احتساب عدالت کا شہباز شریف کی اہلیہ اور بیٹی کو گرفتار کرنے کا حکم

لاہور : شہباز شریف خاندان کے خلاف منی لانڈرنگ کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔احتساب عدالت میں شہباز شریف خاندان کے خلاف منی لانڈرنگ ریفرنس پر سماعت ہوئی۔پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف کی اہلیہ نصرت شہباز اور صاحبزادی رابعہ عمران خان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے گئے ہیں۔عدالت نے دونوں کو گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔

عدالت نے نصرت شہباز اور رابطعہ عمران خان کے عدالت پیش نہ ہونے پر وارنٹ گرفتاری جاری کیے ہیں۔گذشتہ روز منی لانڈرنگ کیس میں ہی لاہور ہائیکورٹ کے حکم پر شہباز شریف کو بھی گرفتار کیا گیا تھا۔ نیب پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ شہباز شریف کے خلاف سٹیٹ بینک کے فنانشل مانیٹرنگ یونٹ کی جانب سے شکایت موصول ہونے پر انکوائری شروع کی۔

ضرور پڑھیں   وزیراعظم کا آزادکشمیر میں زلزلہ سے متاثرہ علاقوں کا دورہ

شہباز شریف اور ان کے صاحبزادوں نے 2008ء سے 2018ء تک 9 کاروباری یونٹس قائم کئے، 1990ء میں شہباز شریف کے اثاثوں کی مالیت 21 لاکھ روپے تھی، 1998ء میں ان کے اور ان کی اولاد کے اثاثوں کی مالیت ایک کروڑ 8 لاکھ ہوگئی، 2018ء میں شہباز شریف اور ان کے اہل خانہ کے اثاثوں کی مالیت بے نامی کھاتے داروں، فرنٹ مین کی وجہ سے 6 ارب کے قریب پہنچ گئی، شہباز شریف اور ان کے اہل خانہ نے کرپشن کرکے اس وقت 7 ارب سے زائد کے اثاثے بنالئے ہیں۔

نیب پراسیکیوٹر نے عدالت کو آگاہ کیا کہ منی لانڈرنگ کیس میں لاہور ہائی کورٹ حمزہ شہباز کی درخواست ضمانت مسترد کرچکی ہے۔ نیب پراسیکیوٹر نے موقف اختیار کیا کہ شہباز شریف تحقیقات پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہے ہیں اور ان کا ملک سے فرار ہونے کا بھی خدشہ ہے۔ نیب پراسیکیوٹر نے بتایا کہ منی لانڈرنگ کیس میں شہباز شریف کے بیٹے سلمان شہباز اشتہاری قرار دئیے جاچکے ہیں۔