بابری مسجد کی شہادت کے مقدمے میں تمام ملزمان کو بری کردیا گیا

نئی دہلی : بھارتی عدالت نے بابری مسجد کی شہادت کے مقدمے میں تمام 32 ملزمان کو بری کردیا۔ تفصیلات کے مطابق تاریخی بابری مسجد کی شہادت کے حوالے سے لکھنو کی خصوصی عدالت نے 28سال بعد فیصلہ سنادیا۔ عدالت نے کہا کہ بابری مسجد گرانے کا فیصلہ اچانک ہوا، اس حوالے سے پہلے سے کی جانے والی کسی بھی منصوبہ بندی کے شواہد نہیں ملے ، لہٰذا اس مقدمے کے تمام ملزمان کو بری کیا جاتا ہے۔

بتایا گیا ہے کہ لکھنو کی خصوصی عدالت میں بابری مجد کی شہادت کے حوالے سے کیس کی سماعت ہوئی، اس موقع پر مقدمے کے 20سے زائد ملزمان موجود تھے جبکہ 6غیر حاضر تھے۔واضح رہے کہ بھارت میں شہید کی جانے والی تاریخی بابری مسجد کا آج 28 سال بعد فیصلہ سنایا گیا ، لکھنؤ کی ایک خصوصی عدالت کے جج نے فیصلہ سنایا ۔

ضرور پڑھیں   بغاوت کیس؛ نواز شریف ہائیکورٹ طلب، صحافی کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کا حکم

اس حوالے سے غیر ملکی خبر ایجنسی نے بتایا ہے کہ بابری مسجد کی شہادت سے متعلق بھارت میں لکھنؤ کی ایک خصوصی عدالت کے جج ایس کے یادو نے فیصلہ سنایا ، مزکورہ کیس کا فیصلہ 2 سال میں سنایا جانا تھا لیکن خصوصی عدالت اس سلسلے میں بار بار توسیع لیتی رہی ، جہاں بھارتی سپریم کورٹ نے آخری توسیع 30 ستمبر تک دی تھی۔

یاد رہے کہ تاریخی بابری مسجد کے 2 مقدمے عدالت میں زیر سماعت تھے ، ایک مقدمہ زمین کی ملکیت کا تھا جس کا فیصلہ سپریم کورٹ نے گذشتہ برس نومبر میں سناتے ہوئے یہ قرار دیا کہ وہ زمین جہاں بابری مسجد تھی وہ مندر کی زمین تھی ، اسی مقام پر 2 مہینے قبل بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی نے ایک تقریب میں رام مندر کا سنگ بنیاد رکھ دیا تھا۔ جب کہ دوسرا مقدمہ بابری مسجد کے انہدام کا تھا جس کا فیصلہ آج سنایا گیا اور بھارتی عدالت نے بابری مسجد کی شہادت کے مقدمے میں تمام 32 ملزمان کو بری کردیا۔