جی سی یونیورسٹی ساہیوال کیمپس میں طالبات کے ساتھ جنسی زیادتی کا انکشاف

ساہیوال : گورنمنٹ کالج ( جی سی ) یونیورسٹی کے ساہیوال کیمپس میں طالبات کو فیل کرنے کی دھمکی دے کر جنسی زیادتی کرنے کا انکشاف ہوگیا ، سوشل میڈیا پر ایک لڑکی کا بیان بھی سامنے آگیا ، وزیر اعلیٰ پنجاب ، وزیراعظم عمران کان اور چیف جسٹس پاکستان سے نوٹس لینے کا مطالبہ کردیا۔ اس حوالے سے تفصیلات کے مطابق جی سی یونیورسٹی ساہیوال کیمپس کی طالبہ نے اپنے ایک ویڈیو بیان میں بتایا ہے کہ طالبات کو امتحان میں نمبر لگوانے کے لیے کیمپس کے پرنسپل سہیل طارق کی طرف سے اپنی جنسی خواہشات پوری کرنے کے لیے مجبور کیا جاتا ہے ، جس مقصد کے لیے جی سی یونیورسٹی کے ہاسٹل میں مقیم لڑکیوں کو زیادتی کا نشانہ بھی بنایا جاتا ہے ۔

متاثرہ طا نے مزید تفصیلات بتائیں کہ اس مکروہ فعل کے لیے کیمپس میں ایک گروہ بنا ہوا ہے جس میں فراز حنیف ، کیمسڑی سے یونس کھوکھر، سیکیورٹی آفیسر محمد سرمد، اسسٹنٹ ڈائریکٹر محمد عارف شامل ہیں ، جن کی طرف سے طالبات کو مجبور کرکے پرنسپل چوہدری سہیل طارق کی جنسی خواہشات کو پورا کرنے کے لیے پیش کیا جاتا ہے ۔

اپنے بیان میں متاثرہ طالبہ کی جانب سے یہ الزام بھی عائد کیا گیا ہے کہ فراز حنیف نامی شخص نے اس کو بھی زیادتی کا نشانہ بنایا ، جس کے بعد اسے فیل کرنے کی دھمکی بھی دی گئی ، تاہم جب میں نے انہیں میڈیا پر جانے کی دھمکی دی تو ایک لاکھ روپے رشوت لے کر میرا سمسٹر کلیر کر دیا گیا ، متاثرہ طالبہ نے اپنے وڈیو بیان میں مزید کہا کہ انہوں نے چیئر مین نیب، جی سی یونیورسٹی کے وائس چانسلر اور وزیر اعلیٰ پنجاب کو درخواستیں دی مگر کسی کی طرف سے بھی کوئی ایکشن نہیں لیا گیا ، تنگ آکر میڈیا کا سہارا لے رہی ہوں ۔