تحریر: ایم آئی بٹ (M. I. Butt)
جمہوریت کے لیے سب سے بڑا خطرہ محض اختیارات کا ناجائز استعمال نہیں، بلکہ اقتدار میں بیٹھے لوگوں کا یہ زعم ہے کہ ان کا اقتدار کبھی ختم نہیں ہوگا۔
11 اکتوبر 2026 کو خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ نے پاکستان کی آئینی جمہوریت کے مستقبل پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ صدر آصف علی زرداری نے وفاقی حکومت کی سفارش پر تحریک انصاف کی منتخب صوبائی حکومت کے اختیارات معطل کرکے صوبے کا انتظام وفاقی کنٹرول میں دے دیا۔
وزیراعظم شہباز شریف اور بلاول بھٹو زرداری اس اقدام کو سلامتی کے خدشات اور آئینی اختیارات کی بنیاد پر درست قرار دیتے ہیں۔ بلاشبہ دہشت گردی ایک سنگین مسئلہ ہے، لیکن کیا امن و امان کی خراب صورتِ حال کسی منتخب حکومت کو غیر مؤثر کرنے کا جواز بن سکتی ہے؟ اور یہ غیر معمولی فیصلہ عین اس وقت کیوں کیا گیا جب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی عمران خان کی رہائی کے مطالبے کے لیے لانگ مارچ کی تیاری کر رہے تھے؟
تحریک انصاف کا مؤقف ہے کہ اس اقدام کا اصل مقصد سیاسی احتجاج کا راستہ روکنا تھا، جبکہ حکومت سیاسی مقاصد کی تردید کرتی ہے۔ تاہم فیصلے کا وقت اور حالات شفاف وضاحت کا تقاضا ضرور کرتے ہیں۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے لیے بھی ایک نہایت اہم سوال پیدا ہوتا ہے۔ صوبے میں زرداری کے سیاسی اتحادی کو اختیارات حاصل ہونے کے بعد کیا پیپلز پارٹی اس فیصلے کی سیاسی فائدہ اٹھانے والی جماعت نہیں بن گئی؟ آئینی اختیارات کے استعمال سے فائدہ اٹھانے والوں کو بھی عوام کے سامنے جواب دہ ہونا چاہیے۔
پاکستان کی تاریخ ایسے فیصلوں اور ان کے نتائج سے بھری پڑی ہے، مگر افسوس کہ ہمارے حکمران تاریخ سے سبق سیکھنے کے بجائے اسے دہرانے پر مصر دکھائی دیتے ہیں۔
1975 میں ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت نے اس وقت کے صوبہ سرحد میں گورنر راج نافذ کیا۔ 1994 میں بے نظیر بھٹو کی حکومت نے مسلم لیگ ن کی صوبائی حکومت ختم کی، جس کے بعد بالآخر پیپلز پارٹی کا وزیراعلیٰ اقتدار میں آیا۔
پھر 2009 کا وہ دور بھی آیا جب صدر آصف علی زرداری نے پنجاب میں گورنر راج نافذ کرکے شہباز شریف کی حکومت کو اقتدار سے الگ کر دیا۔
آج تاریخ کی ستم ظریفی دیکھیے کہ وہی آصف علی زرداری اور شہباز شریف ایک دوسرے کے اتحادی بن کر ایک اور صوبائی حکومت کے خلاف غیر معمولی آئینی اقدام کا دفاع کر رہے ہیں۔
چہرے بدل جاتے ہیں، اتحاد بدل جاتے ہیں، اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھنے والے بدل جاتے ہیں، مگر سیاسی مخالفین کو کمزور کرنے کے لیے اختیارات استعمال کرنے کی روایت نہیں بدلتی۔
آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 232 اور 234 ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے اختیارات ضرور فراہم کرتے ہیں، لیکن ان کے استعمال کے لیے شرائط، حدود اور پارلیمانی نگرانی بھی مقرر کرتے ہیں۔
اصل سوال یہ نہیں کہ آئین میں گورنر راج کی گنجائش موجود ہے یا نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا اس کے نفاذ کے لیے ضروری آئینی شرائط پوری کی گئیں؟ کیا تمام قانونی تقاضوں کا احترام کیا گیا؟ اور کیا یہ انتہائی اقدام واقعی ناگزیر تھا؟
ان سوالات کا جواب محض حکومتی بیانات نہیں بلکہ آزادانہ عدالتی جانچ اور آئینی احتساب ہونا چاہیے۔
آئین کا اصل امتحان اپنے حامیوں کو تحفظ دینا نہیں، بلکہ اپنے سیاسی مخالفین کے حقوق کا تحفظ کرنا ہے۔
شہباز شریف، بلاول بھٹو زرداری اور آصف علی زرداری کو یہ حقیقت فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ اقتدار کسی کی مستقل جاگیر نہیں۔ آج جو سیاسی اور آئینی نظیریں قائم کی جا رہی ہیں، کل وہی کسی دوسری حکومت کے ہاتھوں انہی کے خلاف استعمال ہو سکتی ہیں۔
اگر منتخب حکومتوں کو غیر معمولی اختیارات کے ذریعے غیر مؤثر کرنے کی روایت مضبوط ہوتی گئی تو پھر انتخابات، عوامی مینڈیٹ اور جمہوری اداروں کی حیثیت کیا رہ جائے گی؟
پاکستان کو سیاسی انتقام کے تسلسل کی نہیں بلکہ آئین کی بالادستی، آزاد اداروں اور حکمرانوں کے احتساب کی ضرورت ہے۔
اقتدار کے نشے میں خود کو ناقابلِ شکست سمجھنے والوں کو تاریخ کا مطالعہ ضرور کرنا چاہیے۔ کیونکہ اقتدار بدلتا ہے، تخت بدلتے ہیں، حکمران بدلتے ہیں، مگر ان کے قائم کردہ غلط سیاسی نظائر باقی رہ جاتے ہیں۔
یاد رکھیے! آج جو اصول آپ اپنے مخالفین کو دبانے کے لیے قائم کر رہے ہیں، کل انہی اصولوں کی زد میں آپ خود بھی آ سکتے ہیں۔
تاریخ کا سب سے بڑا سبق یہی ہے کہ جو حکمران تاریخ سے سبق نہیں سیکھتے، وہ بالآخر خود تاریخ کا سبق بن جاتے ہیں۔




