noor case

نور مقدم قتل کیس، ملزم نے قتل سے پہلے والدین کو فون کرکے کہا کہ لڑکی نے شادی کرنے سے انکار کر دیا ہے

اسلام آباد : نور مقدم قتل کیس کے ملزم نے قتل سے قبل اپنے والدین کو فون کر کے کہا کہ لڑکی نے شادی سے انکار کر دیا ہے۔ سابق سفارتکار کی بیٹی نورمقدم قتل کیس میں گذشتہ روز عدالت نے ملزم کے والدین کو 2 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کیا تھا۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق گذشتہ روز پولیس نے نور مقدم قتل کیس میں گرفتار ملزم ظاہرجعفر کی ماں عصمت آدم جی، باپ ذاکر مقدم اور دو ملازموں کو حراست میں لے کر ڈیوٹی مجسٹریٹ صہیب بلال رانجھا کی عدالت میں پیش کیا۔

ملزمان کے وکیل کا کہنا تھا کہ میرے موکل ضمانت پر ہیں، مگر اس کے باوجود پولیس نے انہیں حراست میں لے لیا ہے۔ بینک بند تھے اس لیے ضمانتی مچلکے جمع نہیں ہو سکے۔ وکیل کا کہنا تھا کہ ہم پولیس کے خلاف توہین عدالت کیس اور ایف آئی آر درج کروائیں گے۔

دوران سماعت ملزم کے والدین نے کہا کہ ہم ملزم ظاہر جعفر کو سپورٹ نہیں کر رہے ، ہمیں علم ہوا کہ گھر میں شور شرابا ہو رہا ہے بعد میں پتا چلا کہ واقعہ ہو چکا ہے ، ہم تو خود کراچی سے اسلام آباد آئے اور تھانے پہنچ گئےدوسری جانب پولیس نے عدالت کو بتایا کہ جج صاحب کے ضمانت کے آرڈر مکمل ہی نہیں ہوئے۔

ملزمان کی جانب سے ضمانتی شورٹی بانڈ جمع ہی نہیں کروائے گئے۔ اس لیے ان کو گرفتار کیا گیا ۔پولیس نے کہا کہ ملزم نے قتل سے پہلے اپنے والدین کو فون کرکے کہا کہ لڑکی نے شادی کرنے سے انکار کر دیا۔ لڑکی نور مقدم نے بھاگنے کے لئےروشن دان سے باہر چھلانگ لگائی تھی جبکہ ملازمین نے دیکھا کہ ملزم، مقتولہ کو کھینچ کر دوبارہ اندر لے گیا۔ پولیس نے کہا کہ ملازمین اگر پولیس کو بروقت اطلاع دیتے تو قتل روکا جا سکتا تھا۔

ہمسائے کی اطلاع پر پولیس موقع پرپہنچی۔ پولیس نے بیان دیا کہ قتل کی تفتیش کے لیے ملزمان کا جسمانی ریمانڈ ضروری ہے۔ وکیل استغاثہ نے کہا کہ نور مقدم قتل کیس میں عدالتی نظام کو فالو نہیں کیا گیا ، عدالت سے استدعا ہے کہ ملزم کے والدین کا جسمانی ریمانڈ دیا جائے، ساتھی وکیل اگر ملزم کو پروٹیکٹ نہیں کر رہے تو والدین کو حراست میں رہنے دیں ، جس پر عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے ملزم ظاہر جعفر کے ماں، باپ اور 2 ملازموں گھر کے چوکیدار اور خانسامے کودو روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا۔

یاد رہے کہ 20 جولائی کو اسلام آباد میں تھانہ کوہسار کے علاقے سیکٹر ایف سیون فور میں نوجوان خاتون کو لرزہ خیز انداز میں قتل کردیا گیا تھا۔ خاتون کو تیز دھار آلے سے بہیمانہ انداز میں قتل کیا گیا۔ لڑکی کا گلا کاٹنے کے بعد سر کاٹ کر جسم سے الگ کر دیا گیا تھا۔ واقعے کی اطلاع موصول ہوتے ہی سینئر افسران اور متعلقہ ایس ایچ او موقع واردات پر پہنچے اور تحقیقات کیں۔
قتل میں ملوث ظاہر جعفر نامی شخص کو موقع واردات سے گرفتار کرکے تھانے منتقل کردیا گیا اور وقوعہ کا مقدمہ درج کیا گیا۔ ظاہر جعفر معروف بزنس مین ذاکر جعفر کا بیٹا ہے اور مقتولہ نور مقدم کا دوست تھا۔ پولیس نے مقدمے میں مزید چار دفعات بھی شامل کر دی ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں