عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جہاں برینٹ کروڈ کی قیمت 106 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی۔ اس اضافے کی بڑی وجہ آبنائے ہرمز میں امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی بتائی جا رہی ہے۔
بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان تجارتی جہازوں کی پکڑ دھکڑ اور جوابی اقدامات کے باعث صورتحال مزید سنگین ہو گئی ہے، جس کے نتیجے میں عالمی توانائی کی ترسیل متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
برینٹ کروڈ کی قیمت تقریباً 5 فیصد اضافے کے ساتھ 106.80 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جو گزشتہ دو ہفتوں میں پہلی بار 100 ڈالر سے اوپر گئی ہے۔
ادھر امریکی صدر ٹرمپ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کو امریکی بحریہ کی اجازت درکار ہوگی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر ایرانی کشتیاں بارودی سرنگیں بچھاتی ہوئیں پائی گئیں تو انہیں تباہ کر دیا جائے گا۔
ایرانی پاسداران انقلاب کی جانب سے بھی دو غیر ملکی تجارتی جہازوں کو قبضے میں لینے کا دعویٰ کیا گیا ہے، جس کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔
ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز دنیا کی تیل اور گیس کی تقریباً پانچواں حصہ ترسیل کرنے والا اہم راستہ ہے، اور یہاں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی معیشت پر براہِ راست اثر ڈال سکتی ہے۔




