ڈاکٹر ماہا کے والد کا جنید کے الزامات پر موقف سامنے آ گیا

کراچی : ڈاکٹر ماہا مبینہ خودکشی کیس میں گذشتہ روز ماہا شاہ کے دوست جنید پریس کانفرنس کرتے ہوئے اہم انکشافات کیے تھے تاہم اب ڈاکٹر ماہا کے والد کا جنید کے الزامات پر موقف سامنے آ گیا ہے۔میرے پاس ثبوت موجود ہیں کہ جنید بیٹی کو ہراساں کرتا تھا۔جنید کو کیسے معلوم کہ ماہا کی خودکشی کے روز ہمارے گھر میں کیا ہوا تھا۔

یعنی کوئی کسی کے گھر کی بات کیسے بتا سکتا ہے،ظاہر ہے کوئی گھر کے اندر جائے گا تو ہی اسے کچھ معلوم ہو گا۔تو اس کا مطلب یہ ہے کہ جنید گھر میں آیا اور اس نے ہی ماہا کو کچھ ایسا کہا تھا کہ وہ خودکشی پر مجبور ہوئی۔جنید خان نے پریس کانفرنس میں آصف شاہ پر بھی کئی الزامات لگائے تھے۔تاہم ڈاکٹر ماہا کے والد کی جانب سے تمام الزامات کی تردید کی گئی ہے۔

ان الزامات میں کوئی سچائی نہیں ہے۔جنید خان نے پریس کانفرنس میں الزامات لگانے کے علاوہ کچھ نہیں کیا۔میرے پاس اس بات کے ثبوت موجود ہیں کہ یہ بیٹی پر تشدد کرتا رہا۔دنیا نے ماہا کے وائس میسج سنے ہیں۔ ڈاکٹر ماہا کیس میں نامزد ملزم نے نئے انکشافات کرکے معاملے کو نیا رخ دے دیاہے۔

ڈاکٹر ماہا کیس سے متعلق ماہا کے دوست اور مقدمے میں نامزد ملزم جنید نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ متوفیہ کے والد آصف شاہ نے مجھ پر الزامات عائد کیے اور میرے آڈیو پیغامات چلائے گئے جبکہ معاملہ اس کے برعکس ہے، ماہا کے اپنے والد کے ساتھ ہی تعلقات اچھے نہیں تھے بلکہ دونوں باپ بیٹی کا جائیداد پر تنازعہ چل رہا تھا۔

ملزم جنید نے بتایا کہ ڈاکٹر ماہا سے میری ملاقات 2016 کے آواخر میں ہوئی اور یہ دوستی اس کی موت کے دن تک رہی، ماہا نے مجھے ویلنٹائن ڈے پر تحفہ بھی دیا اور 19 جولائی کو میری سالگرہ پر کارڈ بھی بناکر دیا، آخری پیغام میں بھی محبت کا اظہار کیا، اگر ماہا پر تشدد کرتا تو مجھے محبت بھرے پیغام نہ بھیجتی۔ جنید کے مطابق ڈاکٹر ماہا کے والد روحانی پیشوا ہیں، کورونا کے آغاز پر ماہا کے والد اسے زبردستی میرپورخاص لے گئے، دونوں کا آپس میں تعلق اچھا نہیں تھا اور اس کی وجہ جائیداد تھی،

آصف شاہ نے ایک 20 سالہ لڑکی کے لئے ماہا کی والدہ کو چھوڑا تو ماہا سے ان کا جھگڑا ہوگیا، وہ اپنے والد کو غلط الفاظ میں پکارتی تھی، اس کے والد اور اس کا آخری مسئلہ جولائی 2020 میں کھڑا ہوا، ماہا کی ماں کے نام پر جائیداد تھی جسے آصف شاہ نے فروخت کردیا تھا، ماہا کے والد نے 23 جولائی کو پیغام دیا کہ ماہا کو خاندانی جھگڑوں کا حصہ نہ بنایا جائے اس لئے اس نے ماہا اور ان کی ماں کو کرائے کے گھر منتقل کردیا۔