پاکستان کو فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی گرے لسٹ میں برقرار رکھے جانے کا امکان

سڈنی : منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کے لیے مالی وسائل کی روک تھام سے متعلق عالمی ادارے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس ( ایف اے ٹی ایف) کے ایشیا پیسفک گروپ ( اے پی جی) نے پاکستان کو منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کے لیے مالی وسائل کی روک تھام سے متعلق ایف اے ٹی ایف کی تکنیکی سفارشات پر عمل درآمد کے حوالے سے پیش رفت کے مشاہدے کے ساتھ پاکستان کو نگرانی کی فہرست میں بدستور شامل رکھا ہے.

حال ہی میں ایشیا پیسفک گروپ کی طرف سے جاری ہونے والی باہمی جائز ہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان نے فنانسل ایکشن ٹاسک فورس کی تجویز کردہ 40 میں سے دو سفارشات پر موثر عمل درآمد کیا ہے 26 پر جزوی طور پر جبکہ 9 پر بڑی حد تک عمل کیا ہے. رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان کو مزید نگرانی کی فہرست میں برقرار رکھا جائے گا اور پاکستان انسداد منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کے لیے مالی وسائل کی روک تھام کے لیے کیے جانے والے اقدامات سے ایشیا پیسفک گروپ کو آگاہ کر رکھے گا ایشیا پیسفک گروپ کی طرف اس بات کا انکشاف ایک حال ہی میں جاری ہونے والی باہمی جائزہ رپورٹ میں کیا گیا ہے.

یہ رپورٹ ایک وقت سامنے آئی ہے جب فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے آئندہ ہفتے پیرس میں ہونے والے اجلاس میں اس بات کا فیصلہ کیا جائے گا کہ آیا پاکستان کو تنطیم کی گرے لسٹ میں برقرر رکھا جائے یا نہیں‘یاد رہے کہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس نے جون 2018 میں دہشت گردی اور منی لانڈرنگ کے روک تھام کے لیے موثر اقدامات نہ کرنے کی وجہ تنطیم کی گرے لسٹ میں شامل کر دیا تھا.
ایشیا پیسفک گروپ کی حالیہ رپورٹ پاکستان کے لیے ایک پیغام ہے کہ اگر ایف اے ٹی ایف کی شرائط کے حوالے سے ایشیا پیسفک گروپ نے پاکستان کے لیے 40 سفارشات تجویز دی گئی تھی کہ ان پر عمل درآمد کو موثر بنایا جائے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس بات کا بہت زیادہ امکان ہے کہ پاکستان کو بلیک لسٹ میں شاید شامل نہ کیا جائے اور پاکستان کا گرے لسٹ میں ہی برقرار رکھا جائے پاکستان ایف اے ٹی ایف کا حصہ نہیں لیکن پاکستان ایشیا گروپ میں شامل ہے اور ایشیا پیسفک گروپ بعض ممالک کی نمائندگی ایف اے ٹی ایف میں کرتا ہے.

آخری بار ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو تجویز کردہ سفارشات پر عمل درآمد کا جائزہ لیا تھا تو اس وقت پاکستان کو 51 پوائٹ ملے تھے اگر پوائٹس50 سے نیچے ہوں تو بلیک لسٹ شروع ہو جاتی ہے اور اگر پوائٹس 50 اور 75 کے درمیان ہوں تو گرے لسٹ میں برقرار رکھا جاتا ہے. ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ایف اے ٹی ایف کے تین رکن ممالک چین، ملائیشیا اور ترکی پاکستان کے حق میں ووٹ دیتے رہے تو بعض ممالک کی طرف سے پاکستان کو بلیک لسٹ میں شامل کرنے کی کوشش کامیاب نہیں ہو پائے گی انہوں نے کہا کہ ایشیا پیسیفک گروپ کی سفارشات پر عمل کرنا پاکستان کے اپنے مفاد میں ہے.

ماہرین کے مطابق پاکستان دنیا کے مالیاتی نظام کا اہم حصہ ہے یہ 80 سے 90 ارب ڈالر کی درآمدات اور برآمدات کا حامل ملک ہے اور اگر ایشیا پیسیفک گروپ کی طرف سے کوئی منفی رپورٹنگ ہو تو اسے دھچکا لگ سکتا ہے پاکستان میں کام کرنے والے غیر ملکی بینک ایشیا پیسیفک کی رپورٹ کو کافی اہمیت دیتے ہیں پاکستان کے بنکنگ کے شعبے اور بین الاقوامی لین دین میں باقی دنیا کے ساتھ پاکستان کے مالی اور تجارتی روابط ہیں واضح رہے کہ ایشیا پیسفک گروپ پر بھارت کی اجارہ داری ہے اور وہ پاکستان کے خلاف منفی اقدامات کرتا رہتا ہے.

بھارت کی بالادستی کی ایک وجہ پاکستان کی جانب سے گروپ کے 41ممالک میں سے درجن بھر سے زیادہ کے ساتھ اسلام آباد کے دوستانہ تعلقات ہیں مگر اسلام آباد کی افسرشاہی اور دفتر خارجہ کی نااہلی اور نالائقی کی وجہ سے پاکستان نے کبھی دوست ممالک کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش نہیں کی جبکہ اس کے مقابلے میں بھارت بھرپور لابنگ کرتا ہے اور یہ صرف ایشیا پیسفک گروپ یا ایف اے ٹی ایف تک محدود نہیں بلکہ ہر معاملے میں بھارتی دفتر خارجہ دہلی کے مفادات کے تحفظ کے لیے اور پاکستان کو زک پہنچانے کے لیے سرگرم عمل رہتا ہے.

قبل ازیں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ملتان میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی تجویزکردہ 27 میں سے 21 سفارشات پر پوری طرح عمل درآمد کر رہا ہے، جبکہ باقی 6 کے حوالے سے بھی نمایاں پیش رفت کی ہے اس لیے پاکستان جلد فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی گرے لسٹ سے نکل جائے گا. وزیر خارجہ کا کہنا تھا پاکستان پیرس میں 21 سے 23 اکتوبر کر ایف اے ٹی ایف کے ورچوئل اجلاس میں شرکت کرے گا

انہوں نے اس توقع کا اظہار کیا کہ پاکستان جلد ہی ایف اے ٹی ایف کی گرلے لسٹ سے نکل جائے گا یاد رہے کہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس نے جون 2018 میں دہشت گردی اور منی لانڈرنگ کی روک تھام کے لیے موثر اقدامات نہ کرنے کی وجہ گرے لسٹ میں شامل کرتے ہوئے پاکستان کے لیے لائحہ عمل تجویز کیا تھا جس پر عمل کر کے وہ تنظیم کی گرے لسٹ سے باہر آ سکتا ہے.

پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کے لیے مالی وسائل کی روک تھام سے متعلق اس نے کئی موثر اقدمات کیے ہیں جبکہ پاکستان کی پارلیمان منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی اعانت کی روک تھام سے متعلق متعدد قوانین میں ضروری ترامیم کی منظوری دی چکی ہے.