ لیکن خاموش رہ کر یہ تاثر پیدا نہ ہونے دیں کہ شاید کسی کو بچانے کی کوشش ہو رہی ہے۔
خیبر پختونخوا حکومت کو اپنے ہی محکمۂ جنگلات کے خلاف نہیں، بلکہ اپنے اداروں کی صفائی کے حق میں کھڑا ہونا چاہیے۔ حکومت کا وقار اس وقت بلند ہوگا جب وہ اپنے افسران سے بھی سوال کرے گی۔ احتساب صرف سیاسی مخالفین کا نہیں ہوتا؛ احتساب اپنے اداروں کا بھی ہوتا ہے۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ خیبر اور ڈی آئی خان فاریسٹ ڈویژنز میں فوری طور پر اعلیٰ سطحی اور غیر جانب دار تحقیقات کرائی جائیں۔ انکوائری افسران ایسے ہوں جن کا مقامی انتظامیہ اور متعلقہ محکمہ سے براہِ راست مفاد نہ ہو۔ افسران کی تعیناتیوں کا ریکارڈ کھولا جائے، فیلڈ حاضری چیک کی جائے، لکڑی کی کٹائی اور نقل و حمل کا حساب لیا جائے، ضبط شدہ لکڑی کا ریکارڈ دیکھا جائے، مقدمات کی حقیقت سامنے لائی جائے اور سرکاری فنڈز کا خصوصی آڈٹ کرایا جائے۔
اور سب سے اہم بات: ان تحقیقات کو بند کمروں میں دفن نہ کیا جائے۔
عوام کو بتایا جائے کہ کیا نکلا۔
کیونکہ اگر الزامات بے بنیاد ہیں تو حکومت کی عزت بحال ہوگی، اور اگر کوئی قصوروار ہے تو اس کے خلاف کارروائی سے حکومت کی ساکھ مزید مضبوط ہوگی۔
لیکن اگر حکومت خاموش رہی، محکمۂ جنگلات خاموش رہا اور شکایات بھی اسی طرح فائلوں کے نیچے دبی رہیں تو پھر عوام کا شک کرنا بھی فطری ہوگا۔
خیبر پختونخوا کے جنگلات پہلے ہی ماحولیاتی دباؤ، غیر قانونی کٹائی اور انسانی مداخلت جیسے مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔ ایسے میں محکمۂ جنگلات کو ایک لمحے کے لیے بھی غفلت کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔
یہ وقت بیانات کا نہیں، کارروائی کا ہے۔
یہ وقت افسران کو بچانے کا نہیں، نظام کو بچانے کا ہے۔
یہ وقت شکایات دبانے کا نہیں، حقائق سامنے لانے کا ہے۔
اور حکومت کو یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ جنگلات اگر ختم ہوگئے تو انہیں کسی نوٹیفکیشن سے واپس نہیں لایا جا سکے گا۔
اس لیے خیبر پختونخوا حکومت سے مطالبہ نہیں بلکہ ایک سنجیدہ عوامی سوال ہے:
آخر جنگلات کی حفاظت کون کرے گا؟
اگر محکمۂ جنگلات نہیں کرے گا تو کون کرے گا؟
اور اگر محکمۂ جنگلات کی نگرانی میں ہی جنگلات کے بارے میں سوالات اٹھ رہے ہیں تو پھر محکمۂ جنگلات کی نگرانی کون کرے گا؟
یہ سوال اب صرف خیبر کے چند شہریوں کا نہیں، پورے خیبر پختونخوا کا سوال ہے۔
خاموشی ختم کریں، نتحقیقات شروع کریں، ریکارڈ کھولیں اور ذمہ داروں کا احتساب کریں۔ ورنہ کل جنگلات کی تباہی کے ساتھ یہ سوال بھی تاریخ میں لکھا جائے گا کہ جب درخت کٹ رہے تھے تو محافظ کہاں تھے؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں