موٹروے زیادتی کیس، ملزمان کا مبینہ تیسرا ساتھی گرفتار کر لیا گیا

لاہور : موٹروے زیادتی کیس میں پولیس نے ایک اور گرفتاری کر لی۔بتایا گیا ہے کہ پولیس نے اقبال عرف بالا مستری کو بھی گرفتار کر لیا ہے۔بالا مستری کو ملزم وقار اور عباس کی نشاندہی پر حراست میں لیا گیا۔پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم واردات کی رات راستے سے ہی واپس چلا گیا تھا۔بالا مستری ملزم عابد کے ساتھ متعدد وارداتوں میں ملوث رہا۔

بالا مستری کو چیچہ وطنی سے گرفتار کیا گیا تھا۔ملزم عابد علی اور شفقت بالا مستری کے پاس کام کرتے تھے۔شفقت نے بتایا کہ عابد علی نے فون کر کے مجھے اور بالا مستری کو بلایا لیکن بالا مستری نہ آیا۔بالا مستری کو وقار الحسن اور عباس کی نشاندہی پر گرفتار کیا گیا۔پولیس اب گرفتار ملزم سے مزید تفتیش کرے گی۔

ضرور پڑھیں   علیمہ خان سے قانون کے مطابق ریکوری کریں گے، چیئرمین ایف بی آر

گذشتہ روز پولیس نے ملزم شفقت علی کو گرفتار کیا تھا جس نے اعتراف جرم بھی کیا۔

،شفقت علی کی عمر 23سال ہے جو مرکزی ملزم عابد علی کا قریبی ساتھی ہے۔پولیس نے گذشتہ رو ز شفقت علی کو دیپالپور سے گرفتار کیا تھا۔ ملزم نے پولیس کے سامنے خاتون سے زیادتی کا اعتراف کر لیا ہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ ضلع بہاولنگر تحصیل ہارون آباد کا رہائشی ہے پنجاب میں مختلف گینگز کے ساتھ منسلک رہے ہیں شفقت علی اور اس کا خاندان پہلے بھی جرائم میں ملوث رہا ہے۔

ملزم شفقت علی نے عابد کے ساتھ مل کر 11 وارداتیں کیں۔ملزم شفقت علی نے پولیس کو دئیے گئے اعترافی جرم میں بتایا ہے کہ میں نے اور عابد نے مل کر موٹروے پر ڈکیتی کی تھی۔ واقعے کا مرکزی ملزم عابد علی جرائم میں میرا ساتھی ہے۔پہلے ہم نے ڈکیتی کی،بعدازاں خاتون کو زیادتی کا نشانہ بنایا۔پعابد علی کے ساتھ مل کر وارداتیں کرتا تھا،واردات کے لیے عابد نے لاہور بنایا تھا۔موٹروے پر واردات کے بعد ایک رات قلعہ ستار گاؤں میں گزاری۔معاملہ منظر عام پر آنے کے بعد دیپالپور چلا گیا تھا۔جب کہ عابد علی والد کے پاس چلا گیا تھا،عابد سے آخری رابطہ تین روز قبل ہوا۔