اسلام آباد ہائیکورٹ نے نواز شریف کو سرینڈر کرنے کا حکم دے دیا

اسلام آباد : اسلام آباد ہائیکورٹ نے نواز شریف کو سرینڈر کرنے کا حکم دیتے ہوئے عدالت کے سامنے پیش ہونے کا حکم دے دیا ۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا ہے کہ نواز شریف کو ضمانت کے فیصلے پر پہلے عملدرآمد کر کے سرینڈر کرنا ہو گا ۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ میں سابق وزیر اعظم نوازشریف کی طرف سے سزا معطل کیلئے دائر اپیل کی سماعت کے دوران ریمارکس دیتے ہوئے جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ پہلے تو یہ طے ہونا ہے کہ کیا نواز شریف جان بوجھ کر مفرور ہیں؟ نواز شریف کو پہلے کورٹ میں پیش ہونا ہے اس کے بعد اپیلوں پر سماعت آگے بڑھے گی کیونکہ یہ ایک جرم ہے کہ آپ عدالتی سماعت میں پیش نہیں ہوتے اور اس جرم کی سزا 3 سال ہے اس سلسلے میں عدالت ایک نیا کیس شروع کر سکتی ہے اور 3 سال تک سزا سنا سکتی ہے ۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ اگر سابق وزیراعظم ہسپتال میں زیرعلاج ہوں تو پھر صورتحال بالکل مختلف ہے ۔
یاد رہے کہ سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ ن کے قائد نوازشریف نے العزیزیہ اور ایون فیلڈ ریفرنس میں حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائر کی تھی جس میں مؤقف اپنایا گیا کہ بیماری کی وجہ سے بیرون ملک زیر علاج ہوں ، بیرون ملک ہونے کی وجہ سے عدالت میں پیش ہونا ممکن نہیں ۔

واضح رہے کہ ایون فیلڈ ریفرنس میں شریف خاندان پر الزام ہے کہ انہوں نےغیر قانونی ذرائع کی مدد سےحاصل کی گئی رقم سے لندن کے مہنگے ترین علاقے مے فیئر اور پارک لین کے نزدیک واقع چار رہائشی اپارٹمنٹس خریدے ۔ ایون فیلڈ ریفرنس میں احتساب عدالت نے نواز شریف، ان کی بیٹی مریم اور ان کے داماد کیپٹین ریٹائرڈ صفدر کو جیل، قید اور جرمانہ کی سزا سنائی تھی ، سزا کے خلاف ملزمان نے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا جس نے ستمبر 2018 میں ان سزاؤں کو کالعدم قرار دے دیا جس کے بعد نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن صفدر جیل سے رہا ہو گئے تھے ۔

اس کے بعد ایون فیلڈ ریفرینس میں سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف، ان کی صاحبزادی مریم نواز اور داماد کیپٹین ریٹائرڈ محمد صفدر کو دی گئی سزا معطل کرنے کے فیصلے کے خلاف نیب نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی اور سپریم کورٹ نے دلائل سننے کے بعد اپیل خارج کردی تھی ۔ یاد رہے کہ احتساب عدالت نے العزیزیہ ریفرنس میں نوازشریف کو سات سال قید، دس سال کے لیے کسی بھی عوامی عہدے پر فائز ہونے پر پابندی، ان کے نام تمام جائیداد ضبط کرنے اور تقریباً پونے چار ارب روپے کا جرمانہ عائد کیا تھا ۔

جس کے بعد نوازشریف نے اپنی سزا معطلی کیلئے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کردی تھی اور یہ استدعا کی کہ اپیل پر فیصلہ ہونے تک طبی بنیادوں پر ضمانت پر رہا کیا جائے ، اسلام آباد ہائی کورٹ نے العزیزیہ ریفرنس میں وزیر اعظم نوازشریف کی طبی بنیادوں پر ضمانت کی درخواست پر فیصلہ جاری کرتے ہوئے ان کی سزا 8 ہفتوں کے لیے معطل کی اور حکم دیا کہ 8 ہفتوں کے بعد بھی اگر نواز شریف کی طبعیت میں بہتری نہیں آتی تو ان کی سزا کی معطلی میں توسیع کے لیے حکومت پنجاب سے رابطہ کیا جا سکتا ہے ۔