لاہور موٹروے زیادتی واقعے کا عینی شاہد سامنے آگیا

لاہور : لاہور موٹروے زیادتی واقعے کا عینی شاہد سامنے آگیا، عینی شاہد خالد مسعود کا کہنا ہے کہ گھر واپس جاتے ہوئے دیکھا موٹروے پر ایک گاڑی کھڑی ہے، ایک شخص خاتون کو تشدد کا نشانہ بنا رہا تھا، گاڑی کی رفتار زیادہ ہونے کی وجہ سے ملزمان کے چہرے نہ دیکھ سکا، پولیس کو اطلاع دے کر گھر چلا گیا تھا، صبح ٹی وی پر دل دہلا دینے والے واقعے کی تفصیلات معلوم ہوئیں۔

تفصیلات کے مطابق لاہور موٹروے پر خاتون کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کے واقعے کی تحقیقات کے دوران ایک اور پیش رفت ہوئی ہے۔ واقعے کا واحد عینی شاہد سامنے آ گیا ہے۔ پولیس کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ خالد مسعود نامی شخص سامنے آیا ہے جس نے واقعے سے متعلق بیان ریکارڈ کروایا ہے۔

پولیس کو دیے گئے بیان میں عینی شاہد خالد مسعود کا بتانا ہے کہ جس رات یہ واقعہ پیش آیا اس رات اپنے ماموں کو چھوڑ کر واپس آرہا تھا تو مجھے موٹروے پر ایک گاڑی نظر آئی۔

گاڑی کے قریب خاتون اور ان کے ساتھ ایک شخص موجود تھا جس نے خاتون کو بازو سے پکڑ کر تھپڑ مارا اور دوسری طرف لے جانے لگا۔ ایسا لگا کہ خاتون مدد مانگنے کے لیے سڑک پر آئیں لیکن ایک شخص ان کیساتھ دست درازی کررہا تھا۔ وہ گاڑی پر جائے وقوعہ سے گزر رہا تھا اور چونکہ گاڑی کی رفتار زیادہ تھی اس لیے ملزمان کے چہرے دیکھنے سے قاصر رہا۔ اس صورتحال میں رات 2 بجے 47 پر موٹروے پولیس سے رابطہ کیا اور انہیں تمام واقعے سے متعلق آگاہ کیا۔

پولیس کو مطلع کرنے کے بعد گھر چلا گیا اور پھر صبح اٹھ کر جب ٹی وی دیکھا تو خاتون کیساتھ ہوئی اجتماعی زیادتی کے دل دہلا دینے والے واقعے کا معلوم ہوا۔ دوسری جانب پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان کے علاقے کی شناخت کر لی گئی۔ ملزمان کا تعلق کرول گاوں سے ہے۔ اس علاقے کے 7 مشتبہ افراد کے ڈی این اے سیمپل لے کر فرانزک لیب بھجوا دیے گئے ہیں۔ جبکہ 14 مشتبہ افراد کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔