لاہور میں آٹے اور چینی کی شدید قلت پیدا ہو گئی

لاہور : صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں آٹے کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے اور اوپن مارکیٹ میں 20کلو آٹے کا تھیلا 15 سو روپے تک جا پہنچا ہے لاہور میں چینی بھی فی کلو سو روپے سے زائد میں بکنے لگی ہے. گندم کی اوپن مارکیٹ میں فی من قیمت 24سو50 روپے تک پہنچنے پر فلور ملز نے آٹے کی سپلائی روک دی بازار میں880 روپے والا 20 کلو آٹے کا تھیلا15 سو روپے میں فروخت ہو رہا ہے اور فی کلو چینی 70 روپے کے بجائے105 روپے کلو تک مل رہی ہے.

ایک رپورٹ میں شہریوں کے حوالے سے بتایاگیا ہے کہ آٹا کہیں بھی نہیں ہے اور اگر ملتا بھی ہے تو بہت زیادہ پیسے مانگے جاتے ہیں چینی بھی اسی طرح ناپید ہو چکی ہے جہاں مل رہی ہے وہاں قیمت بہت زیادہ مانگی جا رہی ہے جبکہ دکانداروں کا کہنا ہے کہ سپلائی بہتر ہوگی تبھی تو ہم لوگوں کو اشیاءمہیا کرسکیں گے‘تاجروں کا کہنا ہے کہ ہم تو مجبور ہیں فلور ملز سپلائی نہیں دے رہیں اور چینی کی قیمت بھی زیادہ ہے.

گندم کی بڑھتی قیمتوں کو جواز بنا کر چکی اونرز ایسوسی ایشن نے بھی چکی کے فی کلو آٹے کی قیمت 80 سے 85روپے کر دی ہے واضح رہے کہ پچھلے ہفتے ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے تھا کہ ملک بھر میں آٹا، سبزیوں اور ادویات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہوا ہے لاہور میں فلور ملز نے 20 اور15 کلو کے آٹے کے تھیلوں کی سپلائی روک دی ہے جب کہ چکیوں پر فی کلو آٹا 80روپے تک فروخت ہو رہا ہے.

اس کے علاوہ لاہور میں سبزیوں کی قیمتیں بھی کنٹرول سے باہر ہیں لہسن 7 سو روپے، پیاز اور آلو ستر روپے فی کلو جب کہ ٹماٹر کی قیمت ایک سو بیس روپے تک جا پہنچی ہے ‘ پشاور میں آٹے کے 20 کلو تھیلے کی قیمت میں ایک ماہ میں دو سو روپے اضافہ ہوا ہے، شہر میں ادرک 7سو روپے اور لہسن کی قیمت دو سو روپے ہو گئی ہے. دوسری جانب حکومت نے جان بچانے والے ادویات سمیت94 دواﺅں کی قیمتوں میں 262 فیصد تک اضافہ کر دیا ہے جبکہ وفاقی ادارہ شماریات کی ہفتہ وار رپورٹ کے مطابق ایک ہفتے کے دوران مہنگائی میں 0.37 فیصد اضافہ ہوا ہے جس کے بعد مہنگائی کی شرح 9.04 فیصد کی سطح پر پہنچ گئی ہے.

رپورٹ کے مطابق ایک ہفتے کے دوران آٹے کا بیس کلو کا تھیلا پندرہ روپے، زندہ مرغی بائیس روپے اور مٹن ساڑھے چھ روپے کلو مہنگا ہوا ہے اس کے علاوہ دالوں سمیت بائیس اشیا کی قیمتیں بڑھیں۔

چینی سمیت چھ اشیا سستی ہوئیں جب کہ 23 اشیا کی قیمتوں میں استحکام رہا. رپورٹ کے مطابق دال مونگ تیرہ روپے، دال ماش سات روپے، دال چنا اڑھائی روپے اور دال مسور دو روپے فی کلو مہنگی ہوئی ہیں ٹماٹرکی قیمت میں پانچ اور لہسن کی قیمت میں چار روپے فی کلو کمی ہوئی رپورٹ کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات اور بجلی کے نرخ سمیت ملبوسات کی قیمتیں مستحکم رہیں.

یاد رہے کہ اگست کے آخری ہفتے مہنگائی میں 0.80 فیصد اضافہ ہوا تھا جس کے بعد مہنگائی کی شرح 9.47 فیصد تک پہنچ گئی تھی ادارہ شماریات کی جانب سے جاری اعداد شمار کے مطابق اگست کے ا?خری ہفتے میں 20 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہوا جب کہ 6 کی قیمتوں میں کمی ہوئی اور 25 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں استحکام رہا.