فیصل آباد میں تشدد کا نشانہ بننے والی لڑکی کی میڈیکل رپورٹ سامنے آ گئی

فیصل آباد :فیصل آباد میں لڑکی پر تشدد اور تذلیل کے واقعے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔متاثرہ لڑکی کی میڈیکل رپورٹ سامنے آ گئی ہے جس میں ان پر تشدد ثابت ہو گیا۔میڈیکل رپورٹ میں متاثرہ لڑکی کے جسم پر تشدد کے ثبوت مل گئے۔لڑکی کے جسم پر 7 مختلف حصوں پر تشدد کے نشانات ہیں۔لڑکی کے چہرے ،کندھے، بازو پر سوزش ہے۔

لڑکی کے دائیں ہاتھ کے جوڑ بھی متاثر ہوئے۔لڑکی کے سر کے بال اور بھنویں بھی مونڈھ دی گئیں۔متاثرہ لڑکی کے ساتھ پیش آئے افسوسناک واقعے کی ویڈیو وائرل ہونے پر 16 افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا۔پولیس نے لڑکی کی دوست سمیت 16 افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے جب کہ واقعے میں ملوث 6 افراد کو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے۔ پنجاب پولیس نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ فیصل آباد پولیس نے خاتون پر تشدد اور تذلیل کرنے والے چھ ملزمان سمیت خاتون ملزمہ کو کل گرفتار کر لیا گیا تھا۔

سی پی او فیصل آباد کی تشکیل کردہ خصوصی ٹیم نے جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے فوری ملزمان کو گرفتار کیا۔متاثرہ لڑکی کے پولیس کو دئیے گئے بیان کے مطابق ملزم اس کی دوست کا والد ہے جو اس سے شادی کرنا چاہتا تھا۔ لڑکی کے مطابق ملزم نے مجھ سے شادی سے انکار پر تشدد کا نشانہ بنایا۔وہ 16 ساتھیوں کے ساتھ گھر میں داخل ہوا اور تشدد کیا۔ملزمان مجھے اور بھائی کو گھر لے گئے اور وہاں جا کر تشدد کیا۔

میرے سر کے بال اور بھنوئیں کاٹ دیں مجھے جوتے چاٹنے پر مجبور کیا،ایف آئی آر کے مطابق ملزم نے جنسی طور پر ہراساں کیا اور ویڈیوز بھی بنائیں۔واقعے کی ویڈیو بنانے کے معد مجھے دھمکیاں دے کر چھوڑا گیا۔لڑکی نے پولیس کو بتایا کہ ملزمان نے تشدد کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل کر دیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں