پی ٹی آئی میں شامل ہو جاؤں تو سارے کیس ختم ہوجائیں گے۔ عزیر بلوچ

کراچی : انسداد دہشت گردی عدالت نے لیاری گینگ وار کے سرغنہ عزیر بلوچ کے خلاف 8 مقدمات فوری نمٹانے کیلئے اے ٹی سی 8 نمبر میں منتقل کیے تھے۔ عزیر بلوچ کیخلاف پولیس مقابلہ، اقدام قتل، پولیس پر حملہ، قتل سمیت 8 مقدمات شامل ہیں۔آج عزیر بلوچ کو ارشد پپو قتل کیس میں اے ٹی سنٹرل جیل پیش کیا گیا۔جج نے کہا کہ جو کچھ کہنا چاہتے ہیں لکھ کر دیں،قانون کے مطابق حکم دیں گے۔

لیاری گینگ وار کے سرغنہ عزیر بلوچ نے عدالت میں بڑا بیان دیا ہے۔عزیر بلوچ نے کہا کہ پیپلز پارٹی میں ہوں اس لیے عتاب کا شکار ہوں۔تحریک انصاف میں شامل ہو جاؤں تو سارے کیس ختم ہو جائیں گے۔عزیر بلوچ نے مزید کہا کہ مجھے سہولیات نہیں دی جا رہیں،واپس جیل منتقل کیا جائے۔

میٹھا رام اسپتال میں تشدد کیا جاتا ہے۔میرے ساتھ ہر لحاظ سے زیادتی کی جا رہی ہے۔

خیال رہے کہ 26 اگست2020ء کو کراچی کی انسداد دہشتگردی عدالت نے ارشد پپو کیس میں لیاری گینگسٹر عزیر بلوچ پر ترمیمی فرد جرم عائد کی تھی۔بدھ کوکراچی کی انسداد دہشتگردی عدالت میں ارشد پپو قتل کیس کی سماعت ہوئی، جس میں عدالت نے عزیر بلوچ پر ترمیمی فرد جرم عائد کی۔ عزیر بلوچ نے صحت جرم سے انکار کر دیا۔عدالت نے آئندہ سماعت پر استغاثہ کے گواہوں کو طلب کرلیا۔

دوران سماعت عزیر بلوچ نے عدالت سے استدعا کی کہ جس جج نے میرا اعترافی بیان ریکارڈ کیا تھا اسے عدالت میں طلب کیا جائے اور اعترافی بیان ریکارڈ کرنے والے جج سے حلف لے کر اعترافی بیان سے متعلق پوچھا جائے۔عزیر بلوچ نے عدالت کو بتایا کہ میں عملا جیل کسٹڈی میں نہیں ہوں بلکہ مجھے میٹھا رام ہاسٹل میں رینجرز کی حراست میں رکھا گیا ہے۔

جیل پولیس مجھے صرف ٹرائل کے لیے لے کر آتی ہے اس کے علاوہ جیل پولیس کا کوئی کردار نہیں۔عدالت نے عزیر بلوچ کی اہل خانہ سے ملاقات اور جیل مینوئل پر عمل درآمد سے متعلق سرکاری وکیل سے جواب طلب کرتے ہوئے درخواست کی مزید سماعت 14 ستمبر تک ملتوی کردی۔عزیر بلوچ و دیگر پر 2013 میں ارشد پپو سمیت 3 افراد کو قتل کرنے کا الزام ہے۔