موٹروے زیادتی کیس کے ملزم کا عدالت میں شکوہ

لاہور : موٹروے زیادتی کیس کے ملزم عابد ملہی کو 15 دن کے لیے جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا گیا ہے۔تفصیلات کے مطابق انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت میں لاہور سیالکوٹ موٹر وے زیادتی کیس کے مقدمے کی سماعت ہوئی جہاں موٹر وے زیادتی کیس کے مرکزی ملزم عابد ملہی کو انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت میں پیش کیا گیا۔

ملزم کو 20 روزہ جوڈیشل ریمانڈ کے بعد عدالت میں پیش کیا گیا تھا۔ تفتیشی افسر نے عدالت میں استدعا کی کہ ملزم سے تفتیش کرنی ہے،جسمانی ریمانڈ دیا جائے۔ ملزم نے عدالت میں بیان دیا کہ پولیس بیوی بچوں سے نہیں ملنے دے رہی۔جس پر عدالت نے کہا کہ پہلے یہ معاملہ دیکھ لیں پھر ملاقات ہو جائے گی۔ اس سے قبل ملزم عابد ملہی کو انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت پیش نہ کیا جا سکا تھا ،عدالت نے ملزم کی شاخت پریڈ کیلئے مزید مہلت دےدی تھی ۔

دوران سماعت جیل حکام نے مؤقف اپنایاتھا کہ ابھی تک ملزم عابد ملہی کی شاخت پریڈ نہیں ہوسکی اور27اکتوبر کو ہی شاخت پریڈ ہونی ہے اس لئے استدعا ہے کہ مہلت دی جائے ۔ عدالت نے استدعا منظور کر تے ہوئے ملزم عابد ملہی کو دو نومبر کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا تھا۔ بعدازاں ملزم عابد ملہی کی شناخت پریڈ مکمل ہونے کے بعد اسے عدالت کے روبرو کردیا جائے گا۔

عابد ملہی چودہ روزہ جسمانی ریمانڈ پر کیمپ جیل میں بھیجا گیا۔ یاد رہے کہ 9 ستمبر پولیس کی تفتیش کے دوران ملزم نے بتایا کہ 9 ستمبر کی رات شفقت اور بالا مستری کیساتھ گجر پورہ کی جانب جا رہے تھے، تاہم بالا مستری راستے سے ہی واپس چلا گیا۔ موٹروے تک پہنچنے سے قبل میں نے اور شفقت نے 3 ٹرالیوں کو لوٹنے کی وارداتیں بھی کیں۔ عابد ملہی کا بتانا ہے کہ خاتون سےگھڑی، زیورات اور نقدی لوٹنے کے بعد اسے موٹروے سے نیچے جانے کو کہا۔

موٹروے سے نیچے اتار کر خاتون کو زبردستی زیادتی کا نشانہ بنایا۔ جب موٹروے پر ڈولفن پولیس آئی تو میں اور شفقت جائے وقوعہ پر ہی موجود تھے۔ ڈولفن اہلکاروں کی فائرنگ کے بعد ملزم شفقت کیساتھ وہاں سے فرار ہوگیا۔ بعد ازاں ماسک پہن کر کئی روز تک مختلف شہروں کے درمیان سفر کرتا رہا۔ اب پیسے ختم ہو جانے پر بیوی سے رابطہ کیا تو پولیس گرفتار کرنے میں کامیاب ہوگئی۔