عرب لیگ کا یو اے ای۔ اسرائیل معاہدے کی مذمت نہ کرنے پر اتفاق

جدہ : فلسطینی رہنما فلسطینی ریاست کے لیے سعودی عرب کی حمایت کی تجدید میں کامیاب ہوگئے لیکن عرب لیگ کو متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان معاہدے کی مذمت کے لیے منانے میں ناکام رہے”الجزیرہ“کے مطابق وزرائے خارجہ کی ویڈیو کانفرنس کے دوران فلسطینی قیادت نے امریکا کی ثالثی میں 13 اگست کو ہونے والے اس معاہدے سے متعلق متحدہ عرب امارات پر تنقید میں نرمی دکھائی تاکہ عرب ممالک کی حمایت حاصل کی جاسکے ، تاہم اس کا کوئی فائدہ نہ ہوا.

عرب لیگ کے معاون سیکرٹری جنرل حسام ذکی نے صحافیوں کو بتایا کہ اس معاملے سے متعلق سنجیدہ اور جامع بات چیت ہوئی جس میں کچھ وقت لگا، لیکن آخر میں فلسطینی قیادت کی جانب سے مجوزہ قرارداد کے مسودے پر اتفاق نہ ہوسکا فلسطین کے سفارتی ذرائع کے مطابق عرب لیگ نے یو اے ای۔

اسرائیل معاہدے کی مذمت کے حوالے سے قرارداد کے مسودے کو مسترد کردیا.

ضرور پڑھیں   وفاقی کابینہ نے بجٹ2020-21ء کی تجاویز کی منظوری دے دی

فلسطین کے سفیر محمد اقلوک نے مقامی نشریاتی ادارے کو بتایا کہ فلسطین اور عرب ممالک نے 2002 کے عرب لیگ معاہدے میں دو ریاستی حل کے لیے زور دینے پر اتفاق کیا تھا انہوں نے کہا کہ تین گھنٹے کی بات چیت کے بعد فلسطین اور عرب ممالک نے اسرائیل۔ یو اے ای معاہدے کی واضح مذمت شامل نہ کرنے پر اتفاق کیا.

انہوں نے کہا کہ کچھ عرب ریاستوں نے اس معاہدے کو قانونی شکل دینے کے لیے چند شقیں شامل کرنے کی کوشش کی، تاہم انہوں نے ان ممالک کے نام نہیں بتائے محمد اقلوک نے کہا کہ اس پر ردعمل میں فلسطین نے معاہدے کی مذمت کے لیے قرارداد کا مسودہ پیش کیا، تاہم عرب ممالک نے اسے مسترد کردیا.

قبل ازیں فلسطین کے وزیر خارجہ ریاض المالکی نے عرب ممالک سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ یو اے ای۔ اسرائیل معاہدے کو مسترد کردیں واضح رہے کہ اسرائیل اور متحدہ عرب امارات نے 13 اگست کو تعلقات قائم کرنے کے لیے معاہدہ کرنے کا اعلان کیا تھا،

ضرور پڑھیں   سونا 2500 روپے فی تولہ مہنگا کر دیا گیا

جس کے بعد امریکی صدر کے ساتھیوں سمیت اسرائیلی وفد نے متحدہ عرب امارات کا دورہ کیا تھا. اسرائیلی اور امریکی وفد کے دورے میں مختلف شعبوں میں تعلقات کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا تھا بعد ازاں اسرائیل اور امریکی وفد پہلی مرتبہ اسرائیلی کمرشل پرواز کے ذریعے متحدہ عرب امارات پہنچے تھے.

امریکی اور اسرائیلی وفد نے مذاکرات کے باقاعدہ آغاز سے قبل تل ابیب سے کمرشل پرواز سے سعودی حدود سے ہوتے ہوئے براہ راست متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابوظہبی پہنچ کر ایوی ایشن کی تاریخ میں نیا باب رقم کیا تھا طیارے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سینئر مشیر اور داماد جیریڈ کشنر اور قومی سلامتی کے مشیر رابرٹ او برائن امریکی وفد کے سربراہ تھے جبکہ اسرائیلی ٹیم کی قیادت او برائن کے ہم منصب میر بین شبات کر رہے تھے.

ضرور پڑھیں   جیسنڈا آرڈرن کا کرائسٹ چرچ حملے کی تحقیقات کے لیے رائل کمیشن بنانے کا اعلان

جیرڈ کشنر نے طیارے میں سوار ہونے سے قبل ایئرپورٹ پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ میں نے گزشتہ روز مغربی دیوار (یہودیوں کی مقدس عبادت کا مقام) پر دعا کی ہے کہ مسلمان اور عرب، جو پوری دنیا میں اس پرواز کو دیکھ رہے ہوں گے، وہ ماضی کو بھلا کر آگے بڑھیں گے. دوسری جانب بینجمن نیتن یاہو نے کہا تھا کہ متحدہ عرب امارات کے ساتھ امریکی ثالثی میں ہونے والے معاہدے کے علاوہ اسرائیل سے تعلقات قائم کرنے کے لیے متعدد عرب ریاستوں کے ساتھ خفیہ بات چیت جاری ہیں.

انہوں نے کہا کہ اسرائیلی ریاست کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے لیے عرب اور مسلمان راہنماﺅں کے ساتھ خفیہ ملاقاتیں ہو رہی ہیں متحدہ عرب امارات کو اس معاہدے پر متعدد مسلم ممالک خصوصاً ایران اور ترکی کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا.