بیٹا واردات میں ملوث ہے تو گولی مار دی جائے، مبینہ ملزم کے والد کا بیان

لاہور : لاہور موٹروے زیادتی کیس کی تحقیقات میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے،ایک ملزم کا ڈی این اے میچ کر گیا ہے۔مبینہ مرکزی ملزم عابد بہاولنگر کے علاقے فورٹ عباس کا رہائشی ہے۔2013 ء میں ڈکیتی کے دوران ماں سے اجتماعی زیادتی کے واقعے میں ملوث تھا۔ملزم نے اپنے 4 ساتھیوں کے ہمراہ یہ واردات کی تھی۔۔6 ماہ تک کیس زیر سماعت رہنے کے بعد ملزموں نے ڈرا دھمکا کر مدعی سے صلح کر لی تھی۔

بدنامی کے ڈر سے متاثرہ خاندان بھی وہ علاقہ چھوڑ گئے تھے۔اہل علاقہ کے دباؤ پر ملزم عابد اور اس کی فیملی نے علاقہ چھوڑ دیا تھا۔مبینہ ملزم عابد اور اس کا خاندان 5 سال قبل فورٹ عباس سے چھانگا مانگا منتقل ہو گیا تھا۔ موٹروے زیادتی کیس کے مبینہ مرکزی ملزم کے والد اکبر علی نے نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ عابد علی شیخوپورہ روڈ پر قلعہ ستار شاہ میں رہائش پذیر تھا۔

ضرور پڑھیں   فرانس سمیت یورپی ممالک میں پاکستان کے آن لائن ویزے کی سہولت شروع کردی گئی

عابد علی شادی شدہ ہے اور ایک بیٹی کا باپ بھی ہے،بیٹے نے پسند کی شادی کی تھی ۔فیکٹری میں محنت مزدوری کرتا تھا۔والد نے تصدیق کی ہے کہ عابد علی دو روز قبل شام 6 بجے میرے گھر چھانگا مانگا آیا تھا۔عابد علی نے رات یہاں گزاری اور دوسرے دن سہ پہر روانہ ہوا۔ملزم کے والد نے مزید کہا کہ اگر بیٹا اس واردات میں ملوث ہے تو اسے گولی مارنے پر کوئی اعتراض نہیں۔

ملزم نے صرف تیسری جماعت تک پڑھا۔واضح رہے کہ ملزم عابد علی کی شناخت ڈی این اے میچ ہونے کی بنا پر ممکن ہوئی، خاتون کے لباس سے ڈی این اے میچ ہونے والے ملزم کا پہلے بھی کریمنل رکارڈ ہے جہاں ملزم کا ڈی این اے 2013ء کے ڈیٹا بیس سے میچ ہوتا، تاہم عابد ملہی کو تاحال گرفتار نہیں کیا جاسکا اس مقصد کیلئے سی ٹی ڈی کی طرف سے کارروائی کی جارہی ہے ۔