جنگ کے بعد بھی ایران کیساتھ اعتماد کی بحالی میں برسوں لگ جائیں گے؛ متحدہ عرب امارات

متحدہ عرب امارات نے ایران کے ساتھ اعتماد کی بحالی کو ایک طویل اور مشکل عمل قرار دیدیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان کے مشیر انور قرقاش نے کہا ہے کہ حالیہ جنگ میں ایران کے ساتھ اعتماد میں فقدان تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہے۔

فرانس میں ورلڈ پالیسی کانفرنس میں انھوں نے کہا کہ حالیہ جنگ میں متعدد حملوں کے باعث اب متحدہ عرب امارات کے ایران کے ساتھ اعتماد کی فضا بحال ہونے میں برسوں لگ جائیں گے۔

مشیر اماراتی صدر نے کہا کہ آپ کسی ملک پر 2,800 میزائل اور ڈرونز سے حملے کریں اور پھر اعتماد کی بات کریں تو ایسا ممکن نہیں۔ اعتماد کو شدید ٹھیس پہنچی ہے۔ چٹکی بجاتے بحال نہیں ہوگی۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے متحدہ عرب امارات پر 89 فیصد حملے شہریوں، سویلین انفراسٹرکچر اور توانائی کے نظام کو نشانہ بنانے کے لیے تھے۔

انور قرقاش نے مزید کہا کہ ایران ان حملوں سے خلیجی عرب ممالک کو یہ پیغام دے رہا تھا کہ آپ ہماری حساب کتاب میں اہم نہیں ہیں اور اس سوچ کے اثرات طویل عرصے تک رہیں گے۔

انھوں نے یہ بھی کہا کہ خطے میں خاص طور پر متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک کے لیے ایران کو ایک اسٹریٹجک خطرہ سمجھا جائے گا۔

یاد رہے کہ 28 فروری سے اسرائیل اور امریکا کی جانب سے مسلط کی گئی جنگ کے جواب میں ایران نے متحدہ عرب امارات میں امریکی فوجی اڈّوں اور آئل تنصیبات کو متواتر نشانہ بنایا ہے۔

جسے متحدہ عرب امارات نے خودمختاری اور قومی سلامتی کے منافی قرار دیتے ہوئے سخت ردعمل دیا تھا اور تمام خلیجی ممالک نے بھی مشترکہ طور پر مذمت بھی کی تھی اور ایرانی اقدامات کو خطے کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں