پاکستان نے افغانستان کے لیے اپنی فضا اور زمین استعمال کرنے کی اجازت دے دی

نیویارک : امریکی محکمہ دفاع پینٹاگان حکام نے دعویٰ کیا کہ پاکستان نے امریکی افواج کو افغانستان میں موجودگی برقرار رکھنے میں مدد دینےکے لیے فضائی حدود اور زمین استعمال کرنے کی جازت دے دی ہے۔ اس بات کا دعویٰ انڈو پیسفیک افیئرز کے لیے امریکی نائب وزیردفاع ڈیوڈ ایف ہیلوے نے گذشتہ ہفتے امریکی آرمڈ سروسز کمیٹی کو بریفنگ میں کیا۔

رپورٹ کے مطابق ڈیوڈ ہیلوے کا کہنا تھا کہ امریکہ پاکستان کے ساتھ مذاکرات جاری رکھے گا کیونکہ افغانستان میں امن قائم کرنے کے لیے پاکستان کا کردار بہت اہم ہے۔ ڈیوڈ ہیلوے نے بتایا کہ پاکستان نے افغانستان میں امریکی موجودگی میں مدد کے لیے پاکستان کے اوپر فلائیٹ اور زمین کے استعمال کی اجازت بھی دے دی ہے۔

خبر رساں ادارے کی رپورٹ پینٹاگون کے عہدیدار نے یہ بار مغربی ورجینیا سے ڈیموکریٹ سینیٹر جو مانچِن کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہی جنہوں نے ان سے سوال کیا تھا کہ پاکستان کے بارے میں بالخصوص اس کی انٹیلی جنس ایجنسیوں کے متعلق اپنے اندازوں اور جو کردار آپ ان سے ہمارے مستقبل میں ادا کرنے کی توقع رکھتے ہیں اس کا خاکہ پیش کریں۔

ڈیوڈ ایف ہیلوے نے جواب میں کہا کہ پاکستان نے افغانستان میں اہم کردار ادا کیا ہے، اس نے افغان امن عمل کی حمایت کی، افغانستان میں ہماری فوجی موجودگی برقرار رکھنے کے لیے اپنی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت اور زمینی رسائی دی۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان کے مستقبل کی حمایت اور کردار ادا کرنے اور افغانستان میں امن کے لیے ہم پاکستان سے اپنی بات چیت جاری رکھیں گے۔

واشنگٹن میں موجود سفارتی ذرائع نے ڈان کو بتایا کہ پاکستان نے امریکہ کو افغانستان میں اس کی فوجی موجودگی برقرار رکھنے کے لیے ہمیشہ اس کی فضائی حدود استعمال کرنے اور زمینی رسائی دی ہے اور وہ یہ سلسلہ جاری رکھے گا۔قبل ازیں سینیٹ کمیٹی کے اجلاس میں شمالی ڈکوٹا سے ریپبلیکن سینیٹر کیون کریمر نے پینٹاگون کے عہدیدار سے سوال کیا کہ افغانستان میں دہشت گردوں کو واپسی سے روکنے کے لیے امریکہ کو خطے میں کس قسم کی انسانی اور غیر انسانی صلاحیتوں کی ضرورت ہوگی۔
ڈیوڈ ایف ہیلوے نے جواب میں کہا کہ ‘وہ چیزیں جو افغانستان میں ہمارے پاس نہیں ہیں جیسا کہ فضائی حدود کے استعمال کی اجازت۔انہوں نے کہا کہ ایسے دیگر اثاثے بھی ہیں جو خطے میں موجود نہیں ہیں اور امریکہ کے پاس انہیں خطے میں لانے کی صلاحیت ہے۔سینیٹر جو مانچن نے انہیں یاد دہانی کرائی کہ حقیقت میں گرانڈ پر کوئی اثاثہ نہ ہونے کے باعث واشنگٹن کو امریکہ کے ساتھ کام کرنے کے لیے اپنی علاقائی شراکت داروں پر انحصار کرنا ہوگا۔

انہوں نے سوال کیا کہ کیا آپ ہمارے علاقائی شراکت داروں، ان کی صلاحیتوں اور دہشت گردوں کو خطے سے باہر رکھنے کے لیے ان کے عزائم سے مطمئن ہیں ڈیوڈ ایف ہیلوے نے کہا کہ امریکی محکمہ دفاع اس وقت اپنے انٹر ایجنسی ساتھیوں کے ساتھ درست انتظامات، تعلقات اور فریم ورک کے لیے کام کر رہا ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جاسکے کہ افغانستان دوبارہ کبھی دہشت گردوں کے لیے جنت ثابت نہ ہو۔گزشتہ ماہ امریکی صدر جو بائیڈن نے رواں سال 11 ستمبر تک افغانستان سے تمام امریکی اور نیٹو افواج کے انخلا کے منصوبے کا اعلان کیا تھا۔امریکہ اور طالبان کے درمیان گزشتہ سال 29 فروری کو افغان جنگ کے خاتمے اور امریکہ کی طویل ترین جنگ کے بعد امریکی فوج کو واپس بلانے کے لیے معاہدے پر دستخط ہوئے تھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں