کالم: آصف سلیم مٹھا
پاکستان میں سیاست اور عدالت کا تعلق ہمیشہ سے پیچیدہ رہا ہے، لیکن عمران خان کے طبی معائنے کے حالیہ واقعے نے ایک مرتبہ پھر یہ سوال کھڑا کر دیا ہے کہ کیا ملک میں عدالتی احکامات پر ان کی روح کے مطابق عمل ہوتا ہے یا صرف کاغذی کارروائی مکمل کی جاتی ہے؟
سپریم کورٹ کے حکم کے بعد عمران خان کو طبی معائنے اور علاج کے لیے شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جانا تھا۔ جمعرات کی شب اسلام آباد میں غیر معمولی سکیورٹی، سڑکوں کی بندش اور ہسپتال کے اطراف پولیس کی بھاری نفری سے یہ تاثر پیدا ہوا کہ عدالتی حکم پر عمل ہونے جا رہا ہے۔ مگر بعد میں صورتحال نے نیا رخ اختیار کیا اور عمران خان کو شفا انٹرنیشنل کے بجائے پمز ہسپتال لے جایا گیا۔
پمز کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق عمران خان کا 20 اور 21 اگست کی درمیانی شب تفصیلی طبی معائنہ کیا گیا۔ شفا انٹرنیشنل کے دو ماہرینِ چشم نے ان کی آنکھوں کا معائنہ کیا جبکہ پمز کے ماہر ڈاکٹروں نے بھی طبی معائنہ کیا۔ ان معائنوں کی بنیاد پر ایک مفصل میڈیکل فٹنس رپورٹ تیار کی گئی، لیکن پمز انتظامیہ نے رپورٹ کے مندرجات ظاہر کرنے سے انکار کرتے ہوئے مریض کی پرائیویسی اور سپریم کورٹ کے احکامات کو وجہ قرار دیا۔
یہاں سے اصل سوال شروع ہوتا ہے۔
اگر عمران خان کی میڈیکل فٹنس رپورٹ تیار ہو چکی ہے تو عوام کو اس کے بنیادی نتائج سے آگاہ کیوں نہیں کیا جا رہا؟ اگر رپورٹ میں کوئی تشویش ناک بات نہیں تو اسے چھپانے کی ضرورت کیا ہے؟ اور اگر کوئی طبی مسئلہ موجود ہے تو پھر اس کا علاج کہاں اور کس طریقے سے ہوگا؟
حکومتی مؤقف ہے کہ سکیورٹی خدشات کے باعث عمران خان کو شفا انٹرنیشنل کے بجائے پمز منتقل کیا گیا، جہاں شفا کے ماہرین سمیت ڈاکٹروں کی ٹیم نے ان کا معائنہ کیا اور انہیں طبی طور پر فٹ قرارن دیا۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے بھی یہی مؤقف اختیار کیا۔
دوسری طرف تحریک انصاف کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کے حکم میں جس ہسپتال اور طبی انتظام کا ذکر تھا، اس پر مکمل عمل نہیں کیا گیا۔ عمران خان کی بہن ڈاکٹر عظمیٰ خان نے بھی دعویٰ کیا کہ طبی معائنہ اس انداز میں نہیں ہوا جس کی عدالت نے ہدایت کی تھی، جبکہ ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل سلطان کی موجودگی کے حوالے سے بھی سوالات اٹھائے گئے۔
یہ معاملہ صرف عمران خان کی صحت کا نہیں رہا۔ یہ اب عدالتی حکم، قیدی کے بنیادی حقوق، شفاف طبی معائنے اور ریاستی اختیار کا معاملہ بن چکا ہے۔
ریاست کو یہ سمجھنا ہوگا کہ جیل میں قید شخص خواہ عمران خان ہو یا کوئی عام قیدی، اس کی صحت ریاست کی ذمہ داری ہے۔ اگر کسی قیدی کو بیماری لاحق ہو تو اس کا علاج سیاست کا موضوع نہیں ہونا چاہیے۔ اسی طرح اگر عدالت کسی مریض کے طبی معائنے یا علاج کے لیے مخصوص طریقہ مقرر کرتی ہے تو ریاستی اداروں پر لازم ہے کہ وہ اس حکم کی مکمل پاسداری کریں۔
ایک اور پہلو بھی انتہائی اہم ہے۔ عمران خان کی آنکھوں کے علاج کو لے کر گزشتہ کئی ماہ سے متضاد دعوے سامنے آتے رہے ہیں۔ تحریک انصاف کی جانب سے بینائی کے شدید نقصان کے خدشات ظاہر کیے گئے جبکہ حکومتی حلقے صورتحال کو نسبتاً معمول کے مطابق قرار دیتے رہے۔ تازہ معائنے میں شفا انٹرنیشنل کے ماہرینِ چشم کی شمولیت اس لیے اہم ہے کہ کم از کم آنکھوں کے معاملے میں ایک خصوصی طبی جائزہ لیا گیا ہے۔ تاہم اصل رپورٹ سامنے نہ آنے کے باعث عوام کے پاس ابھی بھی مکمل تصویر موجود نہیں۔
سب سے حیران کن پہلو یہ ہے کہ چند گھنٹوں کے طبی معائنے کے بعد عمران خان کو دوبارہ اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا۔ اگر وہ واقعی مکمل طور پر طبی طور پر فٹ تھے تو حکومت کو اس بارے میں واضح اور قابلِ تصدیق معلومات فراہم کرنی چاہییں۔ اور اگر مزید علاج یا نگرانی درکار تھی تو پھر انہیں فوری طور پر جیل واپس بھیجنے کی منطق بھی واضح ہونی چاہیے۔
پاکستان پہلے ہی سیاسی تقسیم کا شکار ہے۔ ایسے میں طبی معاملات کو بھی سیاسی کشمکش کا حصہ بنا دینا کسی کے مفاد میں نہیں۔ حکومت کو شفافیت اختیار کرنی چاہیے، تحریک انصاف کو بھی طبی معاملات کو غیر ضروری سیاسی نعرے بازی سے الگ رکھنا چاہیے، اور سب سے بڑھ کر عدالت کو اپنے احکامات پر عملدرآمد کا جائزہ لینا چاہیے۔
کیونکہ سوال صرف یہ نہیں کہ عمران خان بیمار ہیں یا صحت مند؟
اصل سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان میں عدالت کا حکم واقعی حکم ہوتا ہے، یا طاقتور انتظامی مشینری اپنی سہولت کے مطابق اس کی تشریح کرتی ہے؟
اگر عمران خان طبی طور پر فٹ ہیں تو مکمل حقائق سامنے لائے جائیں۔ اگر انہیں علاج کی ضرورت ہے تو بلا تاخیر بہترین ممکنہ علاج فراہم کیا جائے۔ اور اگر عدالتی حکم کی خلاف ورزی ہوئی ہے تو اس کا تعین بھی عدالت ہی کرے۔
ملک کسی ایک سیاسی جماعت یا ایک سیاسی رہنما سے بڑا ہے، مگر قانون کی بالادستی بھی ہر سیاسی جماعت، ہر حکومت اور ہر ریاستی ادارے سے بڑی ہونی چاہیے۔
یہی جمہوریت کا اصل امتحان ہے۔


