تحریر: آصف سلیم مٹھا
رواں ماہ اردو ادب، صحافت اور جاسوسی ادب کے ایک ایسے عظیم لکھاری کی پانچویں برسی ہے جس نے اپنی پوری زندگی قلم کو پاکستان کی آواز بنانے کے لیے وقف کردی۔ طارق اسماعیل ساگر محض ایک ادیب، صحافی، کالم نگار یا تجزیہ نگار نہیں تھے، وہ ایک ایسے قلمی سپاہی تھے جنہوں نے اپنی تحریروں کے ذریعے کروڑوں پاکستانیوں کے جذبات، احساسات اور قومی امنگوں کو زبان دی اور بھارت کی پالیسیوں اور پاکستان کے خلاف سرگرمیوں کو اپنی تحریروں کا موضوع بنایا۔
آج ان کی پانچویں برسی پر میرا مطالبہ صرف یہ نہیں کہ انہیں یاد کیا جائے، ان کی تصویر پر پھول چڑھائے جائیں یا دو تعزیتی جملے لکھ دیے جائیں۔ میرا واضح اور دوٹوک مطالبہ ہے کہ حکومتِ پاکستان طارق اسماعیل ساگر کی قومی، ادبی، صحافتی اور تحقیقی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے انہیں بعد از وفات سرکاری اعزاز سے نوازے۔
یہ ان پر کوئی احسان نہیں ہوگا۔
یہ پاکستان کے ایک ایسے سپوت کے ساتھ انصاف ہوگا جس نے اپنی زندگی پاکستان کے نام کردی۔
طارق اسماعیل ساگر سے میرا تعلق محض ایک قاری اور لکھاری کا نہیں تھا۔ یہ میرے لیے ایک ذاتی اور جذباتی باب ہے۔
میری خوش قسمتی ہے کہ روزنامہ نوائے وقت کے مدیر اعلیٰ جناب مجید نظامی صاحب تک میرا تعارف غلام حیدر وائیں اور اقبال احمد خان جیسے عظیم لوگوں نے کروایا۔ مگر اگر میں اپنی صحافتی اور ادبی زندگی کی بات کروں تو ایک نام ایسا ہے جسے میں کبھی فراموش نہیں کرسکتا۔
طارق اسماعیل ساگر صاحب۔
مجھے قلم پکڑنے کا سلیقہ سکھانے والوں میں ساگر صاحب کا مقام سب سے جدا تھا۔ بطور لکھاری مجھے سنوارنے اور آگے بڑھانے میں بہت سے اساتذہ اور بزرگوں کا تعاون شامل رہا، میں ان سب کا تہہ دل سے احترام کرتا ہوں، لیکن ساگر صاحب کی بات ہی اور تھی۔
انہوں نے صرف لکھنا نہیں سکھایا، لکھنے کا حوصلہ دیا۔
انہوں نے صرف الفاظ نہیں دیے، الفاظ کی طاقت سمجھائی۔
انہوں نے صرف قلم نہیں پکڑایا، قلم کی ذمہ داری کا احساس دلایا۔
شاید اسی لیے آج جب ان کی پانچویں برسی آئی ہے تو میں خاموش نہیں رہ سکتا۔
طارق اسماعیل ساگر محض جاسوسی ناول نگار نہیں تھے۔ وہ ایک عہد تھے۔ ایک ادارہ تھے۔ ایک ایسا قلم تھے جس نے کئی دہائیوں تک پاکستانی قارئین کو عالمی سیاست، خفیہ ایجنسیوں، جنگوں، دہشت گردی، قومی سلامتی، علاقائی سیاست اور پاکستان کے خلاف ہونے والی سازشوں کی پیچیدہ دنیا سے روشناس کرایا۔
انہوں نے ایسے موضوعات کو اردو کے عام قاری تک پہنچایا جن تک اس زمانے میں رسائی آسان نہیں تھی۔ آج انٹرنیٹ پر چند سیکنڈ میں دنیا بھر کی معلومات حاصل ہوجاتی ہیں، مگر ساگر صاحب جس دور میں لکھ رہے تھے، اس وقت معلومات اکٹھی کرنا، ان کا مطالعہ کرنا اور انہیں ایک مربوط داستان میں ڈھالنا آسان کام نہیں تھا۔
اسی محنت نے انہیں مقبول بنایا۔
’’میں ایک جاسوس تھا‘‘، ’’چناروں کے آنسو‘‘، ’’کہساروں کی آگ‘‘، ’’وطن کی مٹی گواہ رہنا‘‘، ’’کمانڈو‘‘، ’’لہو کا سفر‘‘، ’’کریک ڈاؤن‘‘، ’’کراس فائر‘‘، ’’ڈبل کراس‘‘، ’’کورٹ مارشل‘‘، ’’دہشت گرد‘‘، ’’جاسوس کیسے بنتے ہیں‘‘، ’’بلوچستان کا آتش فشاں‘‘، ’’بلیک واٹر‘‘، ’’ڈرگ مافیا‘‘، ’’لال مسجد‘‘، ’’ٹارگٹ کہوٹہ‘‘، ’’شکنجہ‘‘، ’’محاصرہ‘‘، ’’گرفت‘‘، ’’یلغار‘‘، ’’سازش‘‘، ’’تھرڈ ایجنسی‘‘، ’’افغانستان پر کیا گزری‘‘ اور ’’پاکستان عالمی سازش کے نرغے میں‘‘ سمیت ان کی متعدد تصانیف نے اردو کے قارئین میں غیر معمولی مقبولیت حاصل کی۔
ان کی تحریروں میں کہانی کا تجسس بھی تھا، صحافت کی کاٹ بھی، تجزیہ نگاری کا رنگ بھی اور وطن سے محبت کا جذبہ بھی۔
انہوں نے ہندوستان کی پالیسیوں، خطے کی سیاست، خفیہ اداروں، جنگوں اور پاکستان کے خلاف سرگرمیوں کو مسلسل اپنی تحریروں کا حصہ بنایا۔ ’’را‘‘، ’’مکتی باہنی‘‘، بلوچستان، افغانستان، عالمی طاقتیں اور خفیہ ایجنسیاں جیسے موضوعات ان کے قلم سے بارہا سامنے آئے۔
ان کا انداز ایسا تھا کہ ایک عام قاری بھی مشکل ترین موضوع کو سمجھنے کی کوشش کرتا تھا۔ یہی کسی مقبول لکھاری کی اصل طاقت ہوتی ہے۔
اور آج سوال یہ ہے:
ایسے لکھاری کے لیے ریاست کے پاس کیا ہے؟
کیا ایک سرکاری اعزاز بھی نہیں؟
کیا طارق اسماعیل ساگر اس ملک کے لیے اتنا بھی نہیں لکھ گئے کہ ان کی خدمات کو سرکاری سطح پر تسلیم کیا جائے؟
ریاست کہاں ہے؟
جس ملک کے لیے انہوں نے اپنی زندگی کے بہترین سال کتابیں لکھتے، کالم تحریر کرتے اور قومی موضوعات پر قلم اٹھاتے گزار دیے، کیا اس ملک کے پاس اپنے اس قلمی سپاہی کے لیے ایک اعزاز بھی نہیں؟
یہ سوال صرف حکومتِ پاکستان سے نہیں، ان اداروں سے بھی ہے جو قومی اعزازات کے لیے ناموں کی سفارش کرتے ہیں۔
طارق اسماعیل ساگر کو سرکاری اعزاز کیوں نہیں دیا گیا؟
اگر ان کی خدمات سرکاری اعزاز کے قابل نہیں تو پھر ہمیں بتایا جائے کہ قومی اعزاز کا معیار آخر ہے کیا؟
ہم نے عجیب نظام بنا لیا ہے۔ کبھی اصل ہیروں کو مٹی میں دبا دیا جاتا ہے اور معمولی پتھروں کو الماس بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ جن لوگوں نے پوری زندگی قوم کے لیے لکھا، کتابیں تخلیق کیں، صحافت کی، نسلوں کی فکری تربیت کی، انہیں مرنے کے بعد بھی بھلا دیا جاتا ہے، جبکہ ’’شیدوں میدوں‘‘ کو درجنوں سرکاری اعزازات دینے میں کوئی قباحت محسوس نہیں کی جاتی۔
یہ صرف طارق اسماعیل ساگر کے ساتھ ناانصافی نہیں، یہ قلم کے ساتھ ناانصافی ہے۔
یہ کتاب کے ساتھ ناانصافی ہے۔
یہ ادب کے ساتھ ناانصافی ہے۔
یہ صحافت کے ساتھ ناانصافی ہے۔
اور سب سے بڑھ کر یہ نئی نسل کے ساتھ ناانصافی ہے۔
ہم نوجوانوں سے کہتے ہیں کہ کتاب پڑھو، لکھو، تحقیق کرو، ملک کے لیے کام کرو، قلم کو طاقت بناؤ۔ لیکن جب کوئی شخص پوری زندگی یہی کرتا ہے اور پھر دنیا سے رخصت ہوجاتا ہے تو ریاستی نظام اس کی خدمات کو بھلا دیتا ہے۔
پھر ہم حیران ہوتے ہیں کہ نوجوان کتاب سے دور کیوں ہوگئے؟
کیونکہ ہم نے کتاب لکھنے والے کو عزت دینا چھوڑ دی ہے۔
ہم نے قلم کار کو پہچاننے کے بجائے سفارش کو پہچان لیا ہے۔
ہم نے میرٹ کے بجائے تعلقات کو اہمیت دی ہے۔
اور پھر شکوہ کرتے ہیں کہ پاکستان کا ٹیلنٹ بیرون ملک کیوں چلا جاتا ہے۔
طارق اسماعیل ساگر کے بعض سیاسی یا تجزیاتی مؤقف سے اختلاف کیا جاسکتا ہے۔ ہر بڑے لکھاری سے اختلاف کی گنجائش ہوتی ہے۔ مگر اختلاف کسی لکھاری کی مجموعی خدمات کو ختم نہیں کردیتا۔
قومیں اپنے ادیبوں کو اس لیے عزت نہیں دیتیں کہ وہ ہر بات میں درست ثابت ہوئے تھے۔ قومیں انہیں اس لیے یاد رکھتی ہیں کہ انہوں نے سوچا، لکھا، سوال اٹھائے، بحث پیدا کی اور معاشرے کو متاثر کیا۔
طارق اسماعیل ساگر نے یہ سب کیا۔
اس لیے آج ان کی پانچویں برسی پر صرف تعزیت کافی نہیں۔
عملی فیصلہ چاہیے۔
حکومتِ پاکستان، صدرِ پاکستان اور متعلقہ قومی اداروں کو چاہیے کہ طارق اسماعیل ساگر کی مکمل ادبی، صحافتی اور تحقیقی خدمات کا جائزہ لیا جائے اور انہیں بعد از وفات مناسب سرکاری، بالخصوص صدارتی اعزاز دینے کا اعلان کیا جائے۔
ان کی تمام تصانیف کو سرکاری لائبریریوں میں محفوظ کیا جائے۔
ان کے نام سے ادبی ایوارڈ قائم کیا جائے۔
ان کی زندگی اور خدمات پر مستند کتاب شائع کی جائے۔
ان کے کالمز، مضامین، ناولز اور دیگر تحریری سرمایہ محفوظ کیا جائے۔
اور ان کے ادبی ورثے کا باقاعدہ ڈیجیٹل آرکائیو قائم کیا جائے تاکہ آنے والی نسلیں بھی اس قلم کار سے واقف رہیں۔
یہ مطالبہ کسی سیاسی جماعت کا نہیں۔
یہ کسی گروہ کا مطالبہ نہیں۔
یہ کسی ذاتی مفاد کا مطالبہ نہیں۔
یہ قلم کا مطالبہ ہے۔
یہ کتاب کا مطالبہ ہے۔
یہ ادب کا مطالبہ ہے۔
یہ صحافت کا مطالبہ ہے۔
اور یہ ان لاکھوں قارئین کا مطالبہ ہے جنہوں نے طارق اسماعیل ساگر کو پڑھا، ان سے متاثر ہوئے اور ان کی کتابوں سے مطالعے کا ذوق حاصل کیا۔
میں ذاتی طور پر یہ سمجھتا ہوں کہ اگر طارق اسماعیل ساگر جیسے استاد نے مجھے قلم پکڑنے اور لکھنے کا حوصلہ دیا تو میرے لیے ان کی پانچویں برسی پر سب سے بڑا خراجِ عقیدت یہی ہے کہ میں ان کے لیے آواز بلند کروں۔
ساگر صاحب! آپ نے مجھے قلم دیا تھا، آج میں اسی قلم سے آپ کا حق مانگ رہا ہوں۔
آپ نے لکھنا سکھایا تھا، آج میں لکھ کر ریاست سے پوچھ رہا ہوں:
آپ کا قلمی سپاہی کب یاد آئے گا؟
آج طارق اسماعیل ساگر کی پانچویں برسی ہے۔
آج سوال ان کے خاندان سے نہیں، ریاست سے ہے۔
آج سوال ان کے قارئین سے نہیں، حکومت سے ہے۔
آج سوال ادب سے نہیں، اعزازات کے نظام سے ہے۔
اگر طارق اسماعیل ساگر سرکاری اعزاز کے مستحق تھے تو اب تک کیوں نہیں؟
اور اگر نہیں تھے تو پھر ہمیں بتایا جائے کہ قومی اعزاز کے لیے وہ کون سا معیار ہے جو اس شخص پر پورا نہیں اترتا جس نے اپنی زندگی کتاب، قلم، صحافت اور پاکستان کے نام کردی؟
ہم اپنے ہاتھوں اپنے ٹیلنٹ کو دفن کرتے رہیں گے تو دنیا میں اپنا وقار کیسے قائم کریں گے؟
ریاستیں صرف میزائلوں، سڑکوں، عمارتوں اور معاشی اعداد و شمار سے مضبوط نہیں ہوتیں۔
ریاستیں اپنے دانش وروں، ادیبوں، سائنس دانوں، صحافیوں اور قلم کاروں کی عزت سے بھی مضبوط ہوتی ہیں۔
طارق اسماعیل ساگر چلے گئے، مگر اپنا قلم چھوڑ گئے۔
اب فیصلہ حکومت نے کرنا ہے کہ وہ اس قلم کو قومی اعزاز دے کر تاریخ میں زندہ رکھتی ہے یا اسے سرکاری فائلوں کی گرد میں دفن کردیتی ہے۔
حکومتِ پاکستان!
طارق اسماعیل ساگر کو بعد از مرگ سرکاری اعزاز دے۔
یہ کسی فرد پر احسان نہیں ہوگا۔
یہ پاکستان کے قلم، ادب، صحافت اور تاریخ کے ساتھ انصاف ہوگا۔




