ناروے میں خاتون کی جانب سے قرآن پاک کی بے حرمتی

اوسلو : ناروے کے دارالحکومت اوسلو میں ایک مقامی تنظیم کے سربراہ نے اسلام مخالف ریلی کے دوران قرآن کریم کے اوراق شریف پھاڑ دئیے۔جس کے بعد اسلام مخالف ریلی پر تشدد جھڑپ میں تبدیل ہو گئی ہیں۔بتایا گیا ہے کہ اوسلو کی جانب سے ’سٹاپ اسلامائز یشن آف ناروے ‘ نامی تنظیم کی جانب سے مظاہروں کا آغاز کیا گیا تھا۔

ابتدائی طور پر مظاہرے پر امن اور قانون کے دائروں میں رہتے ہوئے کیے گئے۔تاہم صورتحال اس وقت بگڑ گئی جب ایس آئی اے این کے رہنما نے حضرت محمد ﷺ سے متعلق نازیبا اور قابل اعتراض گفتگو کرنا شروع کی۔مسلم مظاہرین اس کے خلاف آواز بلند کرتے ہوئے سڑک پر نکل آئے۔جس کے بعد دونوں گروہوں کے درمیان جھڑپیں شروع ہو گئیں۔اسی جھڑپ کے دوران ایک خاتون نے قرآن شریف کے مقدس اوراق پھاڑ دئیے جس کی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہو چکی ہے۔

خاتون کی اس حرکت کے بعد مسلم مظاہرین مزید مشتعل ہو گئے۔پر تشدد منظاہروں میں درجنوں افراد کو گرفتار بھی کیا گیا۔جب کہ صورتحال قابو سے باہر ہونے پر پولیس کی بھاری نفری طلب کر لی گئی۔پاکستان نے سویڈن کے شہر مالمو اور ناروے کے دارالحکومت اوسلو میں قرآن پاک کی بے حرمتی کے حالیہ واقعات کی شدید مذمت کی ہے۔ اتوار کے روز سماجی رابطہ کی ویب سائیٹ ٹویٹر پر دفترخارجہ کے ترجمان زاہد حفیظ چودھری نے اپنے ایک ٹویٹ میں کہا کہ اسلام کو بد نام کرنے کے لیے اس طرح کے واقعات میں اضافہ کسی بھی مذہب کی روح کے منافی ہے۔

انہوں نے کہا کہ آزادی اظہار کے نام پر مذہبی منافرت کا کوئی جواز نہیں ہے۔ترجمان نے کہا کہ دوسروں کے مذہبی عقائد کا احترام یقینی بنانا ایک مشترکہ ذمہ داری ہے اور عالمی امن و خوشحالی کے لئے انتہائی اہم ہے۔دوسری جانب یورپی ملک سویڈن میں انتہائی دائیں بازو کی جماعت کی جانب سے قرآن پاک کے صفحات کو نذر آتش کرنے پر 3 ارکان کو حراست میں لے لیا گیا ہے ، ملک بھر میں احتجاج شدت اختیار کرگیا ۔