سردیوں میں شہریوں کو گیس کی شدید قلت کا سامنا رہے گا. وزیرپیٹرولیم کا انکشاف

اسلام آباد : وفاقی وزیر برائے پیٹرولیم عمر ایوب نے انکشاف کیا ہے کہ موسم سرما میں ملک کو قدرتی گیس کی شدید قلت کا سامنا رہے گا، جس کی وجہ گیس کی طلب اور رسد میں آنے والا فرق ہے. رپورٹ کے مطابق انہوں نے اس بات کی نشاندہی کی کہ سردیوں کے دوران گھروں میں کمرے اور پانی کو گرم کرنے کے لیے ہیٹر کا استعمال کیا جاتا ہے جس کے باعث گیس کے استعمال میں اضافہ ہوجاتا ہے.

وفاقی وزیر نے کہا کہ سوئی نادرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ (ایس این جی پی ایل) کو 370 ایم ایم سی ایف ڈی کمی کا سامنا ہوگا جبکہ سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈ (ایس ایس جی سی) کو پہلے ہی سے گیس کی فراہمی میں قلت کا سامنا ہے اور سردیوں میں یہ 250 ایم ایم سی ایف ڈی کا سامنا ہوسکتا ہے. عمر ایوب نے کہا کہ ستمبر میں ایس ایس جی سی میں گیس کی فراہمی 993 ایم ایم سی ایف ڈی تھی جبکہ گزشتہ برس کے اسی ماہ میں یہ ایک ہزار 109 ایم ایم سی ایف ڈی تھی

واضح رہے کہ وزیر توانائی نے قومی اسمبلی میں موجود پاکستان مسلم لیگ (ن) کی رکن اسمبلی شزا فاطمہ خواجہ کے سوال کے تحریری جواب میں کہا ہے کہ ملک میں موجود گیس کے ذخائر میں مسلسل کمی آرہی ہے اور سردیوں میں گیس کی طلب کو پورا نہیں کیا جاسکتا وزیر توانائی نے کہا کہ دونوں سوئی کمپنیز اپنے نیٹ ورک میں موجود تمام صارفین کو گیس کی ہموار فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے تمام تر کوششیں کررہی ہیں، خاص طور پر موسم سرما کے دوران بھی گھریلو صارفین کو فراہمی اولین ترجیح ہے.

عمر ایوب خان نے بتایا ہے کہ ایس این جی پی ایل کے نیٹ ورک میں ترجیحی گھریلو شعبے کی بڑھتی ہوئی طلب کو آر ایل این جی کو گھریلو صارفین کے لیے منتقل کر کے پورا کیا گیا‘ان کا کہنا ہے کہ شدید سردی کے درمیان ہوسکتا ہے کچھ سیکٹرز کو گیس کی کمی کا سامنا رہے کیونکہ ایس ایس جی سی کے نیٹ ورک کے کچھ شعبوں میں شامل گھریلو اور دیگر صارفین کو سی این جی سمیت گیس کی طلب پوری کرنے کی کوشش کی جائے گی انہوں نے کہا کہ حکومت آئندہ ماہ میں قدرتی گیس کی کمی کو پورا کرنے کے لیے ایل این جی کی درآمد کو بڑھانے کے حوالے سے منصوبہ بندی کررہی ہے.