حضرت محمدﷺ سے متعلق گستاخانہ خاکوں کی مذمت نہیں کروں گا: فرانسیسی صدر

پیرس : فرانسیسی صدر نے کہا ہے کہ وہ حضرت محمدﷺ سے متعلق گستاخانہ خاکوں کی مذمت نہیں کریں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہمیں آزادی اظہار رائے کا حق ہے، جمہوریہ کے کسی صدر کو یہ مقام حاصل نہیں ہوتا کہ وہ صحافی یا نیوز روم کے ادارتی انتخاب کے بارے میں فیصلہ دے۔ تفصیلات کے مطابق فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون کے پغمبر اسلام ﷺ سے متعلق گستاخانہ خاکوں کے حوالے سے تازہ بیان نے کروڑوں مسلمانوں کی جذبات کو نہ صرف مجروح کیا ہے بلکہ ان کے غم و غصے میں بھی اضافہ کیا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق فرانس کے صدر کا کہنا ہے کہ وہ حضرت محمد ﷺ سے متعلق گستاخانہ خاکوں کی مذمت نہیں کریں گے، کیونکہ ان کے ملک میں آزادی اظہار رائے کا سب کو حق ہے۔

ضرور پڑھیں   کیو ں نہ 70لوگوں کے مرنے کا حساب آپ سے لیا جائے؟ چیف جسٹس، شیخ رشیدپر برس پڑے

اپنے ایک بیان میں ایمانوئیل میکرون کا کہنا تھا کہ جمہوریہ کے کسی صدر کو اخبار کے ادارتی انتخاب سے متعلق اپنا فیصلہ دینے کا حق حاصل نہیں ہے۔ خبر ایجنسی کے مطابق اس سے قبل لبنان کے دورے کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے میکرون کا کہا تھا کہ فرانسیسی شہریوں پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ ایک دوسرے کے لیے تہذیب اور احترام کا مظاہرہ کریں اور “نفرت انگیز گفتگو” سے اجتناب کریں۔

واضح رہے کہ فرانسیسی میگزین چارلی ہیبدو نے ایک مرتبہ پھر حضرت محمدﷺ سے متعلق گستاخانہ خاکے شائع کرنے کا شرمناک اعلان کر دیا ہے۔ میگزین کے دفتر پر ہوئے حملے میں ملوث ملزمان کے ٹرائل کے آغاز سے قبل دوبارہ گستاخانہ خاکے شائع کر کے کروڑوں مسلمانوں کے جذبات مجروح کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ پاکستان سمیت دنیا بھر کے مسلم ممالک کی جانب سے اس اقدام کی شدید مذمت کی گئی۔

ضرور پڑھیں   برطانیہ میں کتنی جائیدادوں کے اصل مالک جسٹس قاضی فائز عیسیٰ ہیں؟ سپریم کورٹ میں اہم انکشاف سامنے آگیا

اس متعلق مزید بتایا گیا ہے کہ 2015ء میں گستاخانہ خاکے شائع کرنے کے اقدام کے بعد میگزین کے دفتر پر ہوئے حملے میں ملوث ملزمان کا ٹرائل شروع کرنے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں، ایسے میں فرانسیسی میگزین چارلی ہیبدو نے اعلان کیا ہے کہ حضرت محمدﷺ سے متعلق گستاخانہ خاکے دوبارہ سے شائع کیے جائیں گے۔ اس اعلان کے بعد دنیا بھر کے مسلمانوں میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔

جبکہ چارلی ہیبدو میگزین کے اس اعلان پر پاکستان کی جانب سے بھی شدید ردعمل دیا گیا ہے۔