کالم: آصف سلیم مٹھا
پاکستان میں ایک بار پھر آئین کے نام پر ایک نیا سیاسی بھونچال برپا کرنے کی تیاریاں دکھائی دے رہی ہیں۔ سوشل میڈیا اور بعض صحافتی ذرائع پر 28ویں آئینی ترمیم کا ایک مبینہ مسودہ گردش کر رہا ہے، جس میں صدارتی نظام، نئے صوبوں، قومی اسمبلی کے خاتمے، سینیٹ کو واحد وفاقی قانون ساز ایوان بنانے، بااختیار بلدیاتی نظام اور ریاستی اداروں کو آئین و قانون کا پابند بنانے جیسی تجاویز شامل ہیں۔ مگر سب سے بنیادی سوال یہ ہے کہ یہ مسودہ حقیقت ہے یا ایک اور سیاسی تماشا؟
اگر یہ جعلی ہے تو حکومت کو فوری طور پر قوم کے سامنے آکر اس کی تردید کرنی چاہیے، اور اگر یہ حقیقی ہے تو پھر اسے بند کمروں میں رکھنے کے بجائے پارلیمنٹ، سیاسی جماعتوں، صوبوں، آئینی ماہرین اور عوام کے سامنے پیش کیا جانا چاہیے۔ پاکستان کوئی ایسی تجربہ گاہ نہیں جہاں جب جس حکمران یا طاقتور حلقے کا دل چاہے، پورے ملک کے نظام کو نئے سرے سے ڈیزائن کر دیا جائے۔
ہماری قومی بدقسمتی یہ ہے کہ جب ملک میں مہنگائی ہو، نوجوان بے روزگار ہوں، بجلی کے بل عوام کی کمر توڑ رہے ہوں، تعلیم اور صحت زبوں حالی کا شکار ہوں اور عام آدمی دو وقت کی روٹی کے لیے پریشان ہو تو حکمرانوں کے پاس اچانک آئین بدلنے کا وقت نکل آتا ہے۔ عوام پوچھ رہے ہیں کہ ہماری زندگی کب بدلے گی؟ مگر اقتدار کے ایوانوں میں بحث یہ ہوتی ہے کہ صدر کتنا طاقتور ہو، صوبے کتنے ہوں اور کون سا ایوان ختم کیا جائے۔
یہ بھی عجیب تماشا ہے کہ پاکستان میں ہر چند سال بعد ہمیں بتایا جاتا ہے کہ موجودہ نظام ناکام ہے اور نیا نظام ملک کو ترقی کی شاہراہ پر ڈال دے گا۔ کبھی صدارتی نظام نجات دہندہ بنتا ہے، کبھی پارلیمانی نظام، کبھی نئے صوبے، کبھی نئے انتظامی ڈھانچے اور کبھی احتساب کا نیا فارمولہ۔ لیکن دہائیاں گزر گئیں، نظام بدلتے رہے، آئینی ترامیم آتی رہیں، حکمران بدلتے رہے، مگر عام پاکستانی کی مشکلات وہیں کی وہیں رہیں۔
مسئلہ صرف نظام کا نہیں، نظام چلانے والوں کا بھی ہے۔
اگر ایک شخص کو صدر بنا کر غیر معمولی اختیارات دے دیے جائیں لیکن ادارے کمزور رہیں، احتساب سیاسی مفادات کے تابع ہو، انتخابات پر سوالات اٹھتے رہیں، پارلیمنٹ اپنی حقیقی ذمہ داری ادا نہ کرے اور قانون طاقتور کے لیے الگ اور کمزور کے لیے الگ ہو تو صدارتی نظام بھی عوام کو کوئی معجزہ نہیں دے سکتا۔ اسی طرح پارلیمانی نظام اپنی جگہ بہترین ہو سکتا ہے، لیکن اگر حکمران آئین کو اپنی مرضی کے مطابق استعمال کریں تو وہ بھی عوام کے مسائل حل نہیں کرسکتا۔
مبینہ مسودے میں سب سے اہم بات یہ لکھی گئی ہے کہ “تمام ریاستی ادارے آئین اور قانون کے تابع ہوں گے۔”
یہ جملہ بلاشبہ سننے میں بہت خوبصورت ہے، مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہ اصول پہلے ہی آئین میں موجود نہیں؟ اگر موجود ہے تو پھر اصل ضرورت ایک نئی شق لکھنے کی نہیں بلکہ پہلے سے موجود آئینی اصول پر عمل کرانے کی ہے۔ پاکستان کو نئی نئی آئینی عبارتوں سے زیادہ آئین کی بالادستی اور اس پر بلاامتیاز عملدرآمد کی ضرورت ہے۔
ریاستی ادارے اگر واقعی آئین کے تابع ہوجائیں، پارلیمنٹ قانون سازی کا حقیقی مرکز بن جائے، عدلیہ آزاد ہو، انتخابات شفاف ہوں، بیوروکریسی سیاسی دباؤ سے آزاد ہو اور ہر طاقتور شخص قانون کے سامنے جواب دہ ہو تو پاکستان کو بار بار نظام تبدیل کرنے کی ضرورت ہی نہیں پڑے گی۔
نئے صوبوں کی تجویز بھی اپنی جگہ سنجیدہ قومی بحث کی متقاضی ہے۔ پنجاب کو شمالی پنجاب، وسطی پنجاب، جنوبی پنجاب، پوٹھوہار اور بہاولپور؛ سندھ کو کراچی، حیدرآباد، میرپورخاص، سکھر اور لاڑکانہ؛ خیبر پختونخوا کو پشاور، ہزارہ، ملاکنڈ اور ڈیرہ اسماعیل خان اور بلوچستان کو کوئٹہ، مکران، ژوب اور قلات میں تقسیم کرنے کی تجویز انتظامی بنیادوں پر زیرِ بحث آسکتی ہے۔ بڑے صوبوں کو انتظامی طور پر چھوٹا کرنا بعض حالات میں عوام کے لیے بہتر حکمرانی، متوازن ترقی اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
لیکن سوال یہ ہے کہ کیا نئے صوبے عوامی سہولت کے لیے بنیں گے یا نئی سیاسی جاگیرداریاں پیدا کرنے کے لیے؟
نیا صوبہ صرف نقشے پر لکیر کھینچنے کا نام نہیں۔ اس کے لیے نئی اسمبلیاں، نئے محکمے، نئی بیوروکریسی، نئے گورنر، نئے وزراء، نئے سیکریٹریٹ اور اربوں روپے کے اخراجات درکار ہوں گے۔ قوم کو یہ بتایا جانا چاہیے کہ ان تبدیلیوں کا مالی بوجھ کون اٹھائے گا اور عام شہری کو اس کے بدلے میں کیا ملے گا۔
اگر واقعی مقصد عوامی سہولت ہے تو پھر اس بحث کا خیرمقدم ہونا چاہیے۔ لیکن اگر مقصد صرف اقتدار کی نئی تقسیم، سیاسی وفاداریوں کی خریدوفروخت اور نئی اشرافیہ پیدا کرنا ہے تو قوم کو ایسے منصوبے قبول نہیں کرنے چاہئیں۔
اس مبینہ مسودے کا سب سے قابلِ غور پہلو بلدیاتی نظام ہے۔ ضلع ناظم کا براہِ راست انتخاب، ترقیاتی فنڈز کی براہِ راست منتقلی اور اختیارات کو نچلی سطح تک پہنچانے کی تجویز حقیقتاً پاکستان کے انتظامی مسائل کا ایک ممکنہ حل ہوسکتی ہے۔ مگر یہاں بھی اصل سوال یہی ہے کہ کیا صوبائی حکومتیں واقعی اختیار عوام کے منتخب نمائندوں کو دینے کے لیے تیار ہیں؟
پاکستان میں ہر حکومت بلدیاتی نظام کا نعرہ لگاتی ہے، لیکن اقتدار میں آکر اختیارات اپنے ہاتھ میں رکھنا چاہتی ہے۔ صوبائی حکومتیں ضلعی اداروں کو مکمل اختیار نہیں دیتیں، ضلعی انتظامیہ منتخب نمائندوں کے سامنے جواب دہ نہیں ہوتی اور ترقیاتی فنڈز سیاسی اثر و رسوخ کے ذریعے تقسیم ہوتے ہیں۔ اگر بلدیاتی اداروں کو واقعی آئینی تحفظ، مالی خودمختاری اور انتظامی اختیار مل جائے تو عوام کے بہت سے مسائل اسلام آباد یا صوبائی دارالحکومت جانے کے بغیر اپنے ضلع اور تحصیل میں حل ہوسکتے ہیں۔
لیکن پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہر طاقتور طبقہ اختیار نیچے منتقل کرنے کی بات تو کرتا ہے، مگر اختیار چھوڑنا نہیں چاہتا۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ آئینی ترامیم کو سیاسی مفادات کی عینک سے نہیں بلکہ قومی مفاد کے ترازو میں تولا جائے۔ اگر صدارتی نظام بہتر ہے تو دلیل کے ساتھ ثابت کیا جائے۔ اگر نئے صوبے ضروری ہیں تو مکمل انتظامی اور مالی منصوبہ سامنے لایا جائے۔ اگر قومی اسمبلی ختم کرنی ہے تو قوم کو بتایا جائے کہ اس کے جمہوری اثرات کیا ہوں گے۔ اگر سینیٹ کو واحد قانون ساز ایوان بنانا ہے تو اس کے فوائد اور نقصانات پر کھلی بحث کی جائے۔ اور اگر بلدیاتی نظام کو طاقتور بنانا ہے تو پھر صرف آئینی الفاظ نہیں، پیسہ، اختیار اور ذمہ داری بھی نچلی سطح تک منتقل کی جائے۔
پاکستان کو اب مزید سیاسی تجربہ گاہ بنانے کی ضرورت نہیں۔
ہم نے آمریت بھی دیکھی، پارلیمانی حکومتیں بھی دیکھیں، صدارتی تجربات بھی دیکھے، مارشل لا بھی دیکھے، عبوری حکومتیں بھی دیکھیں، آئینی ترامیم بھی دیکھیں اور احتساب کے بے شمار فارمولے بھی دیکھے۔ مگر عوام آج بھی پوچھ رہے ہیں:
روزگار کہاں ہے؟
سستی بجلی کہاں ہے؟
معیاری تعلیم کہاں ہے؟
صحت کی سہولت کہاں ہے؟
انصاف کہاں ہے؟
امن کہاں ہے؟
یہی وہ سوال ہیں جن کا جواب کسی بھی نئی آئینی ترمیم کی اصل کامیابی یا ناکامی طے کرے گا۔
لہٰذا حکومت اور تمام سیاسی قوتوں کو یہ بات سمجھنی ہوگی کہ پاکستان کو نئی عبارتوں سے زیادہ ایک نیا سیاسی رویہ درکار ہے۔
ریاست شخصیات سے بڑی ہونی چاہیے، آئین حکمرانوں سے بڑا ہونا چاہیے، پارلیمنٹ کسی فرد یا خاندان کی جاگیر نہیں ہونی چاہیے، عدالت کسی حکومت کے دباؤ میں نہیں ہونی چاہیے، فوج اور تمام ریاستی ادارے اپنی آئینی حدود میں رہنے چاہئیں، بیوروکریسی عوام کی خادم ہونی چاہیے اور بلدیاتی ادارے محض انتخابی نعرہ نہیں بلکہ حقیقی اقتدار کی نچلی سطح ہونی چاہیے۔
اور سب سے اہم بات یہ کہ قانون کی نظر میں طاقتور اور کمزور برابر ہونے چاہئیں۔
اگر 28ویں آئینی ترمیم کا یہ مسودہ محض افواہ ہے تو حکومت قوم کو حقیقت بتائے۔ اگر یہ حقیقی ہے تو اسے چھپانے کے بجائے کھلے عام بحث کے لیے پیش کیا جائے۔ قوم کو اندھیرے میں رکھ کر آئین کے ساتھ کوئی نیا تجربہ نہ کیا جائے۔
کیونکہ پاکستان کے عوام اب تماشائی نہیں رہے۔
وہ سب کچھ دیکھ رہے ہیں۔
وہ جانتے ہیں کہ مسئلہ صرف یہ نہیں کہ صدر کتنا طاقتور ہوگا یا صوبے کتنے ہوں گے۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ کیا عام پاکستانی طاقتور ہوگا؟
اگر نئی ترمیم کے بعد بھی طاقتور شخص قانون سے بالاتر ہوگا، نوجوان بے روزگار ہوگا، غریب بجلی کے بل سے پریشان ہوگا، تعلیم عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہوگی اور انصاف سالہا سال عدالتوں میں بھٹکتا رہے گا تو پھر آئین کی کتنی ہی ترامیم کرلیں، تاریخ کا فیصلہ ایک ہی ہوگا:
نظام بدلا، مگر پاکستان نہیں بدلا۔
اب وقت آگیا ہے کہ آئینی ترامیم کے نام پر تماشے بند کیے جائیں اور پاکستان کو تجربہ گاہ کے بجائے ایک مستحکم، جمہوری، آئینی اور قانون کی حکمرانی والی ریاست بنایا جائے۔
آئین سب سے بالاتر ہو، قانون سب کے لیے برابر ہو اور ریاست کسی فرد، خاندان یا ادارے کی نہیں بلکہ عوام کی ہو۔
ورنہ سوال پھر یہی رہے گا:
ہمارے ملک میں یہ تماشے آخر کب بند ہوں گے؟



