پاکستان میں سیلاب سے تباہی: جولائی سے اب تک کم از کم 180 افراد ہلاک

پاکستان میں اس سال پھر سیلاب اور بارشوں سے بڑے پیمانے پر تباہی ہو رہی ہے اور جولائی سے اب تک ملک کے چار صوبوں میں کم از کم 180 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ متعدد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

سیلاب سے سڑکوں، پلوں اور املاک کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔ ایک ہفتے سے جاری یہ سلسلہ ابھی رکا نہیں ہے۔

بارشیں اور سیلاب ہر سال آتے ہیں اور اس کے لیے اکثر اوقات وارننگ جاری کر دی جاتی ہے لیکن اس کے باوجود ہر سال ان سے انسانی جانوں کے نقصان کے علاوہ انفراسٹرکچر کو بھی بھاری نقصان ہوتا ہے۔

ان بارشوں اور سیلاب سے کہیں ہسنتے بستے گھر پانی میں بہہ گئے اور کہیں مکانات پر پہاڑی تودے آگرے جبکہ کچے مکانات کے مکینوں پر ان ہی کے مکان کی چھتیں گر پڑیں۔

پاکستان میں اس سال جوں جوں بارشیں تھمنا شروع ہوئی ہیں اور دریاؤں میں پانی کی سطح نیچے آ رہی ہے نقصانات کی اطلاعات بھی موصول ہو رہی ہیں۔

خیبر پختونخوا میں ہلاکتیں بھی تباہی بھی
شمالی علاقہ جات،تصویر کا ذریعہSYED SHAHIB UD DIN
خیبر پختونخوا میں اگست کے آخر سے اب تک 49 افراد ہلاک اور 67 زخمی ہوئے ہیں جبکہ مزید جانی نقصانات کے حوالے سے متعلقہ محکمے اور مقامی انتظامیہ آپس میں رابطے کر رہے ہیں۔ سیلاب اور بارشوں سے اکثر علاقوں سے رابطے منقطع ہوئے ہیں جبکہ مواصلات کا نظام بھی بری طرح متاثر ہوا ہے۔

مقامی لوگوں کے مطابق سیلاب کی شدت میں کمی آئی ہے اور بالائی علاقوں سے دریاؤں میں آنے والے پانی کی سطح معمول پر آ رہی ہے۔ بعض علاقوں میں سیلابی ریلے گزر جانے کے بعد اب نقصان کا اندازہ لگایا جا رہا ہے۔

اس بارے میں
’میرے سامنے میرا پورا خاندان اُجڑ گیا مگر میں انھیں بچا نہیں سکا‘

سندھ میں بارشوں سے کپاس کی فصل کو شدید نقصان

’ہم آرام سے وادی ہنزہ پہنچ گئے مگر واپسی کا سفر خوفزدہ کر دینے والا تھا‘

لینڈ سلائیڈنگ: ’ہمارا خاندان فیری میڈوز پر پھنسا ہوا ہے‘

کراچی ہنگامی صورتحال: شہری کیا احتیاطی تدابیر اختیار کر سکتے ہیں؟

YouTube پوسٹ نظرانداز کریں, 1

ویڈیو کیپشن,تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں
YouTube پوسٹ کا اختتام, 1
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان کو ایک بریفنگ میں بتایا گیا ہے کہ ملاکنڈ ڈویژن میں دریاؤں کی صورتحال معمول پر آ رہی ہے اور جوں جو پانی کی سطح نیچے آرہی ہے اور دور دراز علاقوں سے رابطے بحال ہو رہے ہیں نقصانات کی اطلاعات بھی پہنچ رہی ہیں۔

ملاکنڈ ڈویژن کے نو اضلاع میں نقصان ہوا ہے جن میں سوات، چترال، دیر، شانگلہ، بونیر کے علاقے شامل ہیں۔ سوات میں بحرین اور مدین میں زیادہ نقصان ہوا ہے جبکہ اپر چترال میں ریشین کے مقام پر زیادہ تباہی کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

ملاکنڈ ڈویژن میں 130 مکان مکمل تباہ ہو گئے ہیں جبکہ 300 سے زیادہ مکانات کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔ اس طرح 54 سڑکیں اور 19 پلوں کو شدید نقصان پہنچا ہے جن کی مرمت کے لیے کام شروع کر دیا گیا ہے۔ اپر چترال میں ریشین کے مقام پر تباہ ہونے والے پل کی جگہ عارضی پل تعمیر کیا جا رہا تاکہ اپر چترال کا ملک کے دیگر علاقوں سے رابطہ بحال ہو سکے۔

اس کے علاوہ ادھر ہزارہ ڈویژن میں مانسہرہ اور بالائی علاقے جیسے کاغان اور ناران کے قریبی دیہاتوں میں بھی سیلابی ریلوں سے نقصان پہنچا ہے جبکہ اکثر مقامات پر لینڈ سلائڈنگ سے سڑکیں تباہ ہو گئی ہیں۔ صوابی بونیر میں مکانات گرے ہیں جن میں جانی نقصانات بھی ہوئے ہیں۔

پشاور،تصویر کا ذریعہEPA
بلوچستان میں 20 ہلاک اور 700 مکان تباہ
نامہ نگار محمد کاظم نے بتایا کہ صوبہ کے مختلف شہروں میں بارشوں اور سیلاب سے بڑے پیمانے پر انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچا ہے۔

بلوچستان میں اگست میں ہونے والی بارشوں اور سیلابی ریلوں میں کم از کم 20 افراد ہلاک اور 17 زخمی ہوئے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں دس بچے شامل ہیں۔

پی ڈیی ایم اے بلوچستان کے کنٹرول روم کے مطابق بارشوں اور سیلابی ریلوں سے بلوچستان کے 33 اضلاع میں مجموعی طور پر 17 اضلاع زیادہ متاثر ہوئے ہیں جن میں ڈیرہ بگٹی، جعفرآباد، نصیرآباد، خضدار، گوادر، جھل مگسی، کچھی، ہرنائی، کوہلو، کیچ، قلات، لسبیلہ، سبی، بارکھان، چاغی، ژوب اور دکی شامل ہیں۔

ادارے کے مطابق ان اضلاع میں مجموعی طورپر 1799 گھروں کو نقصان پہنچا جن میں سے 906 گھر مکمل طور پر تباہ ہوگئے ہیں۔

ان اضلاع میں سے گھروں کو سب سے زیادہ نقصان جعفرآباد میں پہنچا ہے جہاں مکمل طور پر تباہ ہونے والے گھروں کی تعداد 700 جبکہ جزوی طور پر متاثر ہونے والے گھروں کی تعداد 500 ہے۔

جبکہ اس کے بعد سبی اور جھل مگسی میں گھروں کو زیادہ نقصان پہنچا ہے۔

پی ڈی ایم اے کے مطابق ان اضلاع میں مجموعی طور پر 15 ہزار 344 ایکڑ اراضی پر کھڑی فصلوں کو نقصان پہنچا ہے۔

سبزیوں کی فصل کو نقصان پہنچنے سے ان کی قلت پیدا ہوگئی ہے جس کے باعث کوئٹہ شہر میں زیادہ تر سبزیوں کی قیمتیں دگنی ہوگئی ہیں۔

مجموعی طور پر سیلاب سے ان اضلاع میں 170 مال مویشی ہلاک ہوئے ہیں جن میں سے زیادہ تر تعداد بھیڑ بکریوں کی ہے۔

پی ڈی ایم اے کے مطابق متاثرہ اضلاع میں 14 سڑکوں کو نقصان پہنچنے کے علاوہ دو ڈیمز اور تین واٹر سپلائی سکیمز کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

ان علاقوں میں گھروں، فصلوں اور دیگر املاک کو نقصان پہاڑی علاقوں سے آنے والے سیلابی ریلوں سے پہنچا ہے۔

YouTube پوسٹ نظرانداز کریں, 2

ویڈیو کیپشن,تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں
YouTube پوسٹ کا اختتام, 2
صوبہ سندھ میں 72 ہلاکتیں
کراچی،تصویر کا ذریعہEPA
،تصویر کا کیپشن
کراچی میں سیلاب کے متاثرین کے لیے آرمی کی جانب سے بھی کیمپ لگائے گئے ہیں

اندرون سندھ جہاں متعدد علاقوں میں بارشوں اور سیلاب سے نقصانات ہوئے وہاں اس سال کراچی اور حیدرآباد کے شہری علاقوں میں بھی بڑے پیمانے پر نقصانات ہوئے ہیں۔ کراچی شہر کے مختلف علاقوں میں گھر پانی میں ڈوب گئے جبکہ لوگوں کی گاڑیوں اور دیگر املاک کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

کراچی سمیت صوبہ سندھ میں جولائی سے اب تک بارشوں اور سیلاب سے 72 افراد ہلاک اور 18 زخمی ہوئے ہیں۔ سب سے زیادہ ہلاکتیں کراچی میں ہوئی ہیں جن کی تعداد 59 بتائی گئی ہے۔ یہ اموات اگست کے آخری ہفتے سے اب تک کی ہیں۔

صوبہ سندھ میں ٹنڈو اللہ یار میں املاک کو زیادہ نقصان ہوا ہے جہاں صوبائی اداروں کے مطابق 600 سے زیادہ مکانات تباہ ہوئے ہیں جبکہ 25 ہزار ایکڑ سے زیادہ زرعی زمین پر کھڑی فصلوں کو نقصان پہنچا ہے۔

YouTube پوسٹ نظرانداز کریں, 3

ویڈیو کیپشن,تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں
YouTube پوسٹ کا اختتام, 3
صوبہ پنجاب میں نقصان
اگرچہ ملک کے اس بڑے صوبے کے دریاؤں میں جمعے کو سیلاب کی صورتحال بتائی گئی ہے جہاں جھنگ، لیہ اور خوشاب میں متعدد دیہات متاثر ہوئے ہیں جبکہ شہری علاقے جیسے لاہور، گوجرانوالہ اور سیلاکوٹ میں شدید بارش سے پانی نشیبی علاقوں میں جمع ہو گیا ہے۔

صوبہ پنجاب میں گزشتہ ماہ ڈیرہ غازی خان کے علاقوں میں رودھ یعنی پہاڑی نالوں میں آنے والے سیلاب سے نقصان پہنچا تھا جبکہ اب دریائے سندھ کے قریب آباد شہر اور دیہات متاثر ہو رہے ہیں۔

پنجاب میں پی ڈی ایم اے کے مطابق 21 جولائی سے اب تک صوبے میں 82 افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ 27 اگست سے اب تک 40 افراد بارشوں میں ہلاک ہوئے ہیں۔

پاکستان میں ہر سال بارشیں اور سیلاب آتے ہیں اور ان سے تباہی بھی ہوتی ہے لیکن ان سے ہونے والے نقصانات سے بچنے کے لیے کوئی منصوبہ بندی نہیں کی جاتی صرف مقامی انتظامیہ کو الرٹ رہنے کی تاکید ہی کر دی جاتی ہے۔

خیبر پختونخوا کے بالائی علاقوں میں دس سال پہلے آنے والے سیلاب سے جو سڑکیں اور پل تباہ ہوئے تھے ان کی دوبارہ تعمیر پر ایک عرصہ لگ گیا تھا اور جیسے ہی ان کی مرمت مکمل ہوئی تو سیلاب سے ھطر دوبارہ وہاں تباہی ہوئی ہے۔ اس کی مثال سوات کالام روڈ ہے جو بحرین اور مدین تک بہتر تھی لیکن اس سے آگے کالام تک روڈ کی حالت صحیح نہیں تھی۔ اس روڈ کو کسی حد تک بہتر کر دیا گیا تھا لیکن اب پھر سیلاب سے وہاں نقصانات ہوئے ہیں۔