جوہر ٹاؤن دھماکہ : ٹارگٹ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے تھے ، آئی جی پنجاب

لاہور : انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب انعام غنی نے کہا ہے کہ لاہور کے علاقے جوہر ٹاؤن میں ہوئے دھماکے کا ٹارگٹ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے تھے ، اگر پولیس پکٹ نہ ہوتی تو گاڑی ہائی ویلیو ٹارگٹ تک پہنچ سکتی تھی ، ہمیں 65 تھریٹ الرٹس موصول ہوئے ، دھماکوں میں بیرونی ہاتھ ملوث ہوتے ہیں ، قیاس آرائیاں نہ کریں تو بہتر ہے۔

تفصیلات کے مطابق آئی جی پنجاب انعام غنی نے لاہور کے علاقے جوہر ٹاؤن میں ہونے والے دھماکے کی جائے وقوعہ کا دورہ کیا ، اس موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جوہر ٹاؤن دھماکے میں جو مالی و جانی نقصان ہوا ہم وہ تو پورا نہیں کر سکتے لیکن ہماری کوشش ہے کہ اس میں جو لوگ بھی ملوث ہیں وہ پکڑے جائیں ، بہت جلدی ان کے بارے میں اچھی خبر دیں گے اور انہیں کیفر کردار تک پہنچائیں گے ، اس ضمن میں سی ڈی ٹی واقعے کی تحقیقات کر رہی ہے، سی ٹی ڈی والے بتائیں گے کہ دھماکا کیسے ہوا، کون سا مواد استعمال کیا گیا، دھماکا خیز مواد کہاں نصب تھا اور دھماکا خود کش تھا یا ڈیوائس کے ذریعے کیا گیا۔

انعام غنی نے کہا کہ اس وقت قیاس آرائیوں پر نا جائیں تو زیادہ بہتر ہے، ہمیں ہر وقت تھریٹ ملتی رہتی ہے اور اس وقت بھی ہم 60 سے زیادہ تھریٹس پر کام کر رہے تھے ، تازہ ترین تھریٹ الرٹ بھی لا انفورسمنٹ ایجنسی سے متعلق ہی ہی تھا کیوں کہ یہ ہمارے حوصلے پست کرنا چاہ رہے ہیں لیکن میں دشمنوں کو بتانا چاہتا ہوں ہر دفعہ جب ہمارا نقصان ہوتا ہے تو ہمارا حوصلہ مزید بلند ہوتا ہے۔

دوسری طرف لاہور کے علاقے جوہر ٹاؤن میں ہوئے دھماکے کے نتیجے میں زخمیوں کے جسم میں بال بیرنگ کی موجودگی کی تصدیق ہوگئی ، ایم ایس جناح ہسپتال ڈاکٹر یحییٰ کا کہنا ہے کہ دھماکے کے زخمیوں کے جسم میں بال بیرنگ موجود ہیں ، بال بیئرنگ کی ہی وجہ سے لوگ زخمی ہوئے ، زخمیوں میں ایک حاملہ خاتون بھی شامل ہے ، حاملہ خاتون کی حالت تشویشناک ہے جس کی بناء پر اس کو وینٹی لیٹر پر رکھا گیا ہے۔

خیال رہے کہ لاہور کے علاقے جوہر ٹاؤن میں دھماکا ہوا ہے جس کے نتیجے میں 15 سے زائد افراد زخمی ہو گئے ہیں،جبکہ 2 افراد جاں بحق ہو گئے ہیں ، سی سی پی او لاہور نے حادثے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ دھماکے سے 2 افراد جاں بحق ہو گئے ہیں جب کہ 14 افراد زخمی ہو گئے ہیں ، ماہرین نوعیت کا جائزہ لے رہے ہیں

ڈی آئی جی انویسٹیگیشن کے مطابق دھماکے کی جگہ پر گڑھا پڑ گیا ہے ، تحقیقات کے بعد دھماکے کی وجوہات سامنے آئیں گی،بم ڈسپوزل اسکواڈ کے عملے نے موقع پر پہنچ کر شواہد اکٹھے کرنا شروع کر دئیے ہیں،پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے ، سی سی پی او لاہور کا کہنا ہے کہ دھماکے میں ایک پولیس اہلکار زخمی ہوا ہے،دھماکا گیس بھی ہو سکتا ہے،ماہرین دھماکے کی نوعیت کا اندازہ لگا رہے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں