تحریر: موئین آئی بٹ
بعض لوگ زندگی میں صرف اپنا وقت نہیں گزارتے بلکہ اپنے کردار، اپنی آواز اور اپنے تعلق سے ایک ایسا نقش چھوڑ جاتے ہیں جو ان کے جانے کے بعد بھی دیر تک قائم رہتا ہے۔ شوکت ڈار بھی انہی لوگوں میں سے ایک تھے۔
تقریباً پینتیس برس تک عملی صحافت سے وابستہ رہنے والے شوکت ڈار کا شمار برطانیہ میں پاکستانی صحافت کے متحرک اور نمایاں ناموں میں ہوتا تھا۔ وہ پاکستان پریس کلب یوکے انٹرنیشنل کے صدر رہے اور صحافیوں کے حقوق، آزادیٔ صحافت اور صحافتی برادری کے مسائل کے لیے ہمیشہ سرگرم رہے۔
صحافت ان کی زندگی کا اہم حصہ ضرور تھی، مگر ان کی خدمات صرف صحافت تک محدود نہیں رہیں۔ برطانیہ میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کے مسائل ہوں یا پاکستان اور اوورسیز پاکستانیوں کے درمیان رابطے کا معاملہ، شوکت ڈار ہمیشہ آگے بڑھ کر اپنا کردار ادا کرتے رہے۔
وزارتِ اوورسیز پاکستانیز کی جانب سے برطانیہ میں پاکستانی کمیونٹی کے مسائل اجاگر کرنے اور متعلقہ اداروں تک پہنچانے کے عمل میں بھی وہ فعال رہے اور کمیونٹی کی نمائندگی کرتے رہے۔
بعد ازاں انہوں نے وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر کے خصوصی معاون کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دیں اور قومی، سماجی اور کمیونٹی معاملات میں اپنی سرگرم موجودگی برقرار رکھی۔
ان کی صحافتی اور کمیونٹی خدمات کو پاکستان اور برطانیہ دونوں میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ ان کا شمار ان لوگوں میں ہوتا تھا جو اپنے پیشے کے ساتھ ساتھ اپنی کمیونٹی کے لیے بھی وقت، آواز اور توانائی صرف کرتے رہے۔
لیکن میرے لیے شوکت ڈار کی پہچان کسی عہدے، منصب یا تعارف کی محتاج نہیں تھی۔
وہ میرے ایک بہت پیارے، مخلص اور شاندار دوست تھے۔
شوکت زندگی سے بھرپور انسان تھا۔ وہ جہاں موجود ہوتا، وہاں ایک الگ ہی رونق پیدا ہو جاتی۔ ہنسی مذاق، بے تکلف گفتگو، دوستوں سے محبت اور ہر محفل کو زندہ کر دینے کا انداز اس کی شخصیت کا خاصہ تھا۔
کبھی آواز ذرا اونچی بھی ہو جاتی تھی، کبھی بات جذبات سے بھر جاتی تھی، مگر یہی تو شوکت تھا — کھرا، بے ساختہ، پُرجوش اور دل سے زندگی جینے والا۔
اس کے دل میں دوستوں کے لیے محبت تھی۔ وہ لوگوں کو جوڑنے کا ہنر جانتا تھا اور شاید اسی وجہ سے مختلف طبقوں، صحافیوں، سیاسی و سماجی شخصیات اور عام کمیونٹی کے لوگوں سے اس کا ایک ذاتی تعلق بن جاتا تھا۔
بعض لوگ محفل میں بیٹھتے ہیں، اور بعض لوگ خود محفل بن جاتے ہیں۔
شوکت انہی لوگوں میں سے تھا۔
اس کی موجودگی محسوس ہوتی تھی، اس کی آواز پہچانی جاتی تھی اور اس کی غیر موجودگی اب بہت عرصے تک محسوس کی جائے گی۔
شوکت، تمہارے ساتھ ابھی بہت سی باتیں باقی تھیں۔
بہت سی ملاقاتیں ہونا تھیں۔
بہت سی محفلیں سجنا تھیں۔
اور بہت سے قہقہے ابھی سننے باقی تھے۔
مگر تم واقعی کچھ زیادہ ہی جلدی چلے گئے۔
تمہاری صحافت، تمہاری کمیونٹی کے لیے خدمات اور تمہاری جدوجہد اپنی جگہ ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی، لیکن تمہارے دوست تمہیں تمہاری ہنسی، تمہاری بے تکلفی، تمہاری بلند آواز اور تمہارے بھرپور اندازِ زندگی سے یاد رکھیں گے۔
شوکت، تم نظروں سے دور ضرور ہو گئے ہو، دلوں سے نہیں۔
تم بہت یاد آؤ گے میرے دوست۔
موت اس کی ہے کرے جس کا زمانہ افسوس
یوں تو دنیا میں سبھی آئے ہیں مرنے کے لیے
اللہ تعالیٰ شوکت ڈار کی کامل مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند کرے، انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ان کے اہلِ خانہ، دوستوں اور تمام چاہنے والوں کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔




