تحریر: آصف سلیم مٹھا
ایڈیٹر نوائےجنگ گروپ آف نیوز پیپر برطانیہ /پاکستان
پاکستان کی یہ وہ تاریخ ہے جو ہم نے دیکھی اور اس سیاسی تاریخ میں محترمہ نصرت بھٹو کا نام ایک ایسی خاتون رہنما کے طور پر یاد رکھا جائے گا جنہوں نے آمریت، سیاسی جبر، ذاتی صدمات اور مسلسل آزمائشوں کے باوجود جمہوریت کی بحالی کے لیے جدوجہد کی۔ وہ سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی شریکِ حیات ہی نہیں، بلکہ خود بھی ایک سیاسی رہنما تھیں جنہوں نے مشکل ترین حالات میں پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت سنبھالی اور سیاسی مزاحمت کی علامت بنیں۔
نصرت بھٹو 1929 میں ایران کے شہر اصفہان میں پیدا ہوئیں۔ ذوالفقار علی بھٹو سے شادی کے بعد وہ پاکستانی سیاسی زندگی کا حصہ بنیں۔ جب 5 جولائی 1977 کو جنرل ضیاء الحق نے منتخب حکومت کا تختہ الٹ کر مارشل لا نافذ کیا تو پاکستان ایک ایسے دور میں داخل ہوا جس میں سیاسی سرگرمیوں پر پابندیاں لگیں، مخالف رہنماؤں کو گرفتار کیا گیا اور جمہوریت کی بحالی کا مطالبہ کرنے والوں کو سخت ریاستی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑا۔
قذافی اسٹیڈیم لاہور: سیاسی جبر کا خونیں منظر
جنرل ضیاء الحق کے دورِ آمریت میں محترمہ نصرت بھٹو پر تشدد کا ایک دردناک واقعہ لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں پیش آیا۔ 1977 میں پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان کرکٹ ٹیسٹ میچ کے دوران وہ اسٹیڈیم پہنچیں تو وہاں سیاسی کشیدگی پیدا ہوگئی۔ پولیس کی کارروائی اور لاٹھی چارج کے دوران ایک لاٹھی ان کے سر پر لگی، جس سے ان کا سر پھٹ گیا اور خون بہنے لگا۔
معروف فوٹوگرافر اظہر جعفری نے اس واقعے کی تصویر محفوظ کی، جس میں نصرت بھٹو کے زخمی اور خون آلود چہرے نے اس دور کی سیاسی سختیوں کو نمایاں کیا۔ ایک خاتون سیاسی رہنما کے ساتھ پیش آنے والا یہ واقعہ محض انفرادی تشدد نہیں تھا، بلکہ اس نے سیاسی اختلاف کو طاقت کے ذریعے دبانے کے طریقۂ کار پر سنگین سوالات اٹھائے۔
قذافی اسٹیڈیم کا یہ منظر پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ایک علامتی حیثیت رکھتا ہے۔ نصرت بھٹو نے اپنے زخموں اور مشکلات کے باوجود سیاسی جدوجہد ترک نہیں کی۔ ان کی ثابت قدمی نے پیپلز پارٹی کے کارکنوں اور جمہوریت کے حامیوں کے لیے ایک مثال قائم کی۔
ذوالفقار علی بھٹو کی گرفتاری اور پھانسی
جنرل ضیاء الحق کے مارشل لا کے بعد ذوالفقار علی بھٹو کو گرفتار کیا گیا۔ ان کے خلاف قتل کے ایک مقدمے میں عدالتی کارروائی ہوئی اور 4 اپریل 1979 کو انہیں پھانسی دے دی گئی۔ یہ واقعہ پاکستان کی سیاسی تاریخ کے سب سے متنازع اور صدمہ خیز واقعات میں شمار ہوتا ہے۔
شوہر کی پھانسی نصرت بھٹو کے لیے ایک بہت بڑا ذاتی سانحہ تھا، لیکن انہوں نے سیاست سے کنارہ کشی اختیار نہیں کی۔ اس کے برعکس، انہوں نے پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت سنبھالی اور مشکل حالات میں پارٹی کو منظم رکھنے کی کوشش کی۔ ان کے سامنے ایک طرف اپنے خاندان کا غم تھا اور دوسری طرف سیاسی کارکنوں کو حوصلہ دینے اور جمہوری جدوجہد جاری رکھنے کی ذمہ داری۔
اس دور میں سیاسی کارکنوں کی گرفتاریاں، نظربندیاں اور سیاسی سرگرمیوں پر پابندیاں عام تھیں۔ نصرت بھٹو کو بھی ان حالات میں مسلسل مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے اپنی بیٹی بے نظیر بھٹو کے ساتھ مل کر آمریت کے خلاف آواز بلند کی اور جمہوریت کی بحالی کے مطالبے کو زندہ رکھا۔
آمریت کے خلاف جدوجہد اور بے نظیر بھٹو کا کردار
نصرت بھٹو کی سیاسی جدوجہد کا ایک اہم پہلو ان کی بیٹی بے نظیر بھٹو کی سیاسی تربیت تھی۔ دونوں نے ایسے دور میں سیاسی مزاحمت کی جب مخالفین کے لیے کھل کر سیاست کرنا دشوار تھا۔ گرفتاریوں، نظربندی اور دباؤ کے باوجود انہوں نے پارٹی کے کارکنوں سے رابطہ برقرار رکھنے اور جمہوری سیاست کو زندہ رکھنے کی کوشش کی۔
نصرت بھٹو نے اس دور میں یہ ثابت کیا کہ سیاسی قیادت صرف اقتدار میں رہنے کا نام نہیں، بلکہ مشکل وقت میں کارکنوں کے ساتھ کھڑے ہونے، اصولوں پر قائم رہنے اور سیاسی حقوق کے لیے آواز بلند کرنے کا نام بھی ہے۔
بعد ازاں بے نظیر بھٹو پاکستان کی پہلی خاتون وزیراعظم بنیں۔ اس کامیابی میں ان کی اپنی سیاسی جدوجہد بنیادی اہمیت رکھتی تھی، جبکہ ان کی والدہ کی قربانیاں اور سیاسی تربیت بھی اس سفر کا ایک اہم حصہ تھیں۔ یوں نصرت بھٹو کی میراث اگلی نسل کی سیاسی زندگی سے بھی جڑ گئی۔
نواز شریف کے ادوار اور جمہوری رویّے کا سوال
پاکستان میں جمہوری اصولوں کے حوالے سے سوالات صرف فوجی حکومتوں تک محدود نہیں رہے۔ منتخب حکومتوں کے ادوار میں بھی سیاسی مخالفین کے حقوق، آزاد صحافت اور اداروں کی خودمختاری کے بارے میں تنازعات پیدا ہوتے رہے ہیں۔
میاں نواز شریف کے 1997 سے 1999 کے دورِ حکومت میں بھی اپوزیشن کے ساتھ حکومتی رویّے، صحافیوں پر دباؤ اور ریاستی اداروں سے تصادم کے حوالے سے تنقید سامنے آئی۔ نومبر 1997 میں سپریم کورٹ پر حکمران جماعت کے حامیوں کے حملے اور عدالتی کارروائی میں خلل ڈالنے کا واقعہ اس دور کے اہم متنازع واقعات میں شامل ہے۔
ان واقعات کا ذکر کرتے ہوئے یہ بنیادی اصول سامنے رکھنا ضروری ہے کہ جمہوریت صرف انتخابات جیتنے یا حکومت بنانے کا نام نہیں۔ منتخب رہنماؤں پر بھی لازم ہے کہ وہ آئین، قانون، آزاد عدلیہ، صحافت اور سیاسی مخالفین کے حقوق کا احترام کریں۔ کسی بھی حکومت کے جمہوری کردار کا جائزہ اسی معیار پر ہونا چاہیے، خواہ اس کا تعلق کسی بھی سیاسی جماعت سے ہو۔
جنرل ضیاء الحق کی فوجی آمریت اور منتخب حکومتوں کے دور میں جمہوری اقدار کے حوالے سے پیدا ہونے والے تنازعات نوعیت اور شدت میں مختلف تھے، لیکن دونوں ادوار کا مطالعہ اس بات کی اہمیت واضح کرتا ہے کہ ریاستی طاقت کو آئینی حدود میں رہ کر استعمال ہونا چاہیے۔ اختلافِ رائے کو دبانے کے بجائے اس کا جواب دلیل، قانون اور سیاسی مکالمے سے دینا ہی جمہوری طرزِ عمل ہے۔
ذاتی صدمات اور سیاسی میراث
نصرت بھٹو کی زندگی مسلسل صدمات سے عبارت تھی۔ شوہر کی پھانسی، سیاسی جبر اور خاندان کو پیش آنے والے المیوں نے انہیں گہرے دکھ پہنچائے۔ اس کے باوجود وہ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ایک ایسی رہنما کے طور پر یاد کی جاتی ہیں جنہوں نے آمریت کے خلاف جدوجہد میں اہم کردار ادا کیا۔
ان کی سیاسی میراث کو صرف پیپلز پارٹی یا بھٹو خاندان کے تناظر میں دیکھنا کافی نہیں۔ ان کی زندگی پاکستان میں خواتین کی سیاسی شرکت، جمہوری حقوق اور سیاسی مزاحمت کی تاریخ کا بھی اہم حصہ ہے۔ ان کی جدوجہد اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ سیاسی حقوق کی حفاظت کے لیے صرف قوانین کافی نہیں ہوتے، بلکہ سیاسی قیادت، مضبوط اداروں اور عوامی شعور کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔
محترمہ نصرت بھٹو کا انتقال 23 اکتوبر 2011 کو دبئی میں ہوا۔ ان کے انتقال کے ساتھ پاکستان کی سیاست کا ایک اہم باب بند ہوا، لیکن ان کی جدوجہد کے حوالے سے اٹھنے والے سوالات آج بھی زندہ ہیں۔
اختتامیہ: جمہوریت کسی ایک جماعت کی میراث نہیں
محترمہ نصرت بھٹو کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ جمہوریت کسی ایک سیاسی جماعت، خاندان یا رہنما کی ملکیت نہیں، بلکہ عوام کا بنیادی حق ہے۔ قذافی اسٹیڈیم میں ان پر تشدد، جنرل ضیاء الحق کے دور کی سختیاں، ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی اور بعد کے سیاسی ادوار میں جمہوری اصولوں پر اٹھنے والے سوالات، سب اس بات کی اہمیت اجاگر کرتے ہیں کہ اقتدار کو آئین اور قانون کے تابع ہونا چاہیے۔
سیاسی اختلاف کو دشمنی میں بدل دینا، مخالف آوازوں کو دبانا اور طاقت کے ذریعے مسائل حل کرنے کی کوشش کرنا جمہوری معاشرے کو کمزور کرتا ہے۔ اسی طرح کسی بھی سیاسی رہنما کو تنقید سے بالاتر سمجھنا بھی درست نہیں۔ حقیقی جمہوریت میں حکمران اور اپوزیشن دونوں جواب دہ ہوتے ہیں۔
محترمہ نصرت بھٹو کی جدوجہد کا اصل پیغام یہ ہے کہ سیاسی اختلاف کے باوجود انسانی وقار، آئینی حقوق اور جمہوری آزادیوں کا احترام کیا جانا چاہیے۔ ان کی زندگی کی قربانیاں ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ پاکستان کو ایسے سیاسی کلچر کی ضرورت ہے جہاں اقتدار کی تبدیلی آئینی طریقے سے ہو، اختلافِ رائے کو برداشت کیا جائے اور کسی شہری یا سیاسی رہنما کو اپنے مؤقف کے اظہار پر تشدد یا غیر قانونی پابندیوں کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
نصرت بھٹو کی یاد کو خراجِ تحسین پیش کرنے کا بہترین طریقہ یہی ہے کہ ان اصولوں کو مضبوط کیا جائے جن کے لیے انہوں نے مشکل حالات میں آواز بلند کی: جمہوریت، انسانی وقار، سیاسی آزادی اور قانون کی حکمرانی۔








