لاہور: انسداد دہشت گردی عدالت نے پاکستان تحریک انصاف کے رہنما حماد اظہر کو 20 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا۔
انسداد دہشتگردی کی عدالت کے جج ملک عابد حسین نے سماعت کی، پراسیکیوشن نے بتایا کہ حماد اظہر کی نو مئی کو جناح ہاوس حملہ کیس میں گرفتاری ڈالی گئی ہے، حماد اظہر کے وکیل نے بتایا کہ نو مئی کو حماد اظہر گواجرانولہ میں تھے موقع پر موجود نہیں تھے۔
حماد اظہر کے وکیل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ عدالت جیو فینسنگ سے بھی ملزم کی لوکیشن چیک کر سکتی ہے، اس پر پراسیکیوشن نے بتایا کہ ملزم مقدمے میں نامزد ہے، تفتیش کے لیے جسمانی ریمانڈ درکار ہے، ملزم کا فوٹو گرامٹک ٹیسٹ ،انتشار پھیلانے والا موبائل ریکور کرنا ہے۔
پراسیکیوشن نے کہا کہ ملزم کے سوشل میڈیا اکاونٹس جن سے انتشاری مہم چلائی گئی وہ بھی ریکور کرنے ہیں، وکیل حماد اظہر نے مؤقف اپنایا کہ سوشل میڈیا اکاؤنٹس، فوٹو گرامٹک ٹیسٹ کرانے کےلیے تیار ہیں، مستقبل میں انے والے شواہد کی بنیاد پر ریمانڈ نہیں دیا جاسکتا۔
وکیل حماد اظہر نے کہا کہ حماد اظہر ایک سابق وفاقی وزیر رہ چکے ہیں، انہیں جس انداز میں ہتھکڑیاں لگا کر، چہرے پر کپڑا ڈال کر لایا وہ بہت تکلیف دہ ہے ۔
انسداد دہشت گردی عدالت کے جج نے کہا کہ کسی سے وہ سلوک نہ کریں کہ زندگی میں جب دوبارہ ملاقات ہو تو اپ کو شرمندگی اٹھانا پڑے۔
تحریک انصاف کے رہنما حماد اظہر کو گزشتہ روز ملتان سے گرفتار کیا گیا تھا مگر لاہور پولیس کی جانب سے حماد اظہر کی باقاعدہ گرفتاری آج ڈالی گئی ہے۔
دوسری جانب حماد اظہر کی والدہ عشر اظہر نے لاہور ہائیکورٹ میں حماد اظہر کی بازیابی کے لیے درخواست کر دی ہے۔




