آرمی چیف اور وزیراعظم کے درمیان کشیدگی کروانے کی کوشش بے نقاب

اسلام آباد : آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور وزیراعظم عمران خان کے درمیان کشیدگی کروانے کی کوششیں بے نقاب ہوگئیں، صحافی سمیع ابراہیم نے کہا ہے کہ قومی اسمبلی اجلا س کے دوران ابھی نندن کے حوالے سے جو کچھ ہوا اس کا مقصد فوج کی وزیراعظم عمران خان سے لڑائی کروانا تھا۔

تفصیلات کے مطابق اپنے یوٹیوب چینل پر گفتگو میں اینکر پرسن وتجزیہ کار سمیع ابراہیم نے کہا کہ مسلم لیگ ن کے اراکین نے قومی اسمبلی میں کہا کہ عوام اور میڈیا ابھی نندن کے بارے میں سوال کررہے ہیں ، حالاں کہ وہ تو پاکستان کی فوج نے بہادری کے ساتھ بھارتی جہاز گرایا، اور اس کے بعد بھارتی پائلٹ کو واپس بھیجنے پر دنیا نے پاکستان کے عمل کی تعریف کی ، کیوں کہ اس سے یہ ثابت ہوا کہ پاکستان کوئی جنگ کرنے وا لا ملک نہیں بلکہ امن پسند ملک ہے ، اس واقعے میں رسوا تو بھارت ہوا جس کی طرف سے جارحیت دکھائی گئی۔

انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن سے کہا جارہا ہے کہ پاکستان فوج میں موجود کسی طاقتور حلقے سے بات کرے، جہاں سے مطالبہ کیا جائے کہ فوج کی موجودہ قیادت پیچھے ہٹ جائے، اور اگر وہ پیچھے نہیں ہٹتے تو دوسری صورت میں وزیراعظم عمران خان سے بات کریں اور انہیں اس پر آمادہ کریں کہ وہ انہیں ’این آر او‘ دے دیں ، کیوں کہ عمران خان تو اس حوالے سے صاف انکار کرچکے ہیں، اور شاید اس طرح سے جنرل باجوہ اور عمران خان کی لڑائی ہوجائے گی ، کیوں کہ عمران خان تو کہہ رہے ہیں کہ این آر او نہیں دینا اور جنرل باجوہ کہیں گے کہ جی یہ تو ہمارے پیچھے پڑ گئے ہیں تو ان کو پیچھے ہٹانے کے لیے عمران خان این آر او دے دیں، اس سلسلے میں اپوزیشن کے جس کسی بھی رہنما کو سن لیں وہ کہہ رہے ہیں کہ اداروں کے درمیان بات چیت ہونی چاہیئے، کیوں کہ ان کی اپروچ یہ ہے کہ گالی بھی دو اور مزاکرات کی بات بھی کرو اسی کے تحت ان کی طرف سے پیغامات بھی بھجوائے گئے ہیں۔