برطانیہ کی سیاست اس وقت ایک نازک مگر دلچسپ موڑ پر کھڑی ہے

کالم : آصف سلیم مٹھا
مدیر نوائےجنگ لندن
7 مئی 2026 .لندن

اور اس منظرنامے کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ Labour Party کی تاریخ پر ایک مختصر نظر ڈالی جائے۔
لیبر پارٹی کی بنیاد 1900 میں لندن میں “لیبر ریپریزینٹیشن کمیٹی” کے نام سے رکھی گئی تھی، جس کا مقصد برطانوی پارلیمنٹ میں محنت کش طبقے کی نمائندگی کو یقینی بنانا تھا۔ 1906 میں اس نے باقاعدہ طور پر “لیبر پارٹی” کا نام اختیار کیا اور جلد ہی یہ برطانیہ کی بڑی سیاسی قوتوں میں شامل ہو گئی۔ بیسویں صدی کے وسط میں، خصوصاً 1945 کے انتخابات میں، لیبر پارٹی نے ایک تاریخی کامیابی حاصل کی اور فلاحی ریاست (Welfare State) کی بنیاد رکھی جس میں National Health Service کا قیام ایک نمایاں سنگِ میل تھا۔ اس جماعت نے طویل عرصے تک خود کو مساوات، سماجی انصاف اور کمزور طبقات، خصوصاً مہاجرین، کے حقوق کی علمبردار کے طور پر منوایا۔
آج، کیئر سٹارمر کی قیادت میں یہی جماعت ایک نئے دور میں داخل ہو چکی ہے۔ اس نے خود کو استحکام، اعتدال اور ریاستی ذمہ داری کی علامت کے طور پر پیش کیا ہے۔ مگر حالیہ برسوں میں ایک اہم سوال ابھر کر سامنے آیا ہے: آخر وہی مہاجر طبقات جو کبھی لیبر کے مضبوط حامی تھے، اب کسی حد تک بددل کیوں دکھائی دیتے ہیں؟
اس سوال کا جواب کئی جہتوں میں پوشیدہ ہے۔
سب سے پہلی بات توقعات اور حقیقت کے درمیان فاصلے کی ہے۔ مہاجر کمیونٹیز، خصوصاً جنوبی ایشیائی، افریقی اور عرب پس منظر رکھنے والے افراد، لیبر پارٹی سے نہ صرف معاشی بہتری بلکہ سماجی انصاف، خارجہ پالیسی میں اخلاقی مؤقف، اور امیگریشن کے حوالے سے ہمدردانہ رویے کی امید رکھتے تھے۔ مگر جب حکومتی ذمہ داری آتی ہے تو نظریات اکثر عملی سیاست کی حدود سے ٹکرا جاتے ہیں۔ کیئر سٹارمر نے اپنی جماعت کو مرکزیت کی طرف مائل کیا، تاکہ وسیع تر برطانوی ووٹر کو متوجہ کیا جا سکے۔ یہی حکمت عملی کچھ مہاجر ووٹرز کو یہ محسوس کرواتی ہے کہ ان کی مخصوص آواز اب پہلے جتنی نمایاں نہیں رہی۔
دوسرا اہم پہلو خارجہ پالیسی کا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ، خصوصاً فلسطین کا مسئلہ، برطانیہ میں مقیم کئی مہاجر کمیونٹیز کے لیے محض سیاسی نہیں بلکہ جذباتی اور شناختی حیثیت رکھتا ہے۔ فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کرنے جیسے اقدامات یقیناً ایک علامتی اور اہم پیش رفت ہیں، اور اسے کئی حلقوں نے سراہا ہے۔ اسی طرح ایران جیسے حساس معاملات میں براہِ راست عسکری شرکت سے گریز ایک محتاط سفارتی حکمت عملی کی عکاسی کرتا ہے۔ تاہم، بعض حلقوں کے نزدیک یہ اقدامات یا تو تاخیر سے ہوئے یا ان میں مزید جرات کی گنجائش تھی۔
تیسری وجہ داخلی سیاست کا بدلتا ہوا مزاج ہے۔ Reform UK اور Green Party of England and Wales جیسی جماعتیں اگرچہ ابھی مرکزی حکومت بنانے سے دور ہیں، مگر وہ مخصوص مسائل پر ووٹرز کی توجہ حاصل کر رہی ہیں۔ ریفارم پارٹی امیگریشن اور قومی شناخت کے بیانیے کو ابھارتی ہے، جبکہ گرین پارٹی انسانی حقوق اور ماحولیاتی انصاف کو مرکز میں رکھتی ہے۔ نتیجتاً کچھ مہاجر ووٹرز اپنی ترجیحات کے مطابق ان متبادل آوازوں کی طرف متوجہ ہو رہے ہیں۔
اس کے ساتھ ایک سماجی تبدیلی بھی جاری ہے۔ نئی نسل، جو برطانیہ میں پلی بڑھی ہے، اس کی ترجیحات پہلی نسل سے مختلف ہیں۔ وہ صرف شناخت یا ماضی کے تجربات کی بنیاد پر ووٹ نہیں دیتی بلکہ تعلیم، ماحولیات، عالمی انصاف اور معاشی مواقع جیسے وسیع موضوعات کو بھی مدنظر رکھتی ہے۔
تاہم یہ کہنا شاید قبل از وقت ہوگا کہ یہ ناراضگی لیبر پارٹی کے لیے کوئی فوری سیاسی بحران بن چکی ہے۔ برطانوی انتخابی نظام، اپوزیشن کی صورتحال، اور لیبر کی منظم حکمت عملی اسے اب بھی ایک مضبوط پوزیشن میں رکھتی ہے۔ کیئر سٹارمر کی قیادت میں پارٹی نے خود کو ایک ذمہ دار حکومتی قوت کے طور پر منوایا ہے خاص طور پر ایسے وقت میں جب دنیا بھر میں کشیدگی اور جنگی خطرات بڑھ رہے ہیں۔
آخرکار، سیاست توازن کا کھیل ہے۔ لیبر پارٹی اس وقت اسی توازن کی تلاش میں ہے: ایک طرف ریاستی استحکام اور بین الاقوامی ذمہ داری، اور دوسری طرف اپنے روایتی حمایتیوں خصوصاً مہاجر کمیونٹیز کا اعتماد۔ یہی کشمکش موجودہ بحث کو جنم دے رہی ہے، اور شاید یہی جمہوریت کا حسن بھی ہے کہ اس میں اختلاف اور مفاہمت دونوں کے لیے جگہ باقی رہتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں