لداخ میں بھارتی فوج کی اشتعال انگیزی ‘چینی فوج پر فائرنگ

لندن : چین اور بھارت کے درمیان سرحدی تنازع مزید شدت اختیار کرتا جا رہا ہے اور اب دونوں ملکوں کی افواج کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوا ہے بیجنگ اور نئی دہلی ایک دوسرے پر فائرنگ میں پہل کرنے کا الزام لگا رہے ہیں. برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق چین کی وزارتِ دفاع نے منگل کو ایک بیان میں کہا ہے کہ لداخ میں اس کے فوجیوں نے اس وقت جوابی اقدامات کیے جب بھارتی فورسز کے اہل کاروں نے فائرنگ شروع کی.

وزارتِ دفاع کے بیان کے مطابق بھارت نے پیر کو انتہائی اشتعال انگیزی کا مظاہرہ کیا اور اس کے اہل کاروں نے مغربی سرحد پر لداخ میں لائن آف ایکچوئل کنٹرول (ایل اے ای) کو عبور کیا اور فائرنگ کی دوسری جانب بھارت نے بھی چین کی سرحدی فورسز پر فائرنگ کا الزام عائد کیا ہے.

نئی دہلی کے بیان میں کہ گیا ہے کہ چین نے واضح طور پر معاہدوں کی خلاف ورزی کی اور بھارتی فورسز کو خوف زدہ کرنے کے لیے کئی راﺅنڈز فضا میں فائر کیے دہلی کا کہنا ہے کہ چین کھلے عام معاہدوں کی خلاف ورزی کر رہا ہے اور ان کے فوجی سرحد پر جارحانہ کارروائیوں میں ملوث ہیں.

بھارتی فوج نے ایک بیان میں کہا کہ چینی فوج کے اہلکار ایل اے سی پر بھارتی کی حدود میں واقع ایک علاقے کی طرف بڑھنے کی کوشش کر رہے تھے جب ہمارے فوجیوں نے ان کا پیچھا کیا

تو انہوں نے ہوائی فائرنگ کر کے ہمارے فوجیوں کو خوفزدہ کرنے کی کوشش کی. برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق دہلی سرکار کا کہنا ہے کہ اس اشتعال انگیز حرکت کے باوجود بھارتی فوجیوں نے پیشہ وارانہ رویے اور ذمہ داری کا مظاہرہ کیا‘ 45 سال میں یہ پہلا موقعہ ہوگا کہ دونوں ممالک کی سرحد پر فائرنگ ہوئی ہو‘دونوں ممالک کے درمیان اس علاقے میں ہتھیار نہ استعمال کرنے کا معاہدہ ہے تاہم گذشتہ چند ماہ میں دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے.

یاد رہے کہ گذشتہ روز چینی افواج کی جانب سے پچھلے ہفتے ایک سرحدی ریاست سے مبینہ طور پر بھارت کے پانچ جاسوسوں کو اغوا کرنے کی خبروں پر نئی دہلی اور بیجنگ کے درمیان کشیدگی مزید بڑھنے لگی تھی‘یہ الزام سب سے پہلے بھارتی ریاست اروناچل پردیش کی قانون ساز اسمبلی کے ایک رکن نے ٹوئٹر پر لگایا تھا جس میں بھارتی حکومت نے جاسوسوں کو ”عام شہری“قراردیا اس کے بعد بھارتی کابینہ کے ایک وزیر نے کہا کہ چینی فوج کو ”ہاٹ لائن پیغام“ بھیجا جا چکا ہے‘ریاستی قانون ساز اسمبلی کے رکن تاپڑ گاﺅ نے اپنی ٹویٹ میں کہا کہ مبینہ اغوا 3 ستمبر کو سرحد کے پاس ہوا انہوں نے مزید تفصیلات نہیں دیں.

بھارت نے اگست میں دو بار چین پر یہ الزام عائد کیاتھا کہ وہ سرحد پر اشتعال انگیز فوجی کارروائیوں سے کشیدگی بڑھا رہا ہے جبکہ بیجنگ نے اِن الزامات کی تردید کی ہے‘بھارت کے وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ 5 ستمبر کو اپنے چینی ہم منصب سے ماسکو میں ملے تھے مگر جہاں اس ملاقات سے حالات بہتر ہونے کی امید کی جا رہی تھی وہاں اس سے دونوں میں تلخی بڑھتی نظر آئی ہے.