مشرقِ وسطیٰ کی نئی جنگ اور پاکستان کا کردار

asif saleem mitha

تجزیہ آصف سلیم مٹھا
ایڈیٹر نوائےجنگ لندن

مشرقِ وسطیٰ ایک مرتبہ پھر جنگ کے دہانے پر کھڑا ہے۔ ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی اب صرف بیانات تک محدود نہیں رہی بلکہ میزائلوں، ڈرون حملوں اور فضائی بمباری کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ چند ہی دنوں میں خطے کے کئی ممالک اس تصادم کی لپیٹ میں آ گئے ہیں اور عالمی سیاست میں ایک نئی ہلچل پیدا ہو گئی ہے۔
یہ تنازع اس وقت شدت اختیار کر گیا جب امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے فوجی اور جوہری تنصیبات پر بڑے پیمانے پر حملے شروع کیے۔ اس کے جواب میں ایران نے فوری طور پر “آپریشن ٹرو پرومس IV” کے نام سے جوابی کارروائی کا اعلان کیا اور اسرائیل کے ساتھ ساتھ خلیج میں موجود امریکی مفادات کو نشانہ بنایا۔
ایرانی حملے صرف اسرائیل تک محدود نہیں رہے بلکہ خطے میں موجود متعدد امریکی اڈوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ دستیاب معلومات کے مطابق ایران نے کم از کم چار بڑے امریکی اڈوں کو میزائل اور ڈرون حملوں کا ہدف بنایا، جن میں قطر کا العدید ایئر بیس، کویت کا علی السالم ایئر بیس، متحدہ عرب امارات کا الظفرہ ایئر بیس اور بحرین میں امریکی بحریہ کے ففتھ فلیٹ ہیڈکوارٹر شامل ہیں۔
ان حملوں کے ساتھ ساتھ ایران نے خلیجی ممالک کے مختلف علاقوں اور اسرائیلی شہروں تل ابیب اور حیفہ کی طرف بھی میزائل داغے۔ بعض رپورٹس کے مطابق سینکڑوں ڈرون اور درجنوں بیلسٹک میزائل استعمال کیے گئے جن میں سے بڑی تعداد کو امریکی اور اتحادی دفاعی نظام نے فضا ہی میں تباہ کر دیا۔
جانی نقصان کے حوالے سے بھی صورتحال سنگین ہے۔ ابتدائی اندازوں کے مطابق ایران میں امریکی اور اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں 1300 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ اسرائیل میں کم از کم 11 افراد مارے گئے ہیں۔ اس جنگ میں چھ امریکی فوجی بھی ہلاک ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے۔
یہ جنگ صرف فوجی نہیں بلکہ سیاسی سطح پر بھی گہرے اثرات چھوڑ رہی ہے۔ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو داخلی سطح پر شدید تنقید کا سامنا ہے۔ امریکی کانگریس کے بعض ارکان اور سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ براہ راست جنگ امریکہ کو ایک طویل اور مہنگے تنازع میں دھکیل سکتی ہے، جس کے اثرات امریکی معیشت اور سیاست دونوں پر پڑیں گے۔ دوسری طرف ٹرمپ انتظامیہ اس جنگ کو ایران کے جوہری پروگرام کو روکنے کے لیے ضروری قرار دے رہی ہے۔
اس تنازع کا ایک اہم پہلو اسرائیلی قیادت بھی ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو اس وقت انتہائی سخت سکیورٹی ماحول میں کام کر رہے ہیں اور زیادہ تر وقت زیرِ زمین کمانڈ مراکز میں جنگی بریفنگز میں مصروف ہیں۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ جنگ ابھی اپنے ابتدائی مرحلے میں ہے اور آنے والے دنوں میں مزید کارروائیاں ہو سکتی ہیں۔
اس جنگ کا سب سے حساس پہلو پاکستان کے لیے سفارتی توازن کا مسئلہ ہے۔ پاکستان کے ایران کے ساتھ مذہبی اور سرحدی تعلقات بھی ہیں اور امریکہ کے ساتھ دفاعی و سفارتی روابط بھی۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد اس بحران میں محتاط پالیسی اختیار کر رہا ہے۔
پاکستانی حکومت کی بنیادی کوشش یہی ہے کہ جنگ پھیلنے نہ پائے اور سفارتی راستہ اختیار کیا جائے۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی روایتی طور پر مشرقِ وسطیٰ میں توازن برقرار رکھنے کی کوشش کرتی رہی ہے۔ ایک طرف سعودی عرب اور خلیجی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں تو دوسری طرف ایران پاکستان کا ہمسایہ ملک ہے جس کے ساتھ طویل سرحد اور تجارتی روابط موجود ہیں۔
اسی لیے پاکستان کی قیادت نے اب تک جنگ میں کسی فریق کی کھلی حمایت کے بجائے مذاکرات اور سفارت کاری پر زور دیا ہے۔ مبصرین کے مطابق اگر یہ جنگ مزید پھیلی تو پاکستان کو نہ صرف سفارتی بلکہ معاشی مشکلات کا بھی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، کیونکہ تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور عالمی تجارتی راستوں کی بندش پاکستانی معیشت کو متاثر کر سکتی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ موجودہ صورتحال ایک بڑی علاقائی جنگ کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ ایران کے اتحادی گروہ عراق، لبنان اور یمن میں بھی سرگرم ہیں اور وہ پہلے ہی امریکی اور اسرائیلی مفادات پر حملے تیز کر چکے ہیں۔
اگر یہ کشیدگی اسی طرح جاری رہی تو نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت، توانائی کی منڈی اور عالمی سیاست پر اس کے دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔
دنیا کی بڑی طاقتوں کے لیے اصل امتحان یہی ہے کہ آیا وہ اس جنگ کو سفارت کاری کے ذریعے روک سکتی ہیں یا نہیں۔ کیونکہ تاریخ یہ بتاتی ہے کہ جنگیں شروع کرنا آسان مگر ختم کرنا ہمیشہ مشکل ہوتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں