مسلم ممالک میں فرانسیسی مصنوعات کا بائیکاٹ، فرانس کی معشیت کو بڑا دھچکا

پیرس : دنیا بھر میں مصنوعات کے بائیکاٹ کے بعد مسلم ممالک کے ساتھ فرانس کی سو ارب ڈالر کی تجارت خطرے میں پڑ گئی۔تفصیلات کے مطابق فرانس میں توہین آمیز خاکوں کی اشاعت اور فرانسیسی صدر کے اسلام مخالف بیان کے خلاف مسلم ممالک سراپا احتجاج ہیں۔دنیا بھر میں نبی ﷺ کی محبت میں فرانسیسی مصنوعات کا بائیکاٹ کیا جا رہا ہے۔

مسلم ممالک کے ساتھ فرانس کی سو ارب ڈالر کی تجارت خطرے میں پڑ گئی، جس سے فرانسیسی حکومت کو اربوں ڈالر کا نقصان ہو سکتا ہے۔ترکی فرانس کی سب سے بڑی مارکیٹ ہے،ترک صدر طیب اردگان پہلے ہی ملک میں فرانسیسی مصنوعات کے بائیکاٹ کا مطالبہ کر چکے ہیں۔پاکستان میں بھی شہریوں کی جانب سے فرانسیسی مصنوعات کا بائیکاٹ کیا جا رہا ہے۔

ضرور پڑھیں   جعلی اکاؤ نٹس پر گرفتار کرنا ہے تو بسم اللہ کریں، آصف زرداری

کویت میں فرانسیسی پنیر کیری اور بیبی بیل جیسی مصنوعات شیلفوں سے ہٹا لی گئیں۔

اسٹوروں کے ایک بڑے گروپ نے اعلان کیا ہے کہ وہ فرانسیسی مصنوعات بشمول پنیر، کریم اور کازمیٹکس کی اشیا اپنے اسٹور سے فروخت کرنا بند کر رہا ہے۔ کویت کی 70 سے زیادہ کاروباری تنظیموں کی جانب سے بائیکاٹ مہم میں حصہ لیا جارہا ہے۔ سوشل میڈیا پر بائیکاٹ فرینچ پراڈکٹس اور بائیکاٹ فرانس نامی ہیش ٹیگ ٹرینڈ کر رہے ہیں جبکہ سوشل میڈیا پر کویت سے شیئر کی جانے والی بعض تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ بعض پر مارکٹس کے وہ شیلف خالی پڑے ہیں جن میں فرانسیسی مصنوعات رکھی تھیں۔

ضرور پڑھیں   سانحہ گجر پورہ کے مرکزی ملزم عابد علی کو 4 مرتبہ گرفتار کر کے رہا کیے جانے کا انکشاف

جب کہ شام کی سپر مارکیٹس اور مال میں فرانسیسی مصنوعات کی فروخت روکنے کی غرض سے ان شیلفس پر پردے ڈال دیے گئے ہیں جہاں یہ مصنوعات رکھی گئی ہیں۔یہ بھی مطالبہ کیا جا رہا ہے مسلم ممالک گستاخانہ خاکوں کیخلاف فرانسی سفیر کو ملک بدر اور مصنوعات کا بائیکاٹ کریں۔