ظالم ماں نے نومولود بچی کو بھوک سے مرنے کے لیے الماری میں بند کردیا

ماسکو : روس میں ظالم ماں نے اپنی نومولود بچی کو الماری میں بند کردیا۔ روسی خبررساں ادارے کے مطابق یولیا نامی خاتون نے اپنی نومولود بچی سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے اسے سٹور روم میں پڑی الماری میں بند کیے رکھا۔ ذرائع کے مطابق ایک مہمان نے بچی کو الماری میں دیکھ لیا جس کے بعد پولیس کو اطلاع دی گئی۔

تفصیلات کے مطابق یولیا نامی خاتون نے ایک ناکام تعلق کے نتیجے میں اس بچی کو جنم دیا، اس کے پہلے سے 2 بچے اور تھے اور تیسری بچی کی پیدائش کو اس نے خفیہ رکھا تھا۔ یولیا اس بچی سے چھٹکارا چاہتی تھی لیکن اس میں اُسے مار ڈالنے کی ہمت نہیں تھی، چنانچہ اس نے نومولود بچی کو گھر کی ایک الماری میں بند کر رکھا تھا۔ اس کا خیال تھا کہ بھوک کی وجہ سے بچی خود ہی مر جائے گی۔

ذرائع کے مطابق بچی کی پیدائش رواں برس اپریل میں ہوئی تھی۔ خاتون نے بھوک سے مرنے کے لیے بچی کو الماری میں بند کیا تھا لیکن اس کا 13 سالہ بیٹا اس دوران ماں سے چھپ کر ننھی بہن کو پانی اور دیگر اشیا کھلاتا رہا تاہم وہ بچی کے لیے غیر محفوظ اور ناکافی تھا۔ گزشتہ دن ایک بچے کی سالگرہ کے موقع پر پارٹی میں موجود ایک مہمان خاتون کو رونے کی ہلکی سی آواز سنائی دی، خاتون نے یولیا سے دریافت کیا تو اس نے بتایا کہ یہ ایک گڑیا ہے جو خودبخود بج اٹھتی ہے۔

لیکن مہمان خاتون بہانے سے اس کمرے کی طرف گئیں جہاں سے انہیں رونے کی آواز سنائی دی تھی، یولیا کے مطابق وہ کمرا بطور اسٹور روم استعمال ہوتا تھا۔ مہمان خاتون کمرے میں داخل ہوئیں اور وہاں موجود الماری کھولی تو چادر کے نیچے انہیں بچی دکھائی دی جس کے بعد انہوں نے پولیس کو اطلاع دی۔ بین الاقوامی خبررساں ادارے کے مطابق پولیس نے یولیا کے فلیٹ پر پہنچ کر بچی کو بازیاب کیا تو وہ شدید غذائی قلت کا شکار تھی، بچی کو فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا جہاں اب وہ انتہائی نگہداشت یونٹ میں زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہی ہے۔

پولیس کے مطابق یولیا کا بڑا بیٹا بچی کے لیے ہمدردی رکھتا تھا تاہم ماں نے اسے دھمکا رکھا تھا، پولیس نے یولیا کو گرفتار کر کے مقدمہ درج کرلیا ہے۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ عدالتی کارروائی کے نتیجے میں یولیا کو 7 سال قید کی سزا ہوسکتی ہے۔ واضح رہے کہ متاثرہ بچی کو ہسپتال میں انتہائی نگہداشت یونٹ میں رکھا گیا ہے۔