عاصم سیلم باجوہ کو رسیدیں پیش کرنی چاہئیے،مریم نواز

لاہور : پاکستان مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز کا میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا ہے کہ جج ارشد ملک کا اعتراف انصاف کے منہ پر دھبہ تھا۔ان کے اعتراف کے بعد نواز شریف سے متعلق فیصلہ بھی ختم کر دیں۔نواز شریف کا جیسے ہی علاج مکمل ہو گا اگلے دن واپس آ جائیں گے۔ہمارے اوپر الزامات سے تو چوہا بھی نہیں نکلا۔

انہوں نے مزید کہا کہ سی پیک کے موجد اور بانی نواز شریف ہیں۔مریم نواز نے کہا کہ اگر احمد نورانی کچھ نکال کر لائے ہیں تو انہیں دھمکیاں نہیں ملنی چاہئیے بلکہ الزامات کا جواب ملنا چاہئیے۔رسیدیں پیش کرنی چاہئیے اور جواب دینا چاہئیے۔ نواز شریف کو ایک اقامے پر نکال دیتے ہیں،سی پیک کو کچھ نہیں ہوتا۔ ایک فرد کے آنے جانے سے یا احتساب کا سامنا کرنے سے سی پیک کو کچھ نہیں ہو گا۔

عمران خان کو چاہئیے کہ احتساب کا بیانیہ بے نقاب ہو چکا اس کا کفن دفن کا انتظام کر لیں۔عمران خان احتساب کے بیانیے کو اب خیر آباد کہہ دیں۔ قبل ازیں مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز شریف اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیشی کیلئے قافلے کی صورت میں عدالت پہنچیں جہاں مسلم لیگ ن کے کارکنوں نے ان کا بارہ کہو پہنچنے پر استقبال کیا ، کیپٹن صفدر نے اپنی اہلیہ مریم نواز کی گاڑی چلائی جبکہ گاڑی میں ان کے ساتھ رہنما ن لیگ پرویز رشید بھی موجود تھے۔

واضح رہے کہ ایون فیلڈ ریفرنس میں مسلم لیگ(ن) کی مرکزی نائب صدر مریم نوازشریف نے کیس میں سزا کے خلاف سابق وزیر اعظم نوازشریف، ان کی صاحبزادی مریم نواز اور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر نے اپیل دائر کررکھی ہے ۔ یاد رہے کہ ایون فیلڈ ریفرنس میں شریف خاندان پر الزام ہے کہ انہوں نےغیر قانونی ذرائع کی مدد سےحاصل کی گئی رقم سے لندن کے مہنگے ترین علاقے مے فیئر اور پارک لین کے نزدیک واقع چار رہائشی اپارٹمنٹس خریدے ۔

ایون فیلڈ ریفرنس میں احتساب عدالت نے نواز شریف، ان کی بیٹی مریم اور ان کے داماد کیپٹین ریٹائرڈ صفدر کو جیل، قید اور جرمانہ کی سزا سنائی تھی ، سزا کے خلاف ملزمان نے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا جس نے ستمبر 2018 میں ان سزاؤں کو کالعدم قرار دے دیا جس کے بعد نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن صفدر جیل سے رہا ہو گئے تھے اس کے بعد ایون فیلڈ ریفرینس میں سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف، ان کی صاحبزادی مریم نواز اور داماد کیپٹین ریٹائرڈ محمد صفدر کو دی گئی سزا معطل کرنے کے فیصلے کے خلاف نیب نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی اور سپریم کورٹ نے دلائل سننے کے بعد اپیل خارج کردی تھی۔