میں بتاﺅں پھر مجھے فیض آباد دھرنا دینے کے لیے کس نے کہا تھا،مولانا خادم رضوی کی دھمکی

راوالپنڈی : فرانس نے جو کچھ کیا اس پر ساری دنیا میں مزاحمت جاری ہے۔پاکستان میں بھی اس کا شدید ردعمل دیکھنے کو ملااور سبھی مذہبی ارو سیاسی راہنماﺅں اور پارٹیوں نے احتجاج کی کال کی۔تاہم گزشتہ روز تحریک لبیک یا رسول اللہ نے راولپنڈی اور اسلام آباد میں دھرنا دینے کی کوشش کی اور وہاں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں بتاﺅں پھر مجھے فیض آباد دھرنا دینے کے لیے کس نے کہا تھا۔

مولنا خادم رضوی نے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں نے بھی جمعہ والے دن اپنے کارکنان سے کہہ دیا تھا کہ میں بھی پھر بتادوں گا کہ مجھے کس نے کہا تھا کہ فیض آباد جاﺅ۔یاد رہے کہ اس سے قبل گزشتہ برس بھی تحریک لبیک نے فیض آباد میں بھرپور جلسہ دیا تھا جس کے حوالے سے کئی متضاد خبریں آج بھی وائرل رہتی ہیں۔

مذہبی و سیاسی جماعت تحریک لبیک پاکستان کے کارکنان نے بڑی تعداد میں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور اس کے جڑواں شہر راولپنڈی کے سنگم میں واقع فیض آباد چوک پر دھرنادیا۔

دھرنا کے شرکا کو کنٹرول کرنے کے لیے پولیس نے فیض آباد پل کو چاروں اطراف کنٹینرز رکھ کر بند کر دیا تھا۔. جس کے باعث ایئرپورٹ اور ریلوے اسٹیشن جانے والے مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا رہا۔اس کے علاوہ شہر اسلام آباد میں ایکسپریس وے زیرو پوائنٹ سے کھنہ پل تک سڑک ہر طرح کی ٹریفک کے لئے بند تھی۔

فرانس میں گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کیخلاف تحریک لبیک پاکستان کی احتجاجی ریلی گزشتہ روز فیض آباد پہنچی تو تحریک لبیک کے کارکنوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کے مابین دھکم پیل ہوئی جس کے نتیجے میں 200 کے قریب کارکنوں کو گرفتار کر لیا گیاتھا۔
تاہم حکومت سے مذاکرات کامیاب ہونے کے بعد تحریک لبیک یا رسول اللہ نے یہ دھرنا ختم کر دیا ہے۔معاہدے کی رو سے فرانس کا سفیر دو ماہ کے اندر پاکستان سے نکال دیا جائے گااور فرانس میں پاکستان کا کوئی سفیر بھی تعینات نہیں کیا جائے گا۔جبکہ گرفتار کیے گئے سبھی کارکنان کو جلد ہی رہا کر دیا جائے گا۔