متحدہ اپوزیشن نے حکومت مخالف تحریک چلانے کا متفقہ فیصلہ کرلیا

اسلام آباد : متحدہ اپوزیشن نے حکومت مخالف تحریک چلانے کا متفقہ فیصلہ کرلیا ،اکتوبر کے پہلے ہفتے میں تحریک کا باقاعدہ آغاز کردیا جائے گا، اسمبلیوں سے استعفوں، ان ہاؤس تبدیلی کے پلان پر بھی غور کیا جارہا ہے۔ ذرائع کے مطابق پاکستان پیپلزپارٹی کی میزبانی میں متحدہ اپوزیشن جماعتوں کی آل پارٹیز کانفرنس ہوئی ، جس میں مسلم لیگ ن ، پیپلزپارٹی، جے یوآئی ف ، اے این پی، سمیت دیگر جماعتوں نے شرکت کی، اجلاس سے سابق صدر مملکت آصف زرداری اور سابق وزیر اعظم نوازشریف نے براہ راست خطاب کیا، جس میں انہوں نے حکومت کی دوسالہ ناکام کارکردگی اور عوامی مسائل کو اجاگر کیا۔

اے پی سی کے مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا کہ ہے کہ متحدہ اپوزیشن نے حکومت مخالف تحریک چلانے کا حتمی فیصلہ کرلیا ہے۔

اکتوبر کے پہلے ہفتے میں تحریک کا باقاعدہ آغاز ہوجائے گا۔احتجاجی لانگ مارچ بھی تحریک کا حصہ ہوگا، جبکہ اسمبلیوں سے استعفوں اور ان ہاؤس تبدیلی کے لیے آئینی و قانونی معاملات پر بھی غور کیا جارہا ہے۔ دریں اثناں متحدہ اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس میں جمیعت علماء اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے جارحانہ انداز اپناتے ہوئے تجویز دی کہا کہ میرے نزدیک وزیراعظم ، اسمبلیاں اور چیئرمین سینیٹ جعلی ہیں، اپوزیشن اسمبلیوں سے استعفے دے جبکہ پیپلزپارٹی سندھ حکومت کو تحلیل کردے۔

رہنماء جے یوآئی ف مولانا غفور حیدری نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کی تقریر بہت خوفناک تھی اسی لیے لائیو نہیں دکھائی گئی۔اجلاس میں مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ بنیادی بات یہ ہےکہ اب میں زبانی دعوؤں پریقین نہیں رکھتا۔ ہم نےمضبوط موقف کی طرف جاناہے۔ اب آپ بہت کہیں گےکہ ہم لڑیں گےلیکن آپ لوگ بہت پیچھےہٹ چکےہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں پوری قوت کے ساتھ سڑکوں پر نکلنا چاہیے جب تک حکومت کا خاتمہ نہیں ہوجاتا تب تک تحریک چلانی چاہیے۔

حکومت تو ہماری آواز پبلک ہونے سے روکتی ہے لیکن اب اے پی سی نے بھی تقریر نشر ہونے سے روک دیا۔ ہم منتظمین کو اپنا احتجاج ریکارڈ کروانا چاہتے ہیں، بلاول بھٹو نے مولانا سے کہا کہ آپ نے خود کہا تھا کہ ان کیمرہ اجلاس ہونا چاہیے ۔اسی طرح پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن کے رہنماؤں نے پریس کانفرنس میں کہا کہ اے پی سی میں آئینی پلان مرتب کیا جارہا ہے، پلان مرتب کرنے کے بعد اے پی سی کا مشترکہ اعلامیہ جاری کیا جائے گا۔

مسلم لیگ ن پنجاب کے صدر رانا ثناء اللہ نے کہا کہ اے پی سی میں آئینی پلان مرتب کیا جارہا ہے، حکومت سے جان چھڑوانے کیلئے آئینی و قانونی آپشن استعمال کریں گے۔مولانا فضل الرحمان نے کھل کرباتیں کیں، اسمبلیوں سے استعفوں کا آپشن مولانا فضل الرحمان نے دیا اس پر مزید بات ہورہی ہے۔ان ہاؤس تبدیلی کیلئے آئینی و قانونی آپشن موجود ہیں، ابھی رہنماؤں کی جانب سے مزید تجاویز آرہی ہیں، ن لیگ ان خیالات کے قریب ہوگی جن کا اظہار نوازشریف نے کیا۔