عوام نے کورونا ایس او پیز نظرانداز کردیے ، جون والی صورتحال کا خدشہ

اسلام آباد : عوام کی طرف سے عالمی وباء کورونا وائرس کے ایس او پیز نظر انداز کیے جانے کی بناء پر وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان نے خبردار کیا ہے کہ اگر کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے احتیاط نہ کی گئی تو پاکستان میں ایک بار پھر جون والی صورت حال کا دوبارہ سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

تفصیلات کے مطابق نجی ٹی وی چینل سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کی دوسری لہرکو سنجیدہ لینے کی ضرورت ہے ، کیوں کہ پاکستان میں کورونا کیسز میں روزآنہ کی بنیاد پر بے پناہ اضافہ ہو رہا ہے ، بیماری میں تیزی سے اضافے کے نتیجے میں ہمارے نظام صحت پر بھی دباؤ آئے گا ، ان حالات میں اگر احتیاط نہ برتی گئی تو ایک بار پھر جون والے حالات دوبارہ آسکتے ہیں۔

اس ضمن میں نیشنل ایمرجنسی آپریشن سنٹر نے کورونا وباء کا پھیلاؤ روکنے کیلئے بڑا فیصلہ کرلیا ، ملک بھر میں ماسک نہ پہننے پر جرمانہ ہوگا ، دفاترز اور گھر میں پچاس پچاس فیصد ملازمین کو کام کرنے کی اجازت ہوگی ، ان ڈور شادیوں پر پابندی لگادی گئی ، جب کہ ہارٹ اسپاٹ علاقوں میں اسمارٹ لاک ڈاؤن نافذ ہوگا، فیصلے کا اطلاق31 جنوری 2021ء تک جاری رہے گا۔

این سی اوسی کے مطابق ملک بھر میں کورونا وباء سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں کورونا ایس اوپیز پر عملدرآمد کے دوسرے مرحلے کا آغاز 7نومبر سے شروع ہوگیا اور31 جنوری 2021ء تک جاری رہے گا ، کورونا سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں اسلام آباد، لاہور، کراچی شامل ہیں، اسی طرح راولپنڈی، ملتان، حیدرآباد، گلگت، مظفرآباد، میرپور، پشاور،کوئٹہ، گوجرانوالہ، گجرات، فیصل آباد، بہالپور اور ایبٹ آباد شامل ہی، ان علاقوں میں کورونا ایس اوپیز پر سختی سے عملدرآمد کروایا جائے گا ، نجی وسرکاری دفاترز کیلئے گھر سے کام کرنے کی پالیسی بھی نافذالعمل ہوگی ، جس میں سرکاری اور نجی دفاترز میں 50 فیصد عملہ بلانے کی اجازت ہوگی ، جب کہ 50 ملازمین کو گھر سے کام کرنے کی اجازت ہوگی۔

این سی اوسی کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ دوسرے مرحلے میں فیس ماسک کیلئے گلگت بلتستان ماڈل پر عمل کیا جائے گا، گلگت بلتستان کی طرز پر ماسک نہ پہننے والوں کو 100جرمانہ کیا جائے گا، ماسک نہ پہننے والوں کو جرمانہ کرکے 3 ماسک بھی دیے جائیں گے ، اس کے علاوہ ان ڈور شادی کی تقریبات پر پابندی عائد کردی جائے گی ، ان ڈور شادی کی تقریبات پر پابندی کا نفاذ 20 نومبر سے ہوگا۔